Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 6 · Chapter 34

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایات

30 hadiths in this chapter

14112

Musnad Ahmad #14112

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَال: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَقَالَ:" نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ، لَا يَدْخُلُهَا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ، رَجَفَتْ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ، وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ، وَذَلِكَ يَوْمَ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ، عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى، فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ، وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدّجَّالِ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي"، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ مقام حرہ کے کسی شگاف سے طلوع ہوئے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خروج دجال کے وقت مدینہ منورہ بہترین زمین ہو گی اس کے ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہو گا جس کی وجہ سے دجال مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ جب ایسا ہو گا تو مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور کوئی منافق (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) ایسے نہیں رہیں گے جو نکل کر دجال کے پاس چلا جائے اور ان میں بھی اکثریت خواتین کی ہو گی اسے یوم التخصیص کہا جائے گا کیونکہ یہ وہی دن ہو گا جس دن مدینہ منورہ اپنے میل کچیل کو اس طرح سے نکال دے گا جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ دجال کے ساتھ ستر ہزار یہو دی ہوں گے جن میں سے ہر ایک نے سبز رنگ کی ریشمی چادر تاج اور زیورات سے مزین تلوار پہن رکھی ہو گی وہ اس جگہ پر اپنا خیمہ لگائے گا جہاں اب بارش کا پانی اکٹھا ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ اب سے پہلے اور قیامت تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ ہوا ہے اور نہ ہو گا اور ہر نبی نے اس سے اپنی امت کو ڈرایا ہے اور میں تمہیں اس کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے مجھ سے پہلے اپنی امت کو نہیں بتائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔

14113

Musnad Ahmad #14113

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ: سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى، عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَة؟ فَقَالَ: تَبُلُّ الشَّعْرَ، وَتَغْسِلُ الْبَشَرَةَ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ، قَالَ:" كَانَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، قَالَ: إِنَّ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ، قَالَ: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَطْيَبَ".

اردو ترجمہ · Urdu

ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ بالوں کو خوب تربتر کر لو اور جسم کو دھو لو، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے، وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

14114

Musnad Ahmad #14114

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بَايَعْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے۔

14115

Musnad Ahmad #14115

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةَ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ مَاءٍ؟" فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَتَرَكَ الْقَدَحَ، فَرَكِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ تَمْسَحُوا وَتَمْسَحُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى رِسْلِكُم"، حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِسْمِ اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ:" أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ" فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي، لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ، عُيُونَ الْمَاءِ، يَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فما رَفَعها حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے اس وقت ہم لوگ دو سو سے کچھ زائد تھے، نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کسی کے پاس پانی ہے؟“ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ وہیں چھوڑ آئے، لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا: ”رک جاؤ“ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا: ”خوب اچھی طرح کامل وضو کرو“ اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے، میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کر لیا۔

14116

Musnad Ahmad #14116

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ"، قُلْنَا: أَيُّ الْحِلّ؟ قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ"، قَالَ: فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَمَسِسْنَا الطِّيبَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ، فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ، لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ:" لا، بَلْ للأَبَدِ"، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَوْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ"، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: فَسَمِعْتُ مَنْ سَمِعَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، يَقُولُ، قَالَ:" اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ"، قَالَ حَسَنٌ، قَالَ زُهَيْرٌ: ثم لم أَفَهَمْ كلامًا تكَلَّمَ به أَبُو الزُّبير، فَسَأَلْتُ يَاسِينَ، فقلتُ: كيف قال أبو الزُّبيرِ في هذا الموضعِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا مروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے“ ہم نے پوچھا: اس صورت میں کیا چیزیں حلال ہو جائیں گی؟ فرمایا: ”سب چیزیں (جو احرام کی وجہ سے ممنوع ہو گئیں تھیں) حلال ہو جائیں گی“ چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے، سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی، آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اس مرتبہ پہلے ہم نے طواف کیا اور سعی کافی ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ایک ایک اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو جائیں اسی دوران سیدنا سراقہ بن مالک بھی آ گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں، کیا عمرہ کا صرف حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے ہے، پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں آج کا عمل کس مقصد کے لئے ہے، کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا؟ یا پھر ہم اپنی تقدیر خود بناتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے“ انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

14117

Musnad Ahmad #14117

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا غُولَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری متعدی ہونے، بدشگونی اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔“

14118

Musnad Ahmad #14118

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِر ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ، وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدَةٍ، وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَحْتَبيِ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسرے کو ٹھیک نہ کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے، بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔

14119

Musnad Ahmad #14119

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِب ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا جُعِلَ مِنْبَرٌ، حَنَّتْ حَنِينَ النَّاقَةِ إِلَى وَلَدِهَا، فَأَتَاهَا، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا، فَسَكَنَتْ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لکڑی پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا۔

14120

Musnad Ahmad #14120

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

14121

Musnad Ahmad #14121

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ، أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ يَحْتَبيِ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ، أَوْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے، بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔

14122

Musnad Ahmad #14122

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: رَأَيْتُ أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ عِنْدَ أَبِي الزُّبَيْرِ قَائِمًا، وَهُوَ يَقُولُ: كَيْفَ قَالَ؟ وَإِيشِ قَالَ؟.

اردو ترجمہ · Urdu

زہیر کہتے ہیں کہ میں نے اشعث بن سوار کو ابوالزبیر کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے کیا فرمایا؟ کیسے فرمایا؟

14123

Musnad Ahmad #14123

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ، وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ، فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ، لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین آخری صف ہوتی ہے، جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہوتی ہے“، پھر فرمایا: ”اے گروہ خواتین! جب مرد سجدے میں جایا کریں تو اپنی نگاہ پست رکھیں اور تہبندوں کے سوراخوں میں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کرو۔“

14124

Musnad Ahmad #14124

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ بَرَكَ بِهِ بَعِيرٌ قَدْ أَزْحَفَ بِهِ، فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" مَا لَكَ يَا جَابِر؟" فَأَخْبَرَهُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَعِيرِ، ثُمَّ قَالَ:" ارْكَبْ يَا جَابِرُ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَا يَقُومُ، فَقَالَ لَهُ:" ارْكَبْ" فَرَكِبَ جَابِرٌ الْبَعِيرَ، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ بِرِجْلِهِ، فَوَثَبَ الْبَعِيرُ وَثْبَةً لَوْلَا أَنَّ جَابِرًا تَعَلَّقَ بِالْبَعِيرِ، لَسَقَطَ مِنْ فَوْقِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَابِرٍ:" تَقَدَّمْ يَا جَابِرُ، الْآنَ عَلَى أَهْلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، تَجِدْهُمْ قَدْ يَسَّرُوا لَكَ كَذَا وَكَذَا" حَتَّى ذَكَرَ الْفُرُشَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ".

اردو ترجمہ · Urdu

ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور اس نے انہیں تھکا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو پوچھا: جابر! تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے سارا ماجرا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اونٹ کے پاس آئے اور فرمایا: جابر! اس پر سوار ہو جاؤ، وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! یہ تو کھڑا ہی نہیں ہو سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ، چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اس پر سوار ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور اونٹ اس طرح اچھل کر کھڑا ہو گیا کہ اگر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چمٹ نہ گئے ہوتے تو گر جاتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! اب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، تم دیکھو گے کہ انہوں نے تمہارے لئے فلاں فلاں چیز تیار کی ہے حتیٰ کہ بستر کا تذکر ہ فرمایا اور فرمایا کہ ایک بستر مرد کا ہوتا ہے اور ایک عورت کا ہوتا ہے، ایک بستر مہمان کا ہوتا ہے اور چوتھا بستر شیطان کا ہوتا ہے۔

14125

Musnad Ahmad #14125

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ، يَقُولُ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے، وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔

14126

Musnad Ahmad #14126

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ َلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا، فَهُوَ لَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے۔“

14127

Musnad Ahmad #14127

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَحَرْنَا بِالْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی تھی۔

14128

Musnad Ahmad #14128

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْج ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُوتِرْ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد میں پتھر استعمال کرنا چاہیے۔“

14129

Musnad Ahmad #14129

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَيْ جَابِرٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ أَبِيهِمَا ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابِهِ، شَقَّ قَمِيصَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ، فَقِيلَ لَهُ! فَقَالَ:" وَاعَدْتُهُمْ يُقَلِّدُونَ هَدْيي الْيَوْمَ، فَنَسِيتُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص چاک کر دی اور اسے اتار دیا کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ میں نے لوگوں سے یہ وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ آج ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھیں گے، میں وہ بھول گیا تھا۔

14130

Musnad Ahmad #14130

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا، وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ قَدْ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ، وَلَا وَلِيَنْحَرْ حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذی الحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر چکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کریں۔

14131

Musnad Ahmad #14131

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقُولَ: هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عمریٰ کو جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی سے کہہ دے کہ یہ چیز آپ کی اور آپ کی اگلی نسل کی ہو گئی اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک کے لئے آپ کی ہو گئی تو وہ چیز مالک کے پاس واپس لوٹ جائے گی۔

14132

Musnad Ahmad #14132

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه ، قَالَ: قَالَ لي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَزَوَّجْتَ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا"، فَقُلْتُ: لَا بَلْ ثَيِّبًا، لِي أَخَوَاتٌ وَعَمَّاتٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، قَالَ:" أَفَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا؟" قَالَ:" لَكُمْ أَنْمَاطٌ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَّى؟ فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ"، قال: فَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي أَنْمَاطَكِ، فَتَقُولُ: نَعَمْ! أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ؟! فَأَتْرُكُهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے۔ کیونکہ میری چھوٹی بہنیں اور پھوپھیاں ہیں، میں نے ان میں ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ نکاح کیا، تم اس سے کھیلتے؟ پھر فرمایا کہ عنقریب تمہیں اونی کپڑے ملیں گے، میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کہاں سے؟ فرمایا: عنقریب تمہیں اونی کپڑے ضرور ملیں گے، اب آج وہ مجھے مل گئے ہیں تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اونی کپڑے اپنے پاس ہی رکھو، تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ تمہیں اونی کپڑے ملیں گے، یہ سن کر میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔

14133

Musnad Ahmad #14133

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَعْتَقَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، عَلَى دُبُرٍ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَبْتَاعُهُ مِنِّي؟"، فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَا أَبْتَاعُهُ، فَابْتَاعَه، فَقَالَ عَمْرٌو، قَالَ جَابِرٌ: غُلَامٌ قِبْطِيٌّ، وَمَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ، زَادَ فِيهَا أَبُو الزُّبَيْرِ، يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کر دیا (جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا) کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس حالت کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا؟ نعیم بن عبداللہ کہنے لگے کہ میں اسے خریدتا ہوں چنانچہ انہوں نے اسے خرید لیا، وہ غلام قبطی تھا اور پہلے ہی سال مر گیا۔

14134

Musnad Ahmad #14134

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ ، وَقَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِه: وَقَالَ لِي عَطَاءٌ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ نَبِيذًا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو۔“

14135

Musnad Ahmad #14135

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ ، سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّشْرَةِ، فَقَالَ:" مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شیطانی عمل ہے۔

14136

Musnad Ahmad #14136

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ"، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَرَأَيْتُ أَنَا جَابِرًا يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ: وَرَأَيْتُ جَابِرًا يُصَلِّي، وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا الزُّبَيْرِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

14137

Musnad Ahmad #14137

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ نَهَارًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا خَمَّرْتَهُ! وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید انصاری رضی اللہ عنہ صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جنت البقیع میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ڈھک کر کیوں نہ لائے؟ اگرچہ لکڑی ہی سے ڈھک لیتے۔“

14138

Musnad Ahmad #14138

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ، جَافَى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ میں جاتے تو اپنے پہلوؤں کو اپنے پیٹ سے اتنا جدا رکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔

14139

Musnad Ahmad #14139

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور اس دوران نمازیں قصر کر کے پڑھتے رہے۔

14140

Musnad Ahmad #14140

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ، ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً، فَقَالَ عَبَّاسٌ: اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَفَعَلَ، فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ:" إِزَارِي إِزَارِي" فَشُدَّ عَلَيْهِ إِزَارُهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش کر گر پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں، پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا۔

14141

Musnad Ahmad #14141

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُول: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى، يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ «لا اله الا الله» نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کر لیں گے تو انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، سوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہو گا۔