Musnad Ahmad #15730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي، فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي؟" فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي , قَالَ:" أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24 ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكُمْ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ؟" قَالَ: فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ فَذَكَّرْتُهُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوسعید معلی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا اتفاقا وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا آپ نے مجھے آواز دی لیکن میں نماز پوری کرنے تک حاضر نہ ہوا اس کے بعد حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکا عرض کیا: کہ میں نماز پڑھ رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے اہل ایمان والو اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں کسی ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری حیات کا راز پوشیدہ ہو تو تم ان کی پکار پر لبیک کہو پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے قبل قرآن کر یم کی سب سے عظیم سورت نہ سکھا دوں پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دہانی کر وائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت فاتحہ ہے وہی سبع مثانی ہے اور وہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔