Musnad Ahmad #1837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، قَالَ: جَاءَتْ الْغُمَيْصَاءُ أَوْ الرُّمَيْصَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا، وَتَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا، فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ زَوْجُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت - جس کا نام غمیصاء یا رمیصاء تھا - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی، اس کا کہنا یہ تھا کہ اس کا خاوند اس کے قریب پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، تھوڑی دیر بعد اس کا شوہر بھی آ گیا، اس کا خیال یہ تھا کہ اس کی بیوی جھوٹ بول رہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے پہلے خاوند سے دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”تمہارے لئے ایسا کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک تمہارا شہد اس (پہلے شوہر) کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ چکھ لے۔“