Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1245

قبائل سے روایات

حضرت ام کرز خزاعیہ کی حدیثیں

2 hadiths in this chapter

27632

Musnad Ahmad #27632

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حدثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ ، قَالَتْ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُلَامٍ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَنُضِحَ , وَأُتِيَ بِجَارِيَةٍ، فَبَالَتْ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَغُسِلَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھوٹے بچے کو لایا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاپ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس جگہ پر پانی کے چھینٹے مار دیئے گئے، پھر ایک بچی کو لایا گیا، اس نے پیشاپ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھونے کا حکم دیا۔

27633

Musnad Ahmad #27633

Sahih

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ: " خَرَجْتُ حَاجًّا، فَجِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَلَمَّا كُنْتُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ، مَضَيْتُ حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ، فَصَلَّى إِلَى جَنْبِي، فَصَلَّى أَرْبَعًا، فَلَمَّا صَلَّى، قُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: أَنَّهُ صَلَّى هَاهُنَا، فَقُلْتُ كَمْ صَلَّى؟ قَالَ: عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي، إِنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمُرًا لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى، ثُمَّ حَجَجْتُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ فِي مَقَامِهِ، فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَصَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابو الشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حج کے ارادے سے نکلا، بیت اللہ شریف میں داخل ہوا، جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو جا کر ایک دیوار سے چمٹ گیا، اتنی دیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آ گئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھیں، جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے، تو میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں کہاں نماز پڑھی تھی، انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں، مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے، میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسی پر تو آج تک میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزارا لیکن یہ نہ پوچھ سکا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ اگلے سال میں پھر حج کے ارادے سے نکلا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہو گیا، جہاں پچھلے سال کھڑا ہوا تھا، اتنی دیر میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آ گئے اور پھر اس میں چار رکعتیں پڑھیں۔