Musnad Ahmad #16002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَعْرِّف يَعْنِي ابْنَ وَاصِلٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ابْنَةُ طَلْقٍ ، امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ سَنَةَ تِسْعِينَ، عَنْ أَبِي عُمَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَجَاءَ رَجُلٌ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ تَمْرٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا، أَصَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ؟" , قَالَ: صَدَقَةٌ , قَالَ:" فَقَدِّمْهُ إِلَى الْقَوْمِ" , وَحَسَنٌ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ يَتَعَفَّرُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ الصَّبِيُّ تَمْرَةً، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِي الصَّبِيِّ، فَنَزَعَ التَّمْرَةَ، فَقَذَفَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ". فَقُلْتُ لِمَعْرِّف: أَبُو عُمَيْرٍ جَدُّكَ؟ قَالَ: جَدُّ أَبِي.
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوعمیر سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کھجوروں کا ایک تھال لے کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ صدقہ ہے اس نے کہا صدقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوگوں کے آگے کر دیا اس وقت سیدنا امام حسن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے وہ بچے تھے انہوں نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکالی اور ایک طرف رکھ دی اور فرمایا: ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔