Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1194

قبائل سے روایات

30 hadiths in this chapter

27320

Musnad Ahmad #27320

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ , قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي , وَأَرْسَلَ إِلَيَّ خَمْسَةَ آصُعِ شَعِيرٍ , فَقُلْتُ: مَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا؟ وَلَا أَعْتَدُّ إِلَّا فِي بَيْتِكُمْ؟! قَالَ: لَا , فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي , ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" كَمْ طَلَّقَكِ؟" , قُلْتُ: ثَلَاثًا , قَالَ: " صَدَقَ , لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ , وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ , تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عَنْكِ , فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي" , قَالَتْ: فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ , فِيهِمْ مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ , وَأَبُو جَهْمٍ يَضْرِبُ النِّسَاءَ أَيْ فِيهِ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ" , أَوْ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ ابْنَ زَيْدٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس سے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دئیے، میں نے کہا: میرے پاس خرچ کرنے کے لئے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے گھر ہی کی عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا تین طلاقیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“

27321

Musnad Ahmad #27321

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى فَاطِمَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , بِنَحْوِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔

27322

Musnad Ahmad #27322

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , تَقُولُ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا , " فَمَا جَعَلَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔

27323

Musnad Ahmad #27323

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔

27324

Musnad Ahmad #27324

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ , سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَحْلَلْتِ فَآذِنِينِي" , فَآذَنَتْهُ , فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ , وَأَبُو الْجَهْمِ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ , وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ , وَلَكِنْ أُسَامَةَ" , قَالَ: فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا: أُسَامَةُ! تَقُولُ: لَمْ تُرِدْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ" , فَتَزَوَّجَتْهُ , فَاغْتَبَطَتْهُ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا“، عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا، جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا: اسامہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے حق میں اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا زیادہ بہتر ہے، چنانچہ میں نے اس رشتے کو منظور کر لیا بعد میں لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔

27325

Musnad Ahmad #27325

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبِي عَاصِمٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ذَكَرَ الْمَدِينَةَ , فَقَالَ:" هِيَ طَيْبَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ طیبہ ہے۔

27326

Musnad Ahmad #27326

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا: " لَيْسَ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق یافتہ عورت کے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔

27327

Musnad Ahmad #27327

Sahih

قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِك ٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ , فَتَسَخَّطَتْهُ , فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ , فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ عَلَيْهِ" , فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ , ثُمَّ قَالَ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي , فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ , فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" , فَلَمَّا حَلَلْتُ , ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا الْجَهْمِ خَطَبَانِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ , وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ , انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دئیے، میں نے کہا: میرے پاس خرچ کرنے کے لئے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے گھر ہی کی عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا: تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہوچکی ہے تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا، جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں ابوجہم جبکہ عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“

27328

Musnad Ahmad #27328

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , وَهُوَ غَائِبٌ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , وَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" , فَكَرِهْتُهُ , فَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" , فَنَكَحْتُهُ , فَجَعَلَ اللَّهُ لِي فِيهِ خَيْرًا.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

27329

Musnad Ahmad #27329

Sahih

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنِ السُّدِّيِّ , عَنِ الْبَهِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" ، قَالَ حَسَنٌ: قَالَ السُّدِّيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، فَقَالَا: قَالَ عمر: لَا تُصَدِّقْ فَاطِمَةَ , لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق یافتہ عورت کے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ ابراہیم اور شعبی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ فاطمہ کی بات کی تصدیق نہ کرو ایسی عورت کو رہائش اور نفقہ دونوں ملیں گے۔

27330

Musnad Ahmad #27330

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق یافتہ عورت کے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔

27331

Musnad Ahmad #27331

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ نَزَلَتْ , وَلَا لِرَهْبَةٍ , وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ , فَقَذَفَتْهُمْ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ , فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ أَشْعَرَ , لَا يُدْرَى أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، مِنْ كَثْرَةِ شَعْرِهِ , فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ , قَالُوا: فَأَخْبِرِينَا , قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ , وَلَا، وَلَكِنْ فِي هَذَا الدَّيْرِ رَجُلٌ فَقِيرٌ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَيَسْتَخْبِرَكُمْ , فَدَخَلُوا الدَّيْرَ , فَإِذَا رَجُلٌ ضَرِيرٌ , وَمُصَفَّدٌ فِي الْحَدِيدِ , فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: نَحْنُ الْعَرَبُ , قَالَ: هَلْ بُعِثَ فِيكُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ , قَالَ: فَهَلْ اتَّبَعَهُ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ , قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ هَلْ ظَهَرَ عَلَيْهَا , قَالُوا: لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا بَعْدُ , قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا , ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: هِيَ تَدْفُقُ مَلْأَى , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ طَبَرِيَّةَ؟ قَالُوا: هِيَ تَدْفُقُ مَلْأَى , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ هَلْ أَطْعَمَ بَعْدُ؟ قَالُوا: قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ , قَالَ: فَوَثَبَ وَثْبَةً ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَفْلِتُ , فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ , أَمَا إِنِّي سَأَطَأُ الْأَرْضَ كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ , فَإِنَّ هَذِهِ طَيْبَةُ , لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور ظہر کی نماز پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو فرمایا کہ بیٹھے رہو! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ حیران ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! اپنی نماز کی جگہ پر ہی بیٹھے رہو! میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔ میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری میرے پاس آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہو گئے اور مجھے ایک بات بتائی کہ وہ اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے، اچانک سمندر میں طوفان آ گیا، وہ سمندر میں ایک نامعلوم جزیرے کی طرف پہنچے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرے کے اندر داخل ہوئے، تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا، انہیں سمجھ نہ آئی کہ وہ مرد ہے یا عورت، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا، انہوں نے کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: اے قوم! اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اس نے بتایا کہ میں جساسہ ہوں، چنانچہ وہ چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہو گئے، وہاں ایک انسان تھا جسے انتہائی سختی کے ساتھ باندھا گیا تھا، اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب کے لوگ ہیں، اس نے پوچھا کہ اہل عرب کا کیا بنا؟ کیا ان کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں! اس نے پوچھا: پھر اہل عرب نے کیا کیا؟ انہوں نے بتایا کہ اچھا کیا، ان پر ایمان لے آئے اور ان کی تصدیق کی اس نے کہا کہ انہوں نے اچھا کیا، پھر اس نے پوچھا کہ اہل فارس کا کیا بنا؟ کیا وہ ان پر غالب آ گئے؟ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تک تو اہل فارس پر غالب نہیں آئے، اس نے کہا کہ یاد رکھو! عنقریب وہ ان پر غالب آ جائیں گے، اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: یہ کثیر پانی والا ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں، پھر اس نے کہا: نخل بیسان کا کیا بنا؟ کیا اس نے پھل دینا شروع کیا؟ انہوں نے کہا کہ اس کا ابتدائی حصہ پھل دینے لگا ہے، اس پر وہ اتنا اچھلا کہ ہم سجھے یہ ہم پر حملہ کر دے گا، ہم نے اس سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا کہ میں مسیح (دجال) ہوں، عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے گی، پس میں نکلوں گا تو زمین میں چکر لگاؤں گا اور چالیس راتوں میں ہر ہر بستی پر اتروں گا مکہ اور طیبہ کے علاوہ کیونکہ ان دونوں پر داخل ہونا میرے لئے حرام کر دیا گیا ہے“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانو! خوش ہو جاؤ کہ طیبہ یہی مدینہ ہے، اس میں دجال داخل نہ ہو سکے گا۔“

27332

Musnad Ahmad #27332

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ , قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَ: فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , قَالَتْ: وَوَضَعَ لِي عَشْرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ: خَمْسَةً شَعِيرٍ , وَخَمْسَةً تَمْرٍ , قَالَتْ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ ذَاكَ لَهُ، قَالَ: فَقَالَ: " صَدَقَ" , فَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ فُلَانٍ , قَالَ: وَكَانَ طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَائِنً .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس کے ساتھ پانچ قفیز کی مقدار میں جَو اور پانچ قفیز کی مقدار میں کھجور بھیج دی، اس کے علاوہ رہائش یا کوئی خرچہ نہیں دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو“، یاد رہے کہ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائن دی تھی۔

27333

Musnad Ahmad #27333

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَ: كَتَبْتُ ذَاكَ مِنْ فِيهَا كِتَابًا , قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ , فَأَرْسَلْتُ إِلَى أَهْلِهِ أَبْتَغِي النَّفَقَةَ , فَقَالُوا: لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِمْ نَفَقَةٌ , وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ , انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ , وَلَا تَفُوتِينِي بِنَفْسِكِ" , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأُوَلِ , انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ رَجُلٌ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ , فَإِنْ وَضَعْتِ مِنْ ثِيَابِكِ شَيْئًا , لَمْ يَرَ شَيْئًا" , قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ , خَطَبَنِي مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مُعَاوِيَةُ , فَعَائِلٌ لَا مَالَ لَهُ , وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ , فَإِنَّهُ رَجُلٌ لَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ , أَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ" , وَكَانَ أَهْلُهَا كَرِهُوا ذَلِكَ , قَالَتْ: لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي دَعَانِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَكَحَتْهُ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دئیے، میں نے کہا: میرے پاس خرچ کرنے کے لئے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے گھر میں ہی عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“

27334

Musnad Ahmad #27334

Hasan

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا أَبِى , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ ابْنِ لُؤَيٍّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , وَكَانَ قَدْ طَلَّقَنِي تَطْلِيقَتَيْنِ , ثُمَّ إِنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، فَبَعَثَ إِلَيَّ بِتَطْلِيقَتِي الثَّالِثَةِ، وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِ بِالْمَدِينَةِ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ , قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: نَفَقَتِي وَسُكْنَايَ؟ فَقَالَ: مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا سُكْنَى , إِلَّا أَنْ نَتَطَوَّلَ عَلَيْكِ مِنْ عِنْدِنَا بِمَعْرُوفٍ نَصْنَعُهُ , قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَئِنْ لَمْ يَكُنْ لِي , مَالِي بِهِ مِنْ حَاجَةٍ , قَالَتْ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي , وَمَا قَالَ لِي عَيَّاشٌ , فَقَالَ: " صَدَقَ , لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِمْ نَفَقَةٌ وَلَا سُكْنَى , وَلَيْسَتْ لَهُ فِيكِ رَدَّةٌ , وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ , فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ابْنَةِ عَمِّكِ , فَكُونِي عِنْدَهَا حَتَّى تَحِلِّي" , قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ:" لَا , تِلْكَ امْرَأَةٌ يَزُورُهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ مَكْفُوفُ الْبَصَرِ , فَكُونِي عِنْدَهُ , فَإِذَا حَلَلْتِ , فَلَا تَفُوتِينِي بِنَفْسِكِ" , قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُرِيدُنِي إِلَّا لِنَفْسِهِ , قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ، خَطَبَنِي عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , فَزَوَّجَنِيهِ , قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَمْلَتْ عَلَيَّ حَدِيثَهَا هَذَا , وَكَتَبْتُهُ بِيَدِي.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے دو طلاق کا پیغام بھیج دیا، پھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن چلا گیا اور وہاں سے مجھے تیسری طلاق بھجوا دی، اس وقت مدینہ منورہ میں اس کے ذمہ دار عیاش بن ابی ربیعہ تھے، میں نے کہا کہ میرے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے ہی گھر میں عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا، تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“

27335

Musnad Ahmad #27335

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , مِثْلَ ذَلِكَ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

27336

Musnad Ahmad #27336

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ , أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ , وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ , فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي , وَأَمَرَ وَكِيلًا لَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ , فَاسْتَقَلَّتْهَا , وَانْطَلَقَتْ إِلَى إِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهِيَ عِنْدَهَا , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , طَلَّقَهَا فُلَانٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا , وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ , قَالَ: " صَدَقَ" , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْتَقِلِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , وقَالَ أَبِي: وَقَالَ الْخَفَّافُ: أُمِّ كُلْثُومٍ , فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا" , ثُمَّ قَالَ:" لَا , أُمُّ كُلْثُومٍ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا , وَلَكِنْ: انْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ أَعْمَى" , فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ , فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ , حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا , ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو جَهْمٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ , فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا , فَقَالَ:" أَبُو جَهْمٍ , أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا , وقَالَ الخفَافُ: قَصْقَاصَتَهُ لِلْعَصَا , وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ , فَرَجُلٌ أَخْلَقُ مِنَ الْمَالِ" , فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اپنے وکیل کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دیئے، میں نے کہا کہ میرے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے ہی گھر میں عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا: تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام ِ نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔"

27337

Musnad Ahmad #27337

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ , فَأَرْسَلَ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا , وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ , فَقَالَا لَهَا: وَاللَّهِ مَا لَكِ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا , فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَوْلَهُمَا , فَقَالَ: " لَا , إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا" , وَاسْتَأْذَنَتْهُ لِلِانْتِقَالِ , فَأَذِنَ لَهَا , فَقَالَتْ: أَيْنَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" , وَكَانَ أَعْمَى , تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ , وَلَا يَرَاهَا , فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا , أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ , يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ , فَحَدَّثَتْهُ بِهِ , فَقَالَ مَرْوَانُ: لَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مِنَ امْرَأَةٍ , سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ الْقُرْآنُ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ حَتَّى بَلَغَ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا سورة الطلاق آية 1 , قَالَتْ: هَذَا لِمَنْ كَانَ لَهُ مُرَاجَعَةٌ , فَأَيُّ أَمْرٍ يُحْدِثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ؟ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، اس وقت وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن گیا ہوا تھا، اس نے حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نفقہ دینے کے لئے بھی کہا لیکن وہ کہنے لگے کہ واللہ! تمہیں اس وقت تک نفقہ نہیں مل سکتا جب تک تم حاملہ نہ ہو، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا، ایک مرتبہ مروان نے قبیصہ بن ذؤیب کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کر دی، مروان کہنے لگا کہ یہ حدیث تو ہم نے محض ایک عورت سے سنی ہے، ہم عمل اسی پر کریں گے، جس پر ہم نے لوگوں کو عمل کرتے پایا ہے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات معلوم ہوئی، تو انہوں نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان قرآن فیصلہ کرے گا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ حَتَّى بَلَغَ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» ”تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الاّ یہ کہ وہ واضح بےحیائی کا کوئی کام کریں“، شاید اس کے بعد اللہ اس کے سامنے کوئی نئی صورت پیدا کردے، انہوں نے فرمایا: یہ حکم تو اس شخص کے متعلق ہے جو رجوع کر سکتا ہو، یہ بتاؤ کہ تین طلاقوں کے بعد کون سی نئی صورت پیدا ہو گی۔

27338

Musnad Ahmad #27338

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , قَالَ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عَامِرٌ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ , " فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" , قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ , لَعَلَّهَا نَسِيَتْ , قَالَ: قَالَ عَامِرٌ: وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ محض ایک عورت کی بات پر ہم کتاب اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ نہیں سکتے، ہو سکتا ہے کہ وہ عورت بھول گئی ہو اور امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا تھا۔

27339

Musnad Ahmad #27339

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ , أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , خَالَتَهَا , " وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا خَالَتُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , فَنَقَلَتْهَا إِلَى بَيْتِهَا , وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ عَلَى الْمَدِينَةِ , قَالَ قَبِيصَةُ: فَبَعَثَنِي إِلَيْهَا مَرْوَانُ , فَسَأَلْتُهَا مَا حَمَلَهَا عَلَى أَنْ تُخْرِجَ امْرَأَةً مِنْ بَيْتِهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؟ قَالَ: فَقَالَتْ: لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِذَلِكَ , قَالَ: ثُمَّ قَصَّتْ عَلَيَّ حَدِيثَهَا , ثُمَّ قَالَتْ: وَأَنَا أُخَاصِمُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ , يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ: إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ إِلَى لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا سورة الطلاق آية 1 , ثُمَّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ الثَّالِثَةَ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ سورة الطلاق آية 2 , وَاللَّهِ مَا ذَكَرَ اللَّهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ حَبْسًا , مَعَ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى مَرْوَانَ , فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا , فَقَالَ: حَدِيثُ امْرَأَةٍ , حَدِيثُ امْرَأَةٍ , قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالْمَرْأَةِ , فَرُدَّتْ إِلَى بَيْتِهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا علیہم ”جو کہ بنت سعید زید کی خالہ تھیں اور وہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھیں“ سے مروی ہے کہ انہیں ان کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں، ان کی خالہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس ایک قاصد بھیج کر انہیں یہاں بلا لیا، اس زمانے میں مدینہ منورہ کا گورنر مروان بن حکم تھا، قبیصہ کہتے ہیں کہ مروان نے مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے ایک عورت کو اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے اس کے گھر سے نکلنے پر مجبور کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہی حکم دیا تھا، پھر انہوں نے مجھے وہ حدیث سنائی، پھر فرمایا کہ میں اپنی دلیل میں قرآن کریم سے بھی اجتہاد کرتی ہوں، اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ «إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ إِلَى لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» ”اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو، تو زمانہ عدت (طہر) میں طلاق دیا کرو اور عدت کے ایام گنتے رہا کرو اور اللہ سے جو تمہارا رب ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں اپنے گھر سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الاّ یہ کہ وہ کھلی بےحیائی کا کوئی کام کریں۔“ شاید اس کے بعد اللہ کوئی نیا فیصلہ فرما دے۔ تیسرے درجے میں فرمایا: «فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ الثَّالِثَةَ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ» ”جب وہ اپنی عدت پوری کر چکیں تو تم انہیں اچھی طرح رکھو یا اچھے طریقے سے رخصت کرو۔“ بخدا اللہ تعالیٰ نے اس تیسرے درجے کے بعد عورت کو روک کر رکھنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہی حکم دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں مروان کے پاس آیا اور اسے یہ ساری بات بتائی، اس نے کہا کہ یہ تو ایک عورت کی بات ہے، یہ تو ایک عورت کی بات ہے، پھر اس نے ان کی بھانجی کو اس کے گھر واپس بھیجنے کا حکم دیا چنانچہ اسے واپس بھیج دیا یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی۔

27340

Musnad Ahmad #27340

Sahih

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , فَخَاصَمَتْهُ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَلَمْ يَجْعَلْ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَقَالَ:" يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ , إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لَهُ رَجْعَةٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا اور فرمایا کہ اے بنت آل قیس! رہائش اور نفقہ اسے ملتا ہے جس سے رجوع کیا جا سکتا ہو۔

27341

Musnad Ahmad #27341

Sahih

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو ابْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ , فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا , " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى" , فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا , وَقَالَ عُرْوَةُ: أَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو“، مروان اس حدیث سے انکار کرتا تھا اور مطلقہ عورت کو اس کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور بقول عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس کا انکار کرتی تھیں۔

27342

Musnad Ahmad #27342

Sahih

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ , وَحُصَيْنٌ , وَمُغِيرَةُ , وَأَشْعَثُ , وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ , وَدَاوُدُ , وَحَدَّثَنَاهُ مُجَالِدٌ , وَإِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ سَالِم , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ , قَالَتْ: فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ , قَالَتْ: " فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔

27343

Musnad Ahmad #27343

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ مُجَالِدٍ , عن عَامِرٍ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهَا فِي عِدَّتِهَا: " لَا تَنْكِحِي حَتَّى تُعْلِمِينِي" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دوران عدت فرمایا کہ مجھے بتائے بغیر شادی نہ کرنا۔

27344

Musnad Ahmad #27344

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا , فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَقَالَ: " إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ" , وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کوئی سکنی اور نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو۔“ اور فرمایا: ”رہائش اور نفقہ اسے ملتا ہے جس سے رجوع کیا جاسکتا ہو۔“

27345

Musnad Ahmad #27345

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا , فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو۔“

27346

Musnad Ahmad #27346

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي السَّبِيعِيَّ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا , فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ , فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَاعْتَدِّي عِنْدَهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو۔“

27347

Musnad Ahmad #27347

Sahih

حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ , فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا , " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى" , فَأَبَى مَرْوَانُ إِلَّا أَنْ يَتَّهِمَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا , وَزَعَمَ عُرْوَةُ , قَالَ: قَالَ: فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ عَلَى فَاطِمَةَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو“، مروان اس حدیث سے انکار کرتا تھا اور مطلقہ عورت کو اس کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور بقول عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس کا انکار کرتی تھیں۔

27348

Musnad Ahmad #27348

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ , فَأَتَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ , فَقَالَ لِي أَخُوهُ: اخْرُجِي مِنَ الدَّارِ , فَقُلْتُ: إِنَّ لِي نَفَقَةً وَسُكْنَى حَتَّى يَحِلَّ الْأَجَلُ , قَالَ: لَا , قَالَتْ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: إِنَّ فُلَانًا طَلَّقَنِي , وَإِنَّ أَخَاهُ أَخْرَجَنِي , وَمَنَعَنِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَقَالَ:" مَا لَكَ وَلِابْنَةِ آلِ قَيْسٍ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَخِي طَلَّقَهَا ثَلَاثًا جَمِيعًا , قَالَتْ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرِي أَيْ بِنْتَ آلِ قَيْسٍ , إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا مَا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ , فَلَا نَفَقَةَ وَلَا سُكْنَى , اخْرُجِي فَانْزِلِي عَلَى فُلَانَةَ" , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ يُتَحَدَّثُ إِلَيْهَا , انْزِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ أَعْمَى , لَا يَرَاكِ" , ثُمَّ قَالَ:" لَا تَنْكِحِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُنْكِحُكِ" , قَالَتْ: فَخَطَبَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ , فَقَالَ:" أَلَا تَنْكِحِينَ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ؟" , فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَنْكِحْنِي مَنْ أَحْبَبْتَ , قَالَتْ: فَأَنْكَحَنِي مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ .

اردو ترجمہ · Urdu

امام عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک دستہ کے ساتھ روانہ فرما دیا، تو مجھ سے اس کے بھائی نے کہا کہ تم اس گھر سے نکل جاؤ، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا عدت ختم ہونے تک مجھے نفقہ اور رہائش ملے گی؟ اس نے کہا: نہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئی اور عرض کیا کہ فلاں شخص نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس کا بھائی مجھے گھر سے نکال رہا ہے اور نفقہ اور سکنی بھی نہیں دے رہا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیج کر اسے بلایا اور فرمایا: ”بنت آل قیس کے ساتھ تمہارا کیا جھگڑا ہے؟“ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے بھائی نے اسے اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنت آل قیس! دیکھو، شوہر کے ذمے اس بیوی کا نفقہ اور سکنی واجب ہوتا ہے جس سے ہو رجوع کر سکتا ہو اور جب اس کے پاس رجوع کی گنجائش نہ ہو تو عورت کو نفقہ اور سکنی نہیں ملتا، اس لئے تم اس گھر سے فلاں عورت کے گھر منتقل ہو جاؤ“، پھر فرمایا: ”اس کے یہاں لوگ جمع ہو کر باتیں کرتے ہیں اس لئے تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ، کیونکہ وہ نابینا ہیں اور تمہیں دیکھ نہیں سکیں گے اور تم آئندہ نکاح خود سے نہ کرنا بلکہ میں خود تمہارا نکاح کروں گا“، اسی دوران مجھے قریش کے ایک آدمی نے پیغام بھیجا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورہ کرنے حاضر ہوئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس شخص سے نکاح نہیں کر لیتیں جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ جس سے چاہیں میرا نکاح کرا دیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت اسامہ بن زید کے نکاح میں دے دیا۔

27349

Musnad Ahmad #27349

Sahih

قَالَ: فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ , قَالَتْ: اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: قَالَ: فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ , قَالَتْ: اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ فَصَلَّى صَلَاةَ الْهَاجِرَةِ , ثُمَّ قَعَدَ , فَفَزِعَ النَّاسُ , فَقَالَ: " اجْلِسُوا أَيُّهَا النَّاسُ , فَإِنِّي لَمْ أَقُمْ مَقَامِي هَذَا لِفَزَعٍ , وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي , فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا مَنَعَنِي مِنَ الْقَيْلُولَةِ , مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ , فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَنْشُرَ عَلَيْكُمْ فَرَحَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَخْبَرَنِي أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عَمِّهِ رَكِبُوا الْبَحْرَ , فَأَصَابَتْهُمْ رِيحٌ عَاصِفٌ , فَأَلْجَأَتْهُمْ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ لَا يَعْرِفُونَهَا , فَقَعَدُوا فِي قُوَيْرِبِ سَفِينَةٍ , حَتَّى خَرَجُوا إِلَى الْجَزِيرَةِ , فَإِذَا هُمْ بِشَيْءٍ أَهْلَبَ كَثِيرِ الشَّعْرِ , لَا يَدْرُونَ أَرَجُلٌ هُوَ أَوْ امْرَأَةٌ , فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ , فَرَدَّ عَلَيْهِمْ السَّلَامَ , فَقَالُوا: أَلَا تُخْبِرُنَا؟ فَقَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكُمْ , وَلَا مُسْتَخْبِرِكُمْ , وَلَكِنَّ هَذَا الدَّيْرَ قَدْ رَهِقْتُمُوهُ , فَفِيهِ مَنْ هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَيَسْتَخْبِرَكُمْ , قَالُوا: قُلْنَا: مَا أَنْتَ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ , فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا الدَّيْرَ , فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مُوثَقٍ شَدِيدِ الْوَثَاقِ , مُظْهِرٍ الْحُزْنَ , كَثِيرِ التَّشَكِّي , فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنَ الْعَرَبِ , قَالَ: مَا فَعَلَتْ الْعَرَبُ , أَخَرَجَ نَبِيُّهُمْ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: خَيْرًا , آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ , قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ , وَكَانَ لَهُ عَدُوٌّ , فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ , قَالَ: فالْعَرَبُ الْيَوْمَ إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ , وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ , وَكَلِمَتُهُمْ وَاحِدَةٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالَ: قَالُوا: صَالِحَةٌ يَشْرَبُ مِنْهَا أَهْلُهَا لِشَفَتِهِمْ، وَيَسْقُونَ مِنْهَا زَرْعَهُمْ , قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ؟ قَالُوا: صَالِحٌ يُطْعِمُ جَنَاهُ كُلَّ عَامٍ , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: مَلْأَى , قَالَ: فَزَفَرَ , ثُمَّ زَفَرَ , ثُمَّ زَفَرَ , ثُمَّ حَلَفَ: لَوْ خَرَجْتُ مِنْ مَكَانِي هَذَا , مَا تَرَكْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ اللَّهِ إِلَّا وَطِئْتُهَا , غَيْرَ طَيْبَةَ , لَيْسَ لِي عَلَيْهَا سُلْطَانٌ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَى هَذَا انْتَهَى فَرَحِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّ طَيْبَةَ الْمَدِينَةُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الدَّجَّالِ أَنْ يَدْخُلَهَا" , ثُمَّ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ , مَا لَهَا طَرِيقٌ ضَيِّقٌ , وَلَا وَاسِعٌ , فِي سَهْلٍ وَلَا جَبَلٍ , إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ بِالسَّيْفِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , مَا يَسْتَطِيعُ الدَّجَّالُ أَنْ يَدْخُلَهَا عَلَى أَهْلِهَا" , قَالَ عَامِرٌ: فَلَقِيتُ الْمُحْرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ , فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ فِي نَحْوِ الْمَشْرِقِ" , قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ , فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ فَاطِمَةَ , فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ , غَيْرَ أَنَّهَا قَالَتْ:" الْحَرَمَانِ عَلَيْهِ حَرَامٌ: مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں وہاں سے جانے لگا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناتی ہوں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے ظہر کی نماز پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو فرمایا: ”بیٹھے رہو“، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ حیران ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! اپنی نماز کی جگہ پر ہی رہو، میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔ میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری میرے پاس آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہو گئے اور مجھے ایک بات بتائی جس نے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک سے مجھے قیلولہ کرنے سے روک دیا، اس لئے میں نے چاہا کہ تمہارے پیغمبر کی خوشی تم تک پھیلا دوں، چنانچہ انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے، اچانک سمندر میں طوفان آ گیا، وہ سمندر میں ایک نامعلوم جزیرہ کی طرف پہنچے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ کے اندر داخل ہوئے تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا، انہیں سمجھ نہ آئی کہ وہ مرد ہے یا عورت، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا، انہوں نے کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: اے قوم! اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے بتایا کہ میں جساسہ ہوں، چنانچہ وہ چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہو گئے، وہاں ایک انسان تھا جسے انتہائی سختی کے ساتھ باندھا گیا تھا، وہ انتہائی غمگین اور بہت زیادہ شکایت کرنے والا تھا، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا اور پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب کے لوگ ہیں، اس نے پوچھا کہ اہل عرب کا کیا بنا؟ کیا ان کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں! اس نے پوچھا: پھر اہل عرب نے کیا کیا؟ انہوں نے بتایا کہ اچھا کیا، ان پر ایمان لے آئے اور ان کی تصدیق کی، اس نے کہا کہ انہوں نے اچھا کیا وہ ان کے دشمن تھے لیکن اللہ نے انہیں ان پر غالب کر دیا، اس نے پوچھا کہ اب عرب کا ایک خدا، ایک دین اور ایک کلمہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اس نے پوچھا: زغر چشمے کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا کہ صحیح ہے، لوگ اس کا پانی خود بھی پیتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو بھی اس سے سیراب کرتے ہیں، اس نے پوچھا: عمان اور بیسان کے درمیان باغ کیا کیا بنا؟ انہوں نے کہا کہ صحیح ہے اور ہر سال پھل دیتا ہے، اس نے پوچھا: بحیرہ طریہ کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا کہ بھرا ہوا ہے، اس پر وہ تین مرتبہ بےچینی اور قسم کھا کر کہنے لگا: اگر میں اس جگہ سے نکل گیا، تو اللہ کی زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جسے اپنے پاؤں تلے روند نہ دوں، سوائے طیبہ کے کہ اس پر مجھے کوئی قدرت نہیں ہو گی“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں پہنچ کر میری خوشی بڑھ گئی (تین مرتبہ فرمایا) مدینہ ہی طیبہ ہے اور اللہ نے میرے حرم میں داخل ہونا دجال پر حرام قرار دے رکھا ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، مدینہ کا کوئی تنگ یا کشادہ وادی اور پہاڑ ایسا نہیں ہے جس پر قیامت تک کے لئے تلوار سونتا ہوا فرشتہ مقرر نہ ہو، دجال اس شہر میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ عامر کہتے ہیں کہ پھر میں محرر بن ابی ہریرہ رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد صاحب نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی تھی جس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کوئی سنائی ہے البتہ والد صاحب نے بتایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”وہ مشرق کی جانب ہے۔“ پھر میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے یہ حدیث فاطمہ ذکر کی، انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بھی یہ حدیث اسی طرح سنائی تھی جیسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو سنائی ہے، البتہ انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ دونوں حرم یعنی مکہ اور مدینہ دجال پر حرام ہوں گے۔