Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 7 · Chapter 268

مکہ والوں کی روایات

حضرت عبس کی حدیث۔

1 hadith in this chapter

16040

Musnad Ahmad #16040

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ عُلَيْمٌ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَزِيدُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَبْسًا الْغِفَارِيَّ، وَالنَّاسُ يَخْرُجٌون فِي الطَّاعُونِ، فَقَالَ عَبَسٌ : يَا طَاعُونُ خُذْنِي، ثَلَاثًا يَقُولُهَا , فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ، لَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبَ" , فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا: إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ، وَكَثْرَةَ الشَّرْطِ، وَبَيْعَ الْحُكْمِ، وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ، وَنَشْوًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا".

اردو ترجمہ · Urdu

علیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم کسی چھت پر بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سیدنا عبس بھی تھے لوگ اس علاقے سے طاعون کی وجہ سے نکل رہے تھے سیدنا عبس کہنے لگے اے طاعون تو مجھے اپنی گرفت میں لے لے یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ کہا علیم نے ان سے کہا کہ آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کر ے کیونکہ موت سے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں ہو سکتا ہے کہ زندگی ملنے پر اسے توبہ کی توفیق مل جائے تو وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چھ چیزوں سے موت کی طرف سبقت کر و بیوقوفوں کی حکومت، پولیس والوں کی کثرت، انصاف کا بک جانا، قتل کو معمولی سمجھتا، قطع رحمی کرنا اور ایسی نئی نسل ظہو ر جو قرآن کر یم کو موسیقی کی طرح گا کر پڑھنے لگے گو کہ اس میں سمجھ دوسروں سے بھی زیادہ کم ہو۔