Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1216

قبائل سے روایات

ام سلیم کی حدیث

7 hadiths in this chapter

27426

Musnad Ahmad #27426

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ , يُحَدِّثُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَسٌ خَادِمُكَ , ادْعُ اللَّهَ لَهُ , قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ , َبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ" , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: أَخْبَرَنِي بَعْضُ وَلَدِي , أَنَّهُ قَدْ دُفِنَ مِنْ وَلَدِي , وَوَلَدِ وَلَدِي أَكْثَرُ مِنْ مِائَةٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے، اس کے لئے اللہ سے دعا کر دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں اضافہ فرما اور جو کچھ اس کو عطاء فرما رکھا ہے اس میں برکت عطاء فرما“، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اپنی اولاد میں سے کسی نے بتایا ہے کہ اب تک میرے بیٹوں اور پوتوں میں سے سو سے زیادہ افراد دفن ہو چکے ہیں۔

27427

Musnad Ahmad #27427

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَمَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ مُقَاوَلَةٌ فِي ذَلِكَ , فَقَالَ زَيْدٌ: لَا تَنْفِرُ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وإِذَا طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ , وَحَلَّتْ لِزَوْجِهَا , نَفَرَتْ إِنْ شَاءَتْ , وَلَا تَنْتَظِرُ , فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ , إِنَّكَ إِذَا خَالَفْتَ زَيْدًا لَمْ نُتَابِعْكَ , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَلُوا أُمَّ سُلَيْمٍ , فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ , فَأَخْبَرَتْ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ أَصَابَهَا ذَلِكَ , فَقَالَتْ عَائِشَةُ: الْخَيْبَةُ لَكِ , حَبَسْتِينَا , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ , وَأَخْبَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا لَقِيَتْ ذَلِكَ , " فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْفِرَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان اس عورت کے حوالے سے اختلاف رائے ہو گیا جو دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کر لے اور اس کے فوراً بعد ہی اسے ”ایام“ شروع ہو جائیں، حضرت زید رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ جب تک وہ طواف وداع نہ کر لے واپس نہیں جا سکتی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ اگر وہ دس دی الحجہ کو طواف کر چکی ہے اور اپنے خاوند کے لئے حلال ہو چکی ہے تو وہ اگر چاہے تو واپس جا سکتی ہے اور انتظار نہ کرے، انصار کہنے لگے: اے ابن عباس! اگر آپ کسی مسئلے میں زید سے اختلاف کریں گے تو ہم اس میں آپ کی پیروی نہیں کریں گے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کے متعلق حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہائے افسوس! تم ہمیں روکو گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوچ کا حکم دیا اور خود حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق بتایا کہ انہیں بھی یہی کیفیت پیش آ گئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی کوچ کا حکم دے دیا تھا۔

27428

Musnad Ahmad #27428

Zaeef

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ , أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ زَيْدِ ابْنِ بِنْتِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ , فِيهَا مَاءٌ , " فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مِنْ فِي الْقِرْبَةِ" , فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى فِي الْقِرْبَةِ , فَقَطَعَتْهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پیا، بعد میں میں نے اس مشکیزے کا منہ (جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ لگا کر پانی پیا تھا) کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔

27429

Musnad Ahmad #27429

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْلَى , وَمُحَمَّدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ , عَنْ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَتْهُ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ , إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ" , قَالَهَا ثَلَاثًا , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاثْنَانِ؟ قَالَ:" وَاثْنَانِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مسلمان آدمی جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو گئے ہوں، اللہ ان بچوں کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا“، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر دو ہوں تو؟ فرمایا: ”دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔“

27430

Musnad Ahmad #27430

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ , عَنِ الْبَرَاءِ ابْنِ بِنْتِ أَنَسٍ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ أُمِّهِ , قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ , " فَشَرِبَ مِنْهَا قَائِمًا" , فَقَطَعْتُ فَاهَا , وَإِنَّهُ لَعِنْدِي .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پیا، بعد میں میں نے اس مشکیزے کا منہ (جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ لگا کر پانی پیا تھا) کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔

27431

Musnad Ahmad #27431

Sahih

حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: وَقَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ زَيْدٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِزَيْدٍ: فَاسْأَلْ نِسَاءَكَ: أُمَّ سُلَيْمٍ وَصَوَاحِبَهَا , هَلْ أَمَرَهُنّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَسَأَلَهُنَّ زَيْدٌ , فَقُلْنَ: نَعَمْ , قَدْ أَمَرَنَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

اردو ترجمہ · Urdu

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن ثابٹ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان اس عورت کے حوالے سے اختلاف رائے ہو گیا جو دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کر لے اور اس کے فوراً بعد ہی اسے ”ایام“ شروع ہو جائیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کے متعلق حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی حکم دیا تھا۔

27432

Musnad Ahmad #27432

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الزِّيَارَةِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ بَعْدَمَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ , فَقَالَ زَيْدٌ: يَكُونُ آخِرَ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَنْفِرُ إِنْ شَاءَتْ , فَقَالَ الْأَنْصَارُ: لَا نُتَابِعُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ , وَأَنْتَ تُخَالِفُ زَيْدًا , وَقَالَ: وَاسْأَلُوا صَاحِبَتَكُمْ أُمَّ سُلَيْمٍ , فَقَالَتْ: حِضْتُ بَعْدَمَا طُفْتُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ , فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْفِرَ , وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: الْخَيْبَةُ لَكِ , إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان اس عورت کے حوالے سے اختلاف رائے ہو گیا جو دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کر لے اور اس کے فوراً بعد ہی اسے ”ایام“ شروع ہو جائیں، حضرت زید رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ جب تک وہ طواف وداع نہ کر لے واپس نہیں جا سکتی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ اگر وہ دس دی الحجہ کو طواف کر چکی ہے اور اپنے خاوند کے لئے حلال ہو چکی ہے تو وہ اگر چاہے تو واپس جا سکتی ہے اور انتظار نہ کرے، انصار کہنے لگے: اے ابن عباس! اگر آپ کسی مسئلے میں زید سے اختلاف کریں گے تو ہم اس میں آپ کی پیروی نہیں کریں گے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کے متعلق حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہائے افسوس! تم ہمیں روکو گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوچ کا حکم دیا اور خود حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق بتایا کہ انہیں بھی یہی کیفیت پیش آ گئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی کوچ کا حکم دے دیا تھا۔