Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 7 · Chapter 163

مکہ والوں کی روایات

حضرت عبداللہ بن رواحہ کی حدیثیں۔

2 hadiths in this chapter

15736

Musnad Ahmad #15736

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَيْلًا، فَتَعَجَّلَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ عَنِّي، فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن رواحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت وہ سفر سے واپس آئے اور اپنی بیوی کی طرف روانہ ہو گئے گھر پہنچے تو وہاں چراغ جل رہا تھا اور ان کی بیوی کے پاس کوئی تھا انہوں نے اپنی تلوار اٹھالی یہ دیکھ کر ان کی بیوی کہنے لگی کہ رکو یہ تو فلاں عورت ہے جو میرا بناؤ سنگھار کر رہی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو اچانک بلا اطلاع کسی شخص کو اپنے گھر واپس آنے سے منع کر دیا۔

15737

Musnad Ahmad #15737

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ قَائِمًا فِي قَصَصِهِ: إِنَّ أَخًا لَكُمْ كَانَ لَا يَقُولُ: الرَّفَثَ يَعْنِي ابْنَ رَوَاحَةَ ، قَالَ: وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ اللَّيْلِ سَاطِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سنان بن ابی سنان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہو کر وعظ کہنے کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارا بھائی یعنی ابن رواحہ بےہو دہ اشعار نہیں کہتا یہ شعر اسی نے کہے ہیں کہ ہمارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں جو اللہ کی کتاب ہمیں پڑھ کر سناتے ہیں جبکہ رات کی تاریکی سے چمکدار صبح جدا ہو جائے وہ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے دور رہتا ہے جبکہ کفار اپنے بستروں پر بوجھ پڑھ ہوتے ہیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہمیں ہدایت کا راستہ دکھایا اور اب ہمارے دلوں کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ جو کہتے ہیں ہو کر رہے گا۔