Musnad Ahmad #15736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَيْلًا، فَتَعَجَّلَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ عَنِّي، فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبداللہ بن رواحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت وہ سفر سے واپس آئے اور اپنی بیوی کی طرف روانہ ہو گئے گھر پہنچے تو وہاں چراغ جل رہا تھا اور ان کی بیوی کے پاس کوئی تھا انہوں نے اپنی تلوار اٹھالی یہ دیکھ کر ان کی بیوی کہنے لگی کہ رکو یہ تو فلاں عورت ہے جو میرا بناؤ سنگھار کر رہی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو اچانک بلا اطلاع کسی شخص کو اپنے گھر واپس آنے سے منع کر دیا۔