Musnad Ahmad #15905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو شُجَاعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ فِي يَوْمِ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِي خَازِنًا لِهَذَا الْمَالِ، وَقَاسِمَهُ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: بَلْ اللَّهُ يَقْسِمُهُ، وَأَنَا بَادِئٌ بِأَهْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ , فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ آلَافٍ إِلَّا جُوَيْرِيَةَ وَصَفِيَّةَ ومَيْمُونَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَعْدِلُ بَيْنَنَا"، فَعَدَلَ بَيْنَهُنَّ عُمَرُ , ثُمَّ قَالَ: إِنِّي بَادِئٌ بِأَصْحَابِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ، فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ آلَافٍ، وَلِمَنْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَلِمَنْ شَهِدَ أُحُدًا ثَلَاثَةَ آلَافٍ، قَالَ: وَمَنْ أَسْرَعَ فِي الْهِجْرَةِ أَسْرَعَ بِهِ الْعَطَاءُ، وَمَنْ أَبْطَأَ فِي الْهِجْرَةِ أَبْطَأَ بِهِ الْعَطَاءُ، فَلَا يَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مُنَاخَ رَاحِلَتِهِ , وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ، فَأَعْطَاه ذَا الْبَأْسِ، وَذَا الشَّرَفِ، وَذَا اللَّسَانَةِ، فَنَزَعْتُهُ، وَأَمَّرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ , فَقَالَ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ : وَاللَّهِ مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ، لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ، وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ , فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ، حَدِيثُ السِّنِّ، مُغْضَبٌ مِنَ ابْنِ عَمِّكَ.
اردو ترجمہ · Urdu
ناشرہ کہتے ہیں کہ میں نے جابیہ میں سیدنا عمر کے دوران خطبہ لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے مجھے مال کا صرف خزانچی اور تقسیم کنندہ بنایا ہے پھر فرمایا کہ بلکہ اللہ ہی اسے تقسیم کرنے والا ہے البتہ میں اس کا آغاز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ سے کر وں گا پھر درجہ بدرجہ معززین کو دوں گا چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے سیدنا جو یریریہ صفیہ اور سیدنا میمونہ کے سواسب کے لئے دس دس ہزار درہم مقرر کئے، سیدنا عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے درمیان انصاف سے کام لیتے تھے چنانچہ سیدنا عمر نے ان کا حصہ بھی برابر کر دیا۔ پھر فرمایا: میں صحابہ میں اپنے مہاجرین اولین ساتھیوں سے آغاز کر وں گا کیونکہ ہم لوگوں کو اپنے وطن سے ظلما نکالا گیا تھا پھر ان میں سے جو زیادہ معزز ہوں گے چنانچہ انہوں نے ان میں سے اصحاب بدر کے لئے پانچ پانچ ہزار درہم مقرر کئے اور غزوہ بدر میں شریک ہو نے والے انصاری صحابہ کے لئے چار چار ہزار درہم مقرر کئے اور شرکاء احد کے لئے تین تین ہزار مقرر کئے اور فرمایا: جس نے ہجرت میں جلدی کی میں اسے عطا کرنے میں جلدی کر وں گا اور جس نے ہجرت میں سستی کی میں اسے عطا کرنے میں سستی کر وں گا اس لئے اگر کوئی شخص ملامت کرتا ہے تو صرف اپنی سواری کو ملامت کر ے اور میں تمہارے سامنے خالد بن ولید کے حوالے سے معذرت کرتا ہوں دراصل میں نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ یہ مال صرف کمزور مہاجرین پر خرچ کر یں لیکن انہوں نے جنگجوؤں، معزز اور صاحب زبان لوگوں کو یہ مال دینا شروع کر دیا اس لئے میں نے ان سے یہ عہدہ واپس لے کر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح کو دے دیا۔ اس پر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کہنے لگے کہ اے عمر واللہ میں تمہارا یہ عذر قبول نہیں کرتا آپ نے ایک ایسے گورنر کو معزول کیا ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا تھا آپ نے ایک ایسی تلوار کو نیام میں ڈال لیا جس کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونتا تھا آپ نے ایک ایساجھنڈا سرنگوں کر دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گاڑا تھا آپ نے قطع رحمی کی اور اپنے چچا زاد سے حسد کیا سیدنا عمر نے یہ سب سن کر فرمایا کہ تمہاری ان کے ساتھ زیادہ قریب رشتہ داری ہے یوں بھی تم نوعمر ہوں اور تمہیں اپنے چچا زاد بھائی کے حوالے سے زیادہ غصہ آیا ہوا ہے۔