Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 8 · Chapter 289

مدینہ والوں کی روایات

سہل بن ابی حاتمہ رضی اللہ عنہ کی بقیہ حدیث

8 hadiths in this chapter

16090

Musnad Ahmad #16090

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ، فَلْيَدْنُ مِنْهَا مَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سترے کے سامنے کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو اس کے قریب کھڑا ہوتا کہ شیطان اس کی نماز خراب نہ کر دے۔

16091

Musnad Ahmad #16091

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعَ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، قَالَ سُفْيَانُ، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ حَثْمَةَ يُخْبِرُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَوُجِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَجَاءَ عَمَّاهُ وَأَخُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" الْكِبَرَ الْكِبَرَ" فَتَكَلَّمَ أَحَدُ عَمَّيْهِ، إِمَّا حُوَيِّصَةُ وَإِمَّا مُحَيِّصَةُ، قَالَ سُفْيَانُ: نَسِيتُ أَيُّهُمَا الْكَبِيرُ مِنْهُمَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ، ثُمَّ ذَكَرَ يَهُودَ وَشَرَّهُمْ وَعَدَاوَتَهُمْ، قَالَ:" لِيُقْسِمْ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ"، قَالُوا: كَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَ؟، قَالَ" فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَحْلِفُونَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ"، قَالُوا: كَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَرَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهُ. قِيلَ لِسُفْيَانَ فِي الْحَدِيثِ:" وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ"؟ قَالَ: هُوَ ذَا.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن سہل انصاری خیبر کے وسط میں متقول پائے گئے ان کے دو چچازاد بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے بھائی کا نام عبدالرحمن بن سہل اور چچاؤں کے نام حویصہ اور محیصہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عبدالرحمن بولنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کو بولنے دو چنانچہ ان کے چچاؤں میں سے کسی ایک نے گفتگو شروع کی یہ میں بھول گیا کہ ان میں سے بڑا کون تھا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم نے قلب خبیر میں عبداللہ کی لاش پائی ہے پھر انہوں نے یہو دیوں کے شر اور عداوتوں کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر کہہ دیں کہ اس کو یہو دیوں نے قتل کیا ہے وہ کہنے لگے ہم نے جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں ہے اس پر قسم کیسے کھا سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر پچاس یہو دی اس بات کی قسم کھا کر برائت ظاہر کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم ان کی قسم پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں وہ تو مشرک ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی دیت کے ان اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹ نے مجھے ٹانگ مار دی تھی۔

16092

Musnad Ahmad #16092

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا". قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمَا عِلْمُ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْعَرَايَا؟، قُلْتُ: أَخْبَرَهُمْ عَطَاءٌ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکے ہوئے پھل کی درخت پر لگے ہوئے پھل کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے اور عرایا میں اندازے سے خریدنے کی اجازت دی ہے تاکہ اس کے اہل خانہ بھی تر کھجور کھا سکیں۔

16093

Musnad Ahmad #16093

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: أَتَانَا وَنَحْنُ فِي مَسْجِدِنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا: دَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا أَوْ تَجُدُّوا شُعْبَةُ الشَّاكُّ الثُّلُثَ فَالرُّبُعَ".

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ہماری مسجد میں تشریف لائے اور یہ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم پھل کاٹا کر و تو کچھ کاٹ لیا کر و اور کچھ چھوڑ دیا کر و تقریبا ایک تہائی چھوڑ دیا کر و اگر ایسا نہ کر و تو ایک چوتھائی چھوڑ دیا کر و۔

16094

Musnad Ahmad #16094

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ قَالَ: أَتَانَا سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ فِي مَسْجِدِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا: دَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَجُدُّوا أَوْ تَدَعُوا فَالرُّبُعَ".

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ہماری مسجد میں تشریف لائے اور یہ حدیث بیان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم پھل کاٹا کر و تو کچھ کاٹ لیا کر و اور کچھ چھوڑ دیا کر و تقریبا ایک تہائی چھوڑ دیا کر و اگر ایسا نہ کر سکو تو ایک چوتھائی چھوڑ دیا کر و۔

16095

Musnad Ahmad #16095

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَالْحَجَّاجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ ابْنَةُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَكَرِهَتْهُ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ، فَلَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ خُلْعٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ حبیبہ بنت سہل کا نکاح ثابت بن قیس بن شماس سے ہوا تھا لیکن وہ انہیں پسند نہیں کر تی تھیں کیونکہ وہ شکل کے اعتبار سے بہت کمزور تھے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! اسے میں اتنا ناپسند کر تی ہوں بعض اوقات میرے دل میں خیال آیا ہے کہ خوف اللہ نہ ہوتا تو میں اس کے چہرے پر تھوک دیتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے وہ باغ واپس کر سکتی ہو جو اس نے تمہیں بطور مہر کے دیا تھا اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو بلایا اس نے باغ واپس کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اسلام میں خلع کا یہ سب سے پہلا واقعہ تھا۔

16096

Musnad Ahmad #16096

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ يَعْنِي فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ إِلَى خَيْبَرَ يَمْتَارُونَ مِنْهَا تَمْرًا، قَالَ: فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَكُسِرَتْ عُنُقُهُ، ثُمَّ طُرِحَ فِي مَنْهَرٍ مِنْ مَنَاهِرِ عُيُونِ خَيْبَرَ، وَفَقَدَهُ أَصْحَابُهُ، فَالْتَمَسُوهُ حَتَّى وَجَدُوهُ، فَغَيَّبُوهُ، قَالَ: ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ، وَهُمَا كَانَا أَسَنَّ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِذًا أَقْدَمَ الْقَوْمِ، وَصَاحِبَ الدَّمِ، فَتَقَدَّمَ لِذَلِكَ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ابْنَيْ عَمِّهِ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكِبَرَ الْكِبَرَ"، فَاسْتَأْخَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عُدِيَ عَلَى صَاحِبِنَا، فَقُتِلَ، وَلَيْسَ بِخَيْبَرَ عَدُوٌّ إِلَّا يَهُودَ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ، ثُمَّ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا ثُمَّ تُسْلِمُهُ؟" قَالَ: فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ عَلَى مَا لَمْ نَشْهَدْ. قَالَ:" فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا، وَيَبْرَءُونَ مِنْ دَمِ صَاحِبِكُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ أَيْمَانَ يَهُودَ، مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْكُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ. قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ. قَالَ: يَقُولُ سَهْلٌ فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى بَكْرَةً مِنْهَا حَمْرَاءَ رَكَضَتْنِي وَأَنَا أَحُوزُهَا.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن سہل انصاری بنو حارثہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ خیبر کھجور خریدنے گئے کسی نے ان پر حملہ کر کے ان کی گردن الگ کر دی اور خیبر کے کسی چشمے کی نالی میں ان کی لاش پھینک دی ان کے ساتھیوں نے جب انہیں تلاش کیا تو انہیں عبداللہ کی لاش ملی انہوں نے دفن کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے دو چچازاد بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے بھائی کا نام عبدالرحمن بن سہل اور چچاؤں کے نام حویصہ اور محیصہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عبدالرحمن بولنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کو بولنے دو چنانچہ ان کے چچاؤں میں سے کسی ایک نے گفتگو شروع کی یہ میں بھول گیا کہ ان میں سے بڑا کون تھا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم نے قلب خیبر میں عبداللہ کی لاش پائی ہے پھر انہوں نے یہو دیوں کے شر اور عداوتوں کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر کہہ دیں کہ اس کو یہو دیوں نے قتل کیا ہے وہ کہنے لگے ہم نے جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں ہے اس پر قسم کیسے کھا سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر پچاس یہو دی اس بات کی قسم کھا کر برائت ظاہر کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم ان کی قسم پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں وہ تو مشرک ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی دیت کے ان اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹ نے مجھے ٹانگ مار دی تھی۔

16097

Musnad Ahmad #16097

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ أَخبرهُ ورجال من كُبَراء قومه أنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:" أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟". قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتَحْلِفُ يَهُودُ؟"، قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ. فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ محیصہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر کہہ دیں کہ اسے یہو دیوں نے قتل کیا ہے وہ کہنے لگے کہ ہم نے جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے اس پر قسم کیسے کھا سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر پچاس یہو دی قسم کھا کر اس بات سے برأت ظاہر کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا ہے وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم ان کی قسم پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں کہ وہ تو مشرک ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔