Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1228

قبائل سے روایات

حضرت ام علاء انصاریہ کی حدیثیں

3 hadiths in this chapter

27457

Musnad Ahmad #27457

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , وَيَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ , قَالَ يَعْقُوبُ: أَخْبَرْتُهُ , أَنَّهَا بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى , قَالَ يَعْقُوبُ: طَارَ لَهُمْ فِي السُّكْنَى , حِينَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ , قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: فَاشْتَكَى عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ عِنْدَنَا , فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَدْرَجْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ , فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ يَا أَبَا السَّائِبِ , شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ؟" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا هُوَ , فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ مِنْ رَبِّهِ , وَإِنِّي لَأَرْجُو الْخَيْرَ له , وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي" , قَالَ يَعْقُوبُ: بِهِ , قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا , فَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ , فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي , فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ عَمَلُهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا ”جو انصاری خواتین میں سے تھیں“ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے اور مہاجرین کی رہائش کے لئے انصار کے درمیان قرعہ اندازی کی گئی، ہمارے یہاں پہنچ کر ہمارے مہمان حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، ہم ان کی تیماداری کرتے رہے، جب وہ فوت ہو گئے تو ہم نے انہیں کفن میں لپیٹ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، میں نے کہا: اے ابوالسائب! اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں، میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو معزز کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف سے یقین آ گیا، میں ان کے لئے خیر کی امید رکھتا ہوں، لیکن واللہ مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود یہ علم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا؟“ میں نے عرض کیا: واللہ! آج کے بعد میں کبھی کسی کی پاکیزگی کا اعلان نہیں کروں گی، میں اس واقعے پر غمگین تھی، اسی حال میں سو گئی، میں نے خواب دیکھا کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے لئے ایک چشمہ جاری ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ خواب ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان کے اعمال تھے۔“

27458

Musnad Ahmad #27458

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: كَانَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةُ , تَقُولُ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ , اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ عَلَى سَكَنِهِمْ , فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى , فَذَكَرَتْ الْحَدِيثَ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

27459

Musnad Ahmad #27459

Sahih

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ , عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أُمِّهِ , قَالَتْ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِضَ , قَالَتْ أُمُّ خَارِجَةَ بِنْتُ زَيْدٍ: طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ , خَيْرُ أَيَّامِكَ الْخَيْرُ , فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" , قَالَتْ: أَنَا , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا يُدْرِيكِ؟" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ , مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا , وَهَذَا أَنَا رَسُولُ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا ”جو انصاری خواتین میں سے تھیں“ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے اور مہاجرین کی رہائش کے لئے انصار کے درمیان قرعہ اندازی کی گئی، ہمارے یہاں پہنچ کر ہمارے مہمان حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، ہم ان کی تیماداری کرتے رہے، جب وہ فوت ہو گئے تو ہم نے انہیں کفن میں لپیٹ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، میں نے کہا: اے ابوالسائب! اللہ کی رحمیتیں آپ پر نازل ہوں، میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو معزز کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف سے یقین آ گیا، میں ان کے لئے خیر کی امید رکھتا ہوں، لیکن واللہ مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود یہ علم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہو گا؟“