Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 6 · Chapter 32

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایات

30 hadiths in this chapter

10985

Musnad Ahmad #10985

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَعَرَضَ لِإِنْسَانٍ مِنْهُمْ فِي عَقْلِهِ أَوْ لُدِغَ، قَالَ: فَقَالُوا لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَل فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، فَأَتَى صَاحِبَهُمْ، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ، فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَضَحِكَ، وَقَالَ:" مَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا، وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے، دورانِ سفر ان کا گذر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ اتفاقاً ان میں سے ایک آدمی کی عقل زائل ہوگئی یا اسے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے کہ کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ ان میں سے ایک نے " ہاں " کہہ دیا۔ اور اس آدمی کے پاس جا کر اسے سورت فاتحہ پڑھ کر دم کردیا۔ وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا اور عرض کردیا کہ یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے تو صرف سورت فاتحہ پڑھ کر ہی دم کیا تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے؟ پھر فرمایا کہ بکریوں کو وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔

10986

Musnad Ahmad #10986

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ أَوْ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: فَحَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً، قَدْرَ قِرَاءَةِ سُورَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنَ الْأُولَيَيْن".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نماز ظہر اور عصر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، چنانچہ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں تیس آیات کی تلاوت کے بقدر قیام فرماتے ہیں، " جو سورت سجدہ کی مقدار بنتی ہے " اور آخری دو رکعتوں میں اس کا نصف قیام فرماتے ہیں، جب کہ نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف اور آخری دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف قیام فرماتے ہیں۔

10987

Musnad Ahmad #10987

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا قیامت کے دن جس کی زمین (قبر) سب سے پہلے کھلے گی اور یہ بات بھی بطور فخر کے نہیں اور میں ہی قیامت کے دن سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا اور یہ بات بھی میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔

10988

Musnad Ahmad #10988

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَتَى فَاحِشَةً، فَرَدَّهُ مِرَارًا، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَرَجَمْنَاهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ، ثُمَّ وَلَّيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ" سَقَطَتْ عَلَى أَبِي كَلِمَة.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے سے گناہ سرزد ہوجانے کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ انہیں لوٹانے کے بعد آخر میں انہیں رجم کردینے کا حکم دے دیا۔ ہم نے انہیں لے جا کر سنگسار کردیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آکر انہیں اس کی خبر بھی کردی، جب شام ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد وثناء کی اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا؟ (امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میرے والد صاحب سے حدیث کے آخری الفاظ چھوٹ گئے۔

10989

Musnad Ahmad #10989

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ بِهِ حَاجَةٌ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ: ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَاهُ وَهُوَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا فَوَجَدْنَا لَهُ أَعْطَيْنَاهُ"، قَالَ: فَذَهَبَ، وَلَمْ يَسأْلْ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی کو ضرورت مندی نے آگھیرا، اس کے اہل خانہ نے اس سے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یہ سن کر وہ آدمی واپس چلا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔

10990

Musnad Ahmad #10990

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ:" الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ، وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ محرم کن چیزوں کو مار سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سانپ، بچھو، چوہا اور کوے کو پتھر مار سکتا ہے، قتل نہ کرے، باؤلا کتا، چیل اور دشمن درندہ۔

10991

Musnad Ahmad #10991

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، أَخْبَرَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ، وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ، وَعَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔

10992

Musnad Ahmad #10992

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ، فَأَنْكَرَهَا، قَالَ:" أَنَّى لَكَ هَذَا؟"، فَقَالَ: اشتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتُم".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سامعاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔

10993

Musnad Ahmad #10993

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے قریب المرگ لوگوں کو " لا الہ الا اللہ " پڑھنے کی تلقین کرو۔

10994

Musnad Ahmad #10994

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذِهِ الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا، فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ، وَأَقِيمُوهَا، وَسُدُّوا الْفُرَجَ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمْ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِنَّ خَيْرَ الصُّفُوفِ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس سے اللہ گناہوں کو معاف فرمادے اور نیکیوں میں اضافہ فرمادے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو شخص بھی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرے، پھر مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرے تو فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے۔ جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو صفیں سیدھی کرلیا کرو، خالی جگہ کو پر کرلیا کرو، کیوں کہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ، کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو اور مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین پہلی صف ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو۔

10995

Musnad Ahmad #10995

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں پرکاہ سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورباسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے ہیں۔

10996

Musnad Ahmad #10996

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ فَقَدْ بَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ؟، قَالَ:" نَعَمْ، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا"، قَالَ: فَضَرَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ، فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّيحِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے غزوہ خندق کے دن بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارے دل تو اچھل کر حلق میں آگئے ہیں، کوئی دعاء پڑھنے کے لئے ہو تو بتا دیجئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! یہ دعاء پڑھو کہ اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال اور ہمارے خوف کو امن سے تبدیل فرما، اس کے بعد اللہ نے دشمنوں پر آندھی کو مسلط کردیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔

10997

Musnad Ahmad #10997

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَسَنٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا، قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ نَسِيتُ اسْمَهُ، وَلَكِنْ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ أَوْ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ يَعْرِفُ مَنْ يَحْمِلُهُ، وَمَنْ يُغَسِّلُهُ، وَمَنْ يُدَلِّيهِ فِي قَبْرِهِ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ أَبِي سَعِيدٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟، قَالَ: مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت اپنے اٹھانے والوں، غسل دینے والوں اور قبر میں اتارنے والوں تک کو جانتی ہے۔

10998

Musnad Ahmad #10998

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ " أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور " جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں " کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔

10999

Musnad Ahmad #10999

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَرْدَانُبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔

11000

Musnad Ahmad #11000

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ، فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ، فَأَقْعَدَهُ، قَالَ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلُكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لَهُ: اسْكُنْ، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، فَيَقُولَ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ بِهِ هَذَا، وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ثُمَّ يَقْمَعُهُ قَمْعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ"، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هُبِلَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک جنازے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اس امت کی آزمائش قبروں میں بھی ہوگی، چنانچہ جب انسان کو دفن کرکے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں، تو ایک فرشتہ " جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے " آکر اسے بٹھا دیتا ہے اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، یہ سن کر فرشتہ کہتا ہے کہ تم نے سچ کہا، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ اور اگر وہ کافر یا منافق ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا ضرور تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اپنے گرز سے اس پر اتنی زور سے ضرب لگاتا ہے جس کی آواز جن و انس کے علاوہ اللہ کی ساری مخلوق سنتی ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ فرشتہ تو جس کے سامنے بھی ہاتھ میں گرز لے کر کھڑا ہوگا، اس پر گھبراہٹ طاری ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ایمان والوں کو کلمہ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے۔

11001

Musnad Ahmad #11001

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَتْرُ بِلَيْلٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر رات ہی کو پڑھے جائیں۔

11002

Musnad Ahmad #11002

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ، مِسْكٌ خَالِصٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدقَ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی۔

11003

Musnad Ahmad #11003

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور منبر کا درمیانی فاصلہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر لگایا جائے گا۔

11004

Musnad Ahmad #11004

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِنَّ وَاللَّهِ فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ، فَمَا يَقُولُ ذَاكَ، أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُخْرِجُ مَسْأَلَتَهُ مِنْ عِنْدِي يَتَأَبَّطُهَا" يَعْنِي تَكُونُ تَحْتَ إِبْطِهِ، يَعْنِي نَارًا، قَالَ: قَالَ: عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ؟، قَالَ:" فَمَا أَصْنَعُ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا ذَاكَ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے فلاں فلاں دو آدمیوں کو خوب تعریف کرتے ہوئے اور یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے انہیں دو دینار عطاء فرمائے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن بخدا! فلاں آدمی ایسا نہیں ہے، میں نے اسے دس سے لے کر سو تک دینار دئیے ہیں، وہ کیا کہتا ہے؟ یاد رکھو! تم میں سے جو آدمی میرے پاس سے اپنا سوال پورا کرکے نکلتا ہے وہ اپنی بغل میں آگ لے کر نکلتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ انہیں دیتے ہی کیوں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیا کروں؟ وہ اس کے علاوہ مانتے ہی نہیں اور اللہ میرے لئے بخل کو پسند نہیں کرتا۔

11005

Musnad Ahmad #11005

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَغَنَّى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ تَعَفَّفَ أَعَفَّهُ اللَّهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غناء حاصل کرتا ہے اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو شخص عفت حاصل کرتا ہے اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے۔

11006

Musnad Ahmad #11006

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: قَالَ ابن عُمَرُ : لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ، فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ: الرِّبَا، قَالَ: فَحَدَّثَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَمَّ مَقَالَتَهُ حَتَّى دَخَلَ بِهِ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي عَنْكَ حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَسَمِعْتَهُ؟، فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنِي، وَسَمِعَ أُذُنِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو، کیوں کہ مجھے تم پر سود میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہے، راوی حدیث نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنائی، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی آگئے، میں وہیں پر موجود تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

11007

Musnad Ahmad #11007

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصِيبُهُ وَصَبٌ، وَلَا نَصَبٌ، وَلَا حَزَنٌ، وَلَا سَقَمٌ، وَلَا أَذًى، حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔

11008

Musnad Ahmad #11008

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ، لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةٍ: بَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ، وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ، شَكَّ عُمَارَةُ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَالْأَنْصَارُ وَغَيْرُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَأْتَمِنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرٌ مِنَ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً"، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشَمَّرُ الْإِزَارِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، أَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ أَنَا؟"، ثُمَّ أَدْبَرَ، فَقَالَ خَالِدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَعَلَّهُ يَكُونُ يُصَلِّي"، فَقَالَ: إِنَّهُ رُبَّ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ"، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ:" هَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، بعض صحابہ رضی اللہ عنہ اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ میں تو آسمان والے کا امین ہوں، میرے پاس صبح شام آسمانی خبریں آتی ہیں، اتنی دیر میں گہری آنکھوں، سرخ رخساروں، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہوا اور سرمنڈایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! اللہ کا خوف کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا بدنصیب! کیا اہل زمین میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار میں ہی نہیں ہوں۔ پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے، یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ بہت سے نمازی ایسے بھی ہیں جو اپنی زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کرتا پھروں یا ان کے پیٹ چاک کرتا پھروں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک نظر دیکھا جو پیٹھ پھیر کر جارہا تھا اور فرمایا یاد رکھو! اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

11009

Musnad Ahmad #11009

Sahih

(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ، إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے، چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب وہ خوش ہوگا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ سے بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔

11010

Musnad Ahmad #11010

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ سُئِلَ عَنِ الْإِزَارِ، فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ، لَا جُنَاحَ أَوْ لَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ، لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا".

اردو ترجمہ · Urdu

ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال پوچھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا اور اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو اپنا تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔

11011

Musnad Ahmad #11011

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَتَتَرَّبُ رَأْسُهُ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَصْحَابِي ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ جَعَلَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ، وَيَقُولُ:" وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعمیر مسجد کا حکم دیا، ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے اور ان کا سر مٹی میں رچ بس گیا تھا، میرے ساتھیوں نے مجھ سے بیان کیا، اگرچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات خود نہیں سنی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ! افسوس، کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کردے گا۔

11012

Musnad Ahmad #11012

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُعْطِي الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔

11013

Musnad Ahmad #11013

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ أَوْ: مَا تُفْتِينَا؟، قَالَ:" ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ" فَلَمْ يَأْمُرْ، وَلَمْ يَنْهَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ، وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ، وَإِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کردیا گیا تھا، (کہیں یہ وہی نہ ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اللہ اس سے کئی لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور یہ عام طور پر چرواہوں کی غذاء ہے، اگر یہ میرے پاس ہو تو میں بھی اسے کھالوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے صرف احتیاط فرمائی ہے۔

11014

Musnad Ahmad #11014

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، حَتَّى إِذَا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، قَالَ:" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ"، قَالَ: فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَحَلَلْنَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، صَرَخْنَا بِالْحَجِّ، وَانْطَلَقْنَا إِلَى مِنًى.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور بھی ہو، چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیا، پھر جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔