Musnad Ahmad #27377
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ , عَنْ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ , وَهِيَ خَالَتُهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهَا , فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا يُضْحِكُكَ؟ فَقَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ , كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , فَقَالَ:" إِنَّكِ مِنْهُمْ" , ثُمَّ نَامَ , فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ:" عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ , كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ" , قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ , فَأَخْرَجَهَا مَعَهُ , فَلَمَّا جَازَ الْبَحْرَ بِهَا , رَكِبَتْ دَابَّةً , فَصَرَعَتْهَا , فَقَتَلَتْهَا .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں قیولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے، میں نے عرض کیا کہ میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوار چلے جا رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں“، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعا کر دیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں بھی ان میں شامل فرما دے۔“ تھوڑی ہی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس مرتبہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے وہی سوال دہرایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی مزید کچھ لوگوں کو اس طرح پیش کیے جانے کا تذکرہ فرمایا: میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعا کر دیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے گروہ میں شامل ہو“، چنانچہ وہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ و سفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔