Musnad Ahmad #16379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْكِلَابِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ:" لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ، فَيَمْسَحُ عَلَى رُءُوسِهِمْ وَيَدْعُو لَهُمْ، فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَإِنِّي مُطَيَّبٌ بِالْخَلُوقِ، وَلَمْ يَمْسَحْ عَلَى رَأْسِي، وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ أُمِّي خَلَّقَتْنِي بِالْخَلُوقِ، فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ولید بن عقبہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکر مہ کو فتح کر لیا تو اہل مکہ کے اپنے بچوں کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لئے دعا کرتے مجھے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا میں نے اس وقت خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہ تھی کہ میری والدہ نے مجھے خلوق لگادی تھی۔