Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 7 · Chapter 74

مکہ والوں کی روایات

ابو عمرہ الانصاری رضی اللہ عنہ کی روایات

1 hadith in this chapter

15449

Musnad Ahmad #15449

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّه يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ، فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ، وَقَالُوا: يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا رِجالًا، وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ، فَتَجْمَعَهَا، ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ أَوْ قَالَ سَيُبَارِكُ لَنَا فِي دَعْوَتِكَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا، فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا ملئوه، وَبَقِيَ مِثْلُهُ , فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، فَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا، إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو عمرہ انصاری سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھے اور اس دوران لوگوں کو شدت کی بھوک نے ستایا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی سواری کا جانور ذبح کرنے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے ذریعے منزل مقصود تک پہنچادیں گے سیدنا عمر نے محسوس کیا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کسی سواری کو ذبح کرنے کی اجازت دیدیں گے تو وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کل کو دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہو گا اور ہم بھوکے ہو نے کے ساتھ ساتھ پیدل بھی ہوں گے تو کیا بنے گا یا رسول اللہ! اگر آپ مناسب خیال کر یں تو ان سے کہیں کہ یہ بچا کچھا زاد راہ لے آئیں آپ اسے اکٹھا کر کے اس میں برکت کی دعا فرمائیں اللہ آپ کی دعا کی برکت سے اسے ہمارے لئے کافی فرمادیں گے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اور لوگوں سے بچاکچھا زاد راہ منگوا لیا۔ لوگ ایک ایک مٹھی گندم یا اس سے زیادہ کچھ لانے لگے ان میں سب سے برتر وہ شخص تھا جو ایک صاع لے کر آیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام چیزوں کو اکٹھا کیا اور اللہ سے دعا کی جب تک اللہ کو منظور ہوا پھر سارے لشکر کو ان کے برتنوں سمیت بلایا اور انہیں حکم دیا کہ مٹھیاں بھر بھر کر اٹھائیں چنانچہ پورے لشکر میں ایک برتن بھی ایسا نہ بچا جسے لوگوں نے بھر نہ لیاہو لیکن وہ پھر بھی اتنے کا اتناہی رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جو بندہ مومن ان دو گواہیوں کے ساتھ قیامت کے دن اللہ سے ملے گا اسے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھا جائے گا۔