Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 7 · Chapter 81

مکہ والوں کی روایات

عبدالرحمٰن بن خنبش کی روایات

2 hadiths in this chapter

15460

Musnad Ahmad #15460

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ أَبُو سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَنْبَشٍ التَّمِيمِيِّ ، وَكَانَ كَبِيرًا، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ؟ فَقَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَحَدَّرَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ بِيَدِهِ شُعْلَةُ نَارٍ يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَبَطَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قُلْ , قَال:" َمَا أَقُولُ؟" , قَالَ: قُلْ:" أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَذَرَأَ وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، يَا رَحْمَنُ" , قَالَ: فَطَفِئَتْ نَارُهُمْ، وَهَزَمَهُمْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى.

اردو ترجمہ · Urdu

ابوتیاح کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبدالرحمن بن خنبش سے جو کہ انتہائی عمررسیدہ تھے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے پوچھا کہ لیلہ الجن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا انہوں نے فرمایا کہ اس رات مختلف وادیوں اور گھاٹیوں سے جنات اتراتر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک شیطان کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا جس سے اس کا ارادہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو جلادے اتنی دیر میں سیدنا جبرائیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے اتر کر آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد کہیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کہوں انہوں نے کہا آپ کہے کہ میں اللہ کی مکمل تام صفاف کے ذریعے ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ مانگتاہوں جنہیں اللہ نے پیدا کیا ہے انہیں وجود عطا کیا اور موجود کیا ان تمام چیزوں کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو آسمان کی طرف چڑھتی ہیں رات ودن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو ہر آنے والے کے شر سے سوائے اس کے جو خیر کے ساتھ آئے نہایت رحم کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کلمات کے پڑھتے ہی ان کی آگ بجھ گئی اور اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔

15461

Musnad Ahmad #15461

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَنْبَشٍ ، كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ؟ قَالَ: جَاءَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْدِيَةِ، وَتَحَدَّرَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْجِبَالِ، وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ مَعَهُ شُعْلَةٌ مِنْ نَارٍ، يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرُعِبَ، قَالَ جَعْفَرٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: جَعَلَ يَتَأَخَّرُ، قَالَ وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , قُلْ , قَال:" مَا أَقُولُ" , قَالَ: قُلْ:" أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، يَا رَحْمَنُ" فَطَفِئَتْ نَارُ الشَّيَاطِينِ، وَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابوتیاح کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبدالرحمن بن خنبش سے جو کہ انتہائی عمررسیدہ تھے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے پوچھا کہ لیلہ الجن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا انہوں نے فرمایا کہ اس رات مختلف وادیوں اور گھاٹیوں سے جنات اتراتر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک شیطان کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا جس سے اس کا ارادہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو جلادے اتنی دیر میں سیدنا جبرائیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے اتر کر آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد کہیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کہوں انہوں نے کہا آپ کہے کہ میں اللہ کی مکمل تام صفاف کے ذریعے ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ مانگتاہوں جنہیں اللہ نے پیدا کیا ہے انہیں وجود عطا کیا اور موجود کیا ان تمام چیزوں کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو آسمان کی طرف چڑھتی ہیں رات ودن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو ہر آنے والے کے شر سے سوائے اس کے جو خیر کے ساتھ آئے نہایت رحم کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کلمات کے پڑھتے ہی ان کی آگ بجھ گئی اور اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔