Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 2 · Chapter 8

خلفاء راشدین کے علاوہ باقی عشرہ مبشرہ صحابہ کی روایات

الزبیر ابن العوام رضی اللہ عنہ کی روایات

30 hadiths in this chapter

1405

Musnad Ahmad #1405

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ سورة الزمر آية 31، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، مَعَ خُصُومَتِنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" , وَلَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا يَعْنِي: هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ؟ , قَالَ:" أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ» [الزمر: 31] ”پھر قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے“، تو انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس جھگڑنے سے دنیا میں اپنے مدمقابل لوگوں سے جھگڑنا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [التكاثر: 8] ”قیامت کے دن تم سے نعمتوں کے بارے سوال ضرور ہوگا“، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم سے کن نعمتوں کے بارے سوال ہو گا؟ جبکہ ہمارے پاس تو صرف کھجور اور پانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! یہ نعمتوں کا زمانہ بھی عنقریب آنے والا ہے۔“

1406

Musnad Ahmad #1406

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ , سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ: لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَلْحَةَ , وَالزُّبَيْرِ , وَسَعْدٍ , نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ" إِنَّا لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ" , قَالَ: قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.

اردو ترجمہ · Urdu

ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم سے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے“؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔

1407

Musnad Ahmad #1407

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ، ثُمَّ يَجِيءَ فَيَضَعَهُ فِي السُّوقِ فَيَبِيعَهُ، ثُمَّ يَسْتَغْنِيَ بِهِ، فَيُنْفِقَهُ عَلَى نَفْسِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انسان کے لئے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنی رسی اٹھائے، اس سے لکڑیاں باندھے، بازار میں لا کر انہیں رکھے اور انہیں بیچ کر اس سے غناء بھی حاصل کرے اور اپنے اوپر خرچ بھی کرے، بہ نسبت اس کے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے خواہ لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔“

1408

Musnad Ahmad #1408

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے والدین کو جمع فرمایا۔ (یعنی مجھ سے یوں فرمایا کہ ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں“)۔

1409

Musnad Ahmad #1409

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُطُمِ حَسَّانَ، فَكَانَ يَرْفَعُنِي وَأَرْفَعُهُ، فَإِذَا رَفَعَنِي عَرَفْتُ أَبِي حِينَ يَمُرُّ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، وَكَانَ يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ:" مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيُقَاتِلَهُمْ؟" , فَقُلْتُ لَهُ حِينَ رَجَعَ: يَا أَبَة ، إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُكَ حِينَ تَمُرُّ ذَاهِبًا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ , فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفَدِّانِي بِهِمَا , يَقُول:" فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ اطم حسان نامی اس ٹیلے پر تھے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات موجود تھیں، کبھی وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے اور کبھی میں انہیں اٹھا کر اونچا کرتا، جب وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے تو میں اپنے والد صاحب کو پہچان لیا کرتا تھا جب وہ بنو قریظہ کے پاس سے گذرتے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر جہاد میں شریک تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ”بنو قریظہ کے پاس پہنچ کر ان سے کون قتال کرے گا؟“ واپسی پر میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ اباجان! واللہ! میں نے اس وقت آپ کو پہچان لیا تھا جب آپ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر میرے لئے اپنے والدین کو جمع کر کے یوں فرما رہے تھے کہ ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“

1410

Musnad Ahmad #1410

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّ رَجُلًا حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهَا: غَمْرَةُ، أَوْ غَمْرَاءُ، َقَالَ: فَوَجَدَ فَرَسًا أَوْ مُهْرًا يُبَاعُ، فَنُسِبَتْ إِلَى تِلْكَ الْفَرَسِ، فَنُهِيَ عَنْهَا.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کسی آدمی کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑے پر سوار کرایا یعنی اس کا مالک بنا دیا، جس کا نام غمرہ یا غمراء تھا، کچھ عرصے بعد وہی گھوڑا یا اس کا کوئی بچہ فروخت ہوتا ہوا ملا، چونکہ اس کی نسبت اسی گھوڑے کی طرف تھی جسے انہوں نے صدقہ کر دیا تھا اس لئے اسے دوبارہ خریدنے سے انہیں منع کر دیا گیا۔

1411

Musnad Ahmad #1411

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ فَنَبْتَدِرُ الْآجَامَ، فَلَا نَجِدُ إِلَّا قَدْرَ مَوْضِعِ أَقْدَامِنَا , قَالَ يَزِيدُ: الْآجَامُ: هِيَ الْآطَامُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے اور واپس آ کر ٹیلوں میں بیج بکھیرنے لگ جاتے تھے، اس موقع پر ہمیں سوائے اپنے قدموں کی جگہ کے کہیں سایہ نہ ملتا تھا۔

1412

Musnad Ahmad #1412

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ: الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ، وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ، حَالِقَةُ الدِّينِ، لَا حَالِقَةُ الشَّعَرِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ، إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کر گئی ہیں، اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کر لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو رواج دو۔“

1413

Musnad Ahmad #1413

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه: مَا لِي لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفُلَانًا وَفُلَانًا؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جس طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کو میں حدیث بیان کرتا ہوا سنتا ہوں، آپ کو نہیں سنتا، اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی جدا نہیں ہوا لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔“ (اس لئے میں ڈرتا ہوں)۔

1414

Musnad Ahmad #1414

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيد مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا جَاءَ بِكُمْ؟ ضَيَّعْتُمْ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ؟ قَالَ الزُّبَيْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً سورة الأنفال آية 25، لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ مِنَّا حَيْثُ وَقَعَتْ.

اردو ترجمہ · Urdu

مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوعبداللہ! آپ لوگ کس مقصد کی خاطر آئے ہیں؟ آپ لوگوں نے ایک خلیفہ کو ضائع کر دیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے، اب آپ ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے زمانے میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے تھے: «﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً﴾ [الأنفال: 25] » ”اس آزمائش سے بچو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کی نہیں ہو گی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا (بلکہ عمومی ہوگی)“، لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہوگا، یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آ گئی۔

1415

Musnad Ahmad #1415

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا الشَّيْبَ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے بالوں کی سفیدی کو تبدیل کر سکتے ہو لیکن یہودیوں کی مشابہت اس موقع پر بھی اختیار کرنے سے بچو۔“

1416

Musnad Ahmad #1416

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مَخْزُومِيٌّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن عَبْد الله بْنِ إِنْسَانَ ، قَالَ: وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ، وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا، فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ يَعْنِي: وَادِيًا وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ , وَعِضَاهَهُ حَرَمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ" وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ لیلہ نامی جگہ سے آ رہے تھے، جب ہم لوگ بیری کے درخت کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرن اسود نامی پہاڑ کی ایک جانب اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور وادی نخب کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا اور کچھ دیر کھڑے رہے، لوگ بھی سب کے سب وہیں رک گئے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وج - جو کہ طائف کی ایک وادی کا نام ہے - کا شکار اور ہر کانٹے دار درخت حرم میں داخل ہے، اور اسے شکار کرنا یا کاٹنا اللہ کے حکم کی تعمیل کے لئے حرام ہے۔“ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف پہنچنے اور بنو ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے فرمائی۔

1417

Musnad Ahmad #1417

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ يَوْمَئِذٍ:" أَوْجَبَ طَلْحَةُ" , حِينَ صَنَعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ، يَعْنِي: حِينَ بَرَكَ لَهُ طَلْحَةُ، فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اس دن - جبکہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ خدمت کی جو انہوں نے کی، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھک کر بیٹھ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کمر پر سوار ہوگئے - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”طلحہ نے اپنے لئے جنت کو واجب کر لیا۔“

1418

Musnad Ahmad #1418

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ تَسْعَى، حَتَّى إِذَا كَادَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَى الْقَتْلَى، قَالَ: فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرَاهُمْ، فَقَالَ:" الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ" , قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَتَوَسَّمْتُ أَنَّهَا أُمِّي صَفِيَّةُ، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَسْعَى إِلَيْهَا، فَأَدْرَكْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى الْقَتْلَى، قَالَ: فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي، وَكَانَتْ امْرَأَةً جَلْدَةً، قَالَتْ: إِلَيْكَ، لَا أَرْضَ لَكَ , قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزَمَ عَلَيْكِ , قَالَ: فَوَقَفَتْ، وَأَخْرَجَتْ ثَوْبَيْنِ مَعَهَا، فَقَالَتْ: هَذَانِ ثَوْبَانِ , جِئْتُ بِهِمَا لِأَخِي حَمْزَةَ، فَقَدْ بَلَغَنِي مَقْتَلُهُ، فَكَفِّنُوهُ فِيهِمَا , قَالَ: فَجِئْنَا بِالثَّوْبَيْنِ لِنُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ، فَإِذَا إِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَتِيلٌ، قَدْ فُعِلَ بِهِ كَمَا فُعِلَ بِحَمْزَةَ، قَالَ: فَوَجَدْنَا غَضَاضَةً وَحَيَاءً أَنْ نُكَفِّنَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَالْأَنْصَارِيُّ لَا كَفَنَ لَهُ، فَقُلْنَا لِحَمْزَةَ ثَوْبٌ، وَلِلْأَنْصَارِيِّ ثَوْبٌ، فَقَدَرْنَاهُمَا فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَكْبَرَ مِنَ الْآخَرِ، فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا، فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ لَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن اختتام پر ایک عورت سامنے سے بڑی تیزی کے ساتھ آتی ہوئی دکھائی دی، قریب تھا کہ وہ شہداء کی لاشیں دیکھ لیتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خاتون انہیں دیکھ سکے، اس لئے فرمایا کہ ”اس عورت کو روکو، اس عورت کو روکو۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں، چنانچہ میں ان کی طرف دوڑتا ہوا گیا اور شہداء کی لاشوں تک ان کے پہنچنے سے قبل ہی میں نے انہیں جا لیا۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر میرے سینے پر دو ہتڑ مار کر مجھے پیچھے کو دھکیل دیا، وہ ایک مضبوط خاتون تھیں اور کہنے لگیں کہ پرے ہٹو، میں تم سے نہیں بولتی، میں نے عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قسم دلائی ہے کہ ان لاشوں کو مت دیکھیں، یہ سنتے ہی وہ رک گئیں اور اپنے پاس موجود دو کپڑے نکال کر فرمایا: یہ دو کپڑے ہیں جو میں اپنے بھائی حمزہ کے لئے لائی ہوں، کیونکہ مجھے ان کی شہادت کی خبر مل چکی ہے، تم انہیں ان کپڑوں میں کفن دے دینا۔ جب ہم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ان دو کپڑوں میں کفن دینے لگے تو دیکھا کہ ان کے پہلو میں ایک انصاری شہید ہوئے پڑے ہیں، ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا تھا جو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا، ہمیں اس بات پر شرم محسوس ہوئی کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دے دیں اور اس انصاری کو کفن کا ایک کپڑا بھی میسر نہ ہو، اس لئے ہم نے یہ طے کیا کہ ایک کپڑے میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے میں اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کو کفن دیں گے، اندازہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ ان دونوں حضرات میں سے ایک زیادہ لمبے قد کے تھے، ہم نے قرعہ اندازی کی اور جس کے نام جو کپڑا نکل آیا اسے اسی کپڑے میں کفن دے دیا۔

1419

Musnad Ahmad #1419

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ، كَانَا يَسْتَقِيَانِ بِهَا كِلَاهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" اسْقِ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ" , فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ , وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ! فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ" , فَاسْتَوْعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَأْيٍ أَرَادَ فِيهِ سَعَةً لَهُ وَلِلْأَنْصَارِيِّ، فَلَمَّا أَحْفَظَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ , قَالَ عُرْوَةُ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ مَا أَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ان کا ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے - جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پانی کی اس نالی میں اختلاف رائے ہو گیا جس سے وہ دونوں اپنے اپنے کھیت کو سیراب کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کو ختم کرتے ہوئے فرمایا: ”زبیر! تم اپنے کھیت کو سیراب کر کے اپنے پڑوسی کے لئے پانی چھوڑ دو“، انصاری کو اس پر ناگواری ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! یہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں ناں اس لئے آپ یہ فیصلہ فرما رہے ہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”اب تم اپنے کھیت کو سیراب کرو اور جب تک پانی منڈیر تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک پانی کو روکے رکھو۔“ گویا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوا دیا، جبکہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ایسا مشورہ دیا تھا جس میں ان کے لئے اور انصاری کے لئے گنجائش اور وسعت کا پہلو تھا، لیکن جب انصاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح حکم کے ساتھ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: واللہ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ مندرجہ ذیل آیت اسی واقعے سے متعلق نازل ہوئی ہے: «﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [النساء: 65] » ”آپ کے رب کی قسم! یہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے اختلافات میں آپ کو ثالث مقرر نہ کر لیں، پھر اس فیصلے کے متعلق اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے مکمل طور پر تسلیم نہ کریں۔“

1420

Musnad Ahmad #1420

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، فَحَيْثُمَا أَصَبْتَ خَيْرًا فَأَقِمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہر بھی اللہ کے ہیں اور بندے بھی اللہ کے ہیں، اس لئے جہاں تمہیں خیر دکھائی دے، وہیں پر قیام پذیر ہو جاؤ۔“

1421

Musnad Ahmad #1421

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة آل عمران آية 18،" وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ يَا رَبِّ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان عرفات میں اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا: «﴿شَهِدَ اللّٰهُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [آل عمران: 18] » ”اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور فرشتے اور اہل علم بھی انصاف کو قائم رکھتے ہوئے اس بات پر گواہ ہیں، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ غالب حکمت والا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ”پروردگار! میں بھی اس بات پر گواہ ہوں۔“

1422

Musnad Ahmad #1422

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّهِ , وَجَدَّتِهِ أُمِّ عَطَاءٍ ، قَالَتَا: وَاللَّهِ لَكَأَنَّنَا نَنْظُرُ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ أَتَانَا عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ , فَقَالَ: يَا أُمَّ عَطَاءٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَد نَهَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ , قَالَ: فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُهْدِيَ لَنَا؟ فَقَالَ: أَمَّا مَا أُهْدِيَ لَكُنَّ، فَشَأْنَكُنَّ بِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

ام عطاء وغیرہ کہتی ہیں کہ واللہ! ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہم اب بھی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہے ہیں، جبکہ وہ ہمارے پاس اپنے ایک سفید خچر پر سوار ہو کر آئے تھے اور فرمایا تھا کہ اے ام عطاء! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ اپنی قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ کھائیں، میں نے کہا کہ میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اگر ہمیں ہدیہ کے طور پر کہیں سے قربانی کا گوشت آ جائے تو اس کا کیا کریں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہدیہ کے طور پر جو چیز آ جائے اس میں تمہیں اختیار ہے۔

1423

Musnad Ahmad #1423

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ مَعَ النِّسَاءِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ عَلَى فَرَسِهِ يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، فَلَمَّا رَجَعَ , قُلْتُ: يَا أَبَةِ، رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ , قَالَ: وَهَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِيَنِي بِخَبَرِهِمْ؟" , فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ، جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ , فَقَالَ:" فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ اطم حسان نامی اس ٹیلے پر تھے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات موجود تھیں، (کبھی وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے اور کبھی میں انہیں اٹھا کر اونچا کرتا، جب وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے) تو میں اپنے والد صاحب کو پہچان لیا کرتا تھا جب وہ بنو قریظہ کے پاس سے گذرتے تھے۔ واپسی پر میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ اباجان! واللہ! میں نے اس وقت آپ کو پہچان لیا تھا جب آپ گھوم رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ بیٹے! کیا واقعی تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بنو قریظہ کے پاس جا کر ان کی خبر میرے پاس کون لائے گا؟“ میں چلا گیا اور جب واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر میرے لئے اپنے والدین کو جمع کر کے یوں فرما رہے تھے: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“

1424

Musnad Ahmad #1424

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُقْبَةَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيَّ , يَقُولُ: لَمَّا افْتَتَحْنَا مِصْرَ بِغَيْرِ عَهْدٍ , قَامَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ، اقْسِمْهَا , فَقَالَ عَمْرٌو: لَا أَقْسِمُهَا، فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ لَتَقْسِمَنَّهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ , قَالَ عَمْرٌو: وَاللَّهِ لَا أَقْسِمُهَا حَتَّى أَكْتُبَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ , فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: أَنْ أَقِرَّهَا حَتَّى يَغْزُوَ مِنْهَا حَبَلُ الْحَبَلَةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سفیان بن وہب خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے ملک مصر کو بزور شمشیر فتح کر لیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے - جو فاتح مصر اور لشکر اسلام کے سپہ سالار تھے - کہا کہ اے عمرو بن العاص! اسے تقسیم کر دیجئے، انہوں نے کہا کہ میں تو اسے ابھی تقسیم نہیں کروں گا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ آپ کو یہ اسی طرح تقسیم کرنا پڑے گا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم فرمایا تھا، انہوں نے کہا کہ امیر المومنین سے خط و کتابت کرنے سے قبل میں اسے تقسیم نہیں کر سکتا، چنانچہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس نوعیت کا ایک عریضہ لکھ بھیجا، وہاں سے جواب آیا کہ ابھی اسے برقرار رکھو (جوں کا توں رہنے دو) یہاں تک کہ اگلی نسل جنگ میں شریک ہو جائے۔

1425

Musnad Ahmad #1425

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الزُّبَيْرَ سَهْمًا، وَأُمَّهُ سَهْمًا، وَفَرَسَهُ سَهْمَيْنِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ سے فراغت کے بعد مال غنیمت میں سے انہیں ایک حصہ دیا تھا۔ ان کی والدہ کو بھی ایک حصہ دیا تھا اور گھوڑے کے دو حصے مقرر فرمائے تھے (یعنی ہر گھڑ سوار کو دو حصے، اور ہر پیدل کو ایک حصہ دیا تھا)۔

1426

Musnad Ahmad #1426

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , فَقَالَ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: لَا، وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ؟ قَالَ: أَلْحَقُ بِهِ فَأَفْتِكُ بِهِ , قَالَ: لَا، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" إِنَّ الْإِيمَانَ قَيْدُ الْفَتْكِ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ کیا میں علی کا کام تمام نہ کر دوں؟ فرمایا: ہرگز نہیں! اور ویسے بھی ان کے ساتھ اتنا بڑا لشکر ہے کہ تم انہیں قتل کر ہی نہیں سکتے؟ اس نے کہا کہ پھر آپ ان کے پاس جا کر خلافت کے معاملے میں جھگڑا کریں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایمان نے جھگڑے کے پاؤں میں بیڑی ڈال دی ہے، اس لئے مومن جھگڑنے والا نہیں ہوتا۔“

1427

Musnad Ahmad #1427

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , قَالَ: أَتَى رَجُلٌ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ , فَقَالَ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: وَكَيْفَ تَسْتَطِيعُ قَتْلَهُ وَمَعَهُ النَّاسُ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1428

Musnad Ahmad #1428

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا لَكَ لَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا فَارَقْتُهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کیوں نہیں بیان کرتے؟ فرمایا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی جدا نہیں ہوا، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔“ (اس لئے میں ڈرتا ہوں)۔

1429

Musnad Ahmad #1429

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ، فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ فَيَجِيءَ بِحُزْمَةٍ مِنْ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انسان کے لئے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنی رسی اٹھائے، اس سے لکڑیاں باندھے، بازار میں لا کر انہیں رکھے اور انہیں بیچ کر اس سے غناء بھی حاصل کرے اور اپنے اوپر خرچ بھی کرے، بہ نسبت اس کے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، خواہ لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔“

1430

Musnad Ahmad #1430

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ، وَالْبَغْضَاءُ، وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ، وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَلِكَ لَكُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کر گئی ہیں، اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کامل مومن نہ ہو جاؤ، اور تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کر لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو رواج دو۔“

1431

Musnad Ahmad #1431

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَن يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ ، أَنَّ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" دَبَّ إِلَيْكُمْ.." , فَذَكَرَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1432

Musnad Ahmad #1432

Zaeef

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" دَبَّ إِلَيْكُمْ.." , فَذَكَرَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1433

Musnad Ahmad #1433

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلزُّبَيْرِ : أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: كَيْفَ تَقْتُلُهُ؟ قَالَ: أَفْتِكُ بِهِ , قَالَ: لَا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ کیا میں علی کا کام تمام نہ کردوں؟ فرمایا: تم انہیں کس طرح قتل کر سکتے ہو؟ اس نے کہا کہ پھر آپ ان کے پاس جا کر خلافت کے معاملے میں جھگڑا کریں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایمان نے جھگڑے کے پاؤں میں بیڑی ڈال دی ہے، اس لئے مومن جھگڑنے والا نہیں ہوتا۔“

1434

Musnad Ahmad #1434

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ , ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ سورة الزمر آية 30 - 31، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ؟ قَالَ:" نَعَمْ , لَيُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ" , فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ٭ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ» [الزمر: 30-31] ”بے شک تم مرنے والے ہو اور بےشک وہ بھی مرنے والے ہیں، پھر قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔“ تو انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! گناہوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے مد مقابل لوگوں سے جھگڑنا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہی جھگڑا دوبارہ ہوگا یہاں تک کہ حقدار کو اس کا حق مل جائے۔“ اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! یہ تو بہت سخت بات ہے۔