Musnad Ahmad #16076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوْ امْرَأَةٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ:" أَلَكَ حَاجَةٌ؟" , قَالَ: حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَاجَتِي , قَالَ:" وَمَا حَاجَتُكَ؟" , قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ , قَالَ:" وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا؟" , قَالَ: رَبِّي , قَالَ:" إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ".
اردو ترجمہ · Urdu
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم صحابی جن کے مذکر یا مونث ہو نے کی تعین میں راوی کو شک ہے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خادم سے پوچھتے رہتے تھے کہ تمہیں کوئی ضرورت اور کام تو نہیں ہے ایک دن اسی طرح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا ایک کام ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کام ہے میں نے عرض کیا: کہ قیامت کے دن آپ میری سفارش کر دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خیال تمہیں کہاں سے آیا اس نے عرض کیا: اللہ نے دل میں ڈال دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کثرت سے سجود کے ذریعے میری مدد کر و۔