Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1232

قبائل سے روایات

حضرت اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

5 hadiths in this chapter

27467

Musnad Ahmad #27467

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيٍّ , قالَتْ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " يَا عَلِيُّ , أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى , إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں فاطمہ بنت علی کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے نسبت تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

27468

Musnad Ahmad #27468

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , وَعَفَّانُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ , قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ , وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ , قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ , أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " أُمِّي , الْبَسِي ثَوْبَ الْحِدَادِ ثَلَاثًا , ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ , مِثْلَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس تشریف لا کر فرمایا: ”تین دن تک سوگ کے کپڑے پہننا، پھر جو چاہو کرنا۔“ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

27469

Musnad Ahmad #27469

See Details

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ , قَالَتْ: أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ , فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ , فَتَشَاوَرَ نِسَاؤُهُ فِي لَدِّهِ , فَلَدُّوهُ , فَلَمَّا أَفَاقَ , قَالَ:" مَا هَذَا؟" , فَقُلْنَا: هَذَا فِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هَاهُنَا , وَأَشَارَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ , وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ , قَالُوا: كُنَّا نَتَّهِمُ فِيكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " إِنَّ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْرَفُنِي بِهِ , لَا يَبْقَيَنَّ فِي هَذَا الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا الْتَدَّ إِلَّا عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , يَعْنِي الْعَبَّاسَ , قَالَ: فَلَقَدْ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ , لِعَزْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں بیمار ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھتا گیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیہوشی طاری ہو گئی، ازواجِ مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک میں دوا ڈالنے کے لئے باہم مشورہ کیا، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک میں دوا ڈال دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب افاقہ ہو گیا، تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا کہ یہ آپ کی ازواجِ مطہرات کا کام ہے جو یہاں سے آئی ہیں اور ارض حبشہ کی طرف اشارہ کیا، ان میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا خیال تھا کہ آپ کو ذات الجنت کی بیماری کا عارضہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی بیماری ہے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے مبتلا نہیں کرے گا، اس گھر میں کوئی بھی آدمی ایسا نہ رہے جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی جائے، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے، چنانچہ اس دن حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے منہ میں دوا ڈالی گئی، حالانکہ وہ اس دن روزے سے تھیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید سے اس کا حکم دیا تھا۔

27470

Musnad Ahmad #27470

Hasan

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ , قَالَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمْ الْعَيْنُ , أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ قَالَ: " نَعَمْ , فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقٌ الْقَدَرَ , لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! جعفر کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے، کیا میں ان پر دم کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی تو وہ نظر بد ہوتی۔“

27471

Musnad Ahmad #27471

Zaeef

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِى ابْنَ يَزِيدَ الْأَيْلِيَّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شَدَّادٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ , قَالَتْ: كُنْتُ صَاحِبَةَ عَائِشَةَ الَّتِي هَيَّأَتْهَا وَأَدْخَلَتْهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي نِسْوَةٌ , قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا عِنْدَهُ قِرًى إِلَّا قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ , قَالَتْ: فَشَرِبَ مِنْهُ , ثُمَّ نَاوَلَهُ عَائِشَةَ , فَاسْتَحْيَتْ الْجَارِيَةُ , فَقُلْنَا: لَا تَرُدِّي يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , خُذِي مِنْهُ , فَأَخَذَتْهُ عَلَى حَيَاءٍ , فَشَرِبَتْ مِنْهُ , ثُمَّ قَالَ: نَاوِلِي صَوَاحِبَكِ" , فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِهِ , فَقَالَ:" لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ لَا أَشْتَهِيهِ , يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا؟ قَالَ: " إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تُكْتَبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تیار کرنے والی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انہیں پیش کرنے والی میں ہی تھی، میرے ساتھ کچھ اور عورتیں بھی تھیں، واللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم نے مہمان نوازی کے لئے دودھ کے ایک پیالے کے علاوہ کچھ نہیں پایا، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خود نوش فرمایا، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ پیالہ پکڑا دیا، وہ شرما گئیں، ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ واپس نہ لوٹاؤ، بلکہ یہ برتن لے لو، چنانچہ انہوں نے شرماتے ہوئے وہ پیالہ پکڑ لیا اور اس میں سے تھوڑا سا دودھ پی لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی سہیلیوں کو دے دو“، ہم نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا مت کرو“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کوئی عورت کسی چیز کی خواہش رکھتی ہو اور وہ کہہ دے مجھے خواہش نہیں ہے تو کیا اسے جھوٹ میں شمار کیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹ کو جھوٹ لکھا جاتا ہے اور چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ لکھا جاتا ہے۔“