Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 7 · Chapter 101

مکہ والوں کی روایات

حضرت سائب بن عبداللہ کی حدیثیں۔

6 hadiths in this chapter

15500

Musnad Ahmad #15500

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَال: جِيءَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، جَاءَ بِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُهَيْرٌ، فَجَعَلُوا يَثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُعْلِمُونِي بِهِ، قَدْ كَانَ صَاحِبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ" قَالَ: قَالَ: نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ كُنْتَ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا سَائِبُ، انْظُرْ أَخْلَاقَكَ الَّتِي كُنْتَ تَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاجْعَلْهَا فِي الْإِسْلَامِ، أَقْرِ الضَّيْفَ، وَأَكْرِمْ الْيَتِيمَ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سائب بن عبداللہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا مجھے لانے والے سیدنا عثمان اور زہیر تھے وہ لوگ میری تعریف کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان کے معلق مت بتاؤ یہ زمانہ جاہلیت میں میرے رفیق رہ چکے ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور آپ بہترین رفیق تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سائب دیکھو تمہارے وہ اخلاق جن کا تم زمانہ جاہلیت میں خیال رکھتے تھے انہیں اسلام کی حالت میں بھی برقرار رکھنا مہمان نوازی کرنا، یتیم کی عزت کا خیال رکھنا اور پڑوسی کے ساتھ اچھاسلوک کرنا۔

15501

Musnad Ahmad #15501

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ , عَنِ السَّائِبِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سائب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے کے ثواب سے آدھا ہوتا ہے۔

15502

Musnad Ahmad #15502

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ , عَنِ السَّائِبِ , أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتَ شَرِيكِي، فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ، كُنْتَ لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سائب سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کہ آپ میرے شریک تجارت تھے آپ بہترین شریک تھے آپ مقابلہ کرتے تھے اور نہ ہی جھگڑا کرتے تھے۔

15503

Musnad Ahmad #15503

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: كَانَ السَّائِبُ بْنُ أَبِي السَّائِبِ الْعَابِدِيُّ شَرِيكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ فَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ:" بِأَبِي وَأُمِّي , لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سائب جو کہ زمانہ جاہلیت میں شریک تجارت تھے سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فتح مکہ کے دن عرض کیا: کہ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ مقابلہ کرتے تھے اور نہ ہی جھگڑا کرتے تھے۔

15504

Musnad Ahmad #15504

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مَوْلَاهُ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ يَبْنِي الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: وَلِي حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّهُ بِيَدَيَّ، أَعْبُدُهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَأَجِيءُ بِاللَّبَنِ الْخَاثِرِ الَّذِي أَنْفَسُهُ عَلَى نَفْسِي، فَأَصُبُّهُ عَلَيْهِ، فَيَجِيءُ الْكَلْبُ فَيَلْحَسُهُ، ثُمَّ يَشْغَرُ، فَيَبُولُ، فَبَنَيْنَا حَتَّى بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ، وَمَا يَرَى الْحَجَرَ أَحَدٌ، فَإِذَا هُوَ وَسْطَ حِجَارَتِنَا مِثْلَ رَأْسِ الرَّجُلِ يَكَادُ يَتَرَاءَى مِنْهُ وَجْهُ الرَّجُلِ، فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ: نَحْنُ نَضَعُهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: نَحْنُ نَضَعُهُ , فَقَالُوا: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا، قَالُوا: أَوَّلَ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: أَتَاكُمْ الْأَمِينُ، فَقَالُوا لَهُ: فَوَضَعَهُ فِي ثَوْبٍ، ثُمَّ دَعَا بُطُونَهُمْ، فَأَخَذُوا بِنَوَاحِيهِ مَعَهُ، فَوَضَعَهُ هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد کے آقا کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر میں میں بھی شریک تھا میرے پاس ایک پتھر تھا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے تراشا تھا اور میں اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتا تھا میں بہترین قسم کا دودھ لاتا جو میرے نگاہوں میں عمدہ ہوتاتا اور میں اس لا کر بت پربہا دیتا ایک کتا آتا اسے چاٹ لیتا اور تھوڑی دیر بعد پیشاب کر کے اسے جسم سے خارج کر دیتا۔ الغرض ہم خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے حجر اسود تک پہنچے اس وقت تک کسی نے حجر اسود کو دیکھا بھی نہیں تھا بعد میں پتہ چلا کہ وہ ہمارے پتھروں کے درمیان پڑا ہوا ہے وہ آدمی کے سر کے مشابہ تھا اور اس میں انسان کا چہرہ تک نظر آتا تھا اس موقع پر قریش کا ایک خاندان کہنے لگا کہ حجر اسود کو اس کی جگہ پر ہم رکھیں گے دوسرے نے کہا ہم رکھیں گے کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اپنے درمیان کسی کو ثالت مقرر کر لو انہوں نے کہا اس جگہ سب سے پہلے جو آدمی آئے گا وہ ہمارے درمیان ثالث ہو گا کچھ دیر بعد وہاں سے سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے لوگ کہنے لگے کہ تمہارے پاس امین آئے ہیں پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکر ہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو ایک بڑے کپڑے میں رکھا اور قریش کے خاندانوں کو بلایا ان لوگوں نے اس کا ایک ایک کونہ پکڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل جگہ پر پہنچ کر اس اٹھایا اور اپنے دست مبارک سے اسے نصب کر دیا۔

15505

Musnad Ahmad #15505

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ , أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَة، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي، كَانَ لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي، يَا سَائِبُ قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُقْبَلُ مِنْكَ، وَهِيَ الْيَوْمَ تُقْبَلُ مِنْكَ" , وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سائب سے مروی ہے کہ وہ اسلام سے قبل تجارت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک تھے فتح مکہ کے دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی اور شریک تجارت کو خوش آمدید، جو مقابلہ کرتا تھا اور نہ جھگڑتا تھا سائب تم زمانہ جاہلیت میں کچھ اچھے کام کرتے تھے لیکن اس وقت وہ قبول نہیں ہوتے تھے البتہ اب قبول ہوں گے سیدنا سائب ضرورت مندوں کو قرض دیدیتے اور صلہ رحمی کرتے تھے۔