Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1185

قبائل سے روایات

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث انصاری کی حدیثیں

2 hadiths in this chapter

27282

Musnad Ahmad #27282

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ , وَجَدَّتِي , عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ , وَأَنَّهَا قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , يَوْمَ بَدْرٍ , أَتَأْذَنُ فَأَخْرُجُ مَعَكَ، أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ , وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ يُهْدِي لِي شَهَادَةً؟ قَالَ: " قَرِّي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُهْدِي لَكِ شَهَادَةً"، وَكَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِيَةً لَهَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا , فَطَالَ عَلَيْهِمَا , فَغَمَّاهَا فِي الْقَطِيفَةِ حَتَّى مَاتَتْ , وَهَرَبَا , فَأَتَى عُمَرُ , فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قَدْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا وَهَرَبَا , فَقَامَ عُمَرُ فِي النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ وَرَقَةَ , يَقُولُ:" انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ" , وَإِنَّ فُلَانَةَ جَارِيَتَهَا وَفُلَانًا غُلَامَهَا، غَمَّاهَا , ثُمَّ هَرَبَا , فَلَا يُؤْوِيهِمَا أَحَدٌ , وَمَنْ وَجَدَهُمَا , فَلْيَأْتِ بِهِمَا , فَأُتِيَ بِهِمَا , فَصُلِبَا , فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے حوالہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ کے دن ان سے ملاقات کے لئے تشریف لے جاتے تھے، انہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر عرض کیا تھا کہ اے اللہ کے نبی! کیا مجھے اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیتے ہیں، میں آپ کے مریضوں کی تیمارداری کروں گی اور زخمیوں کا علاج کروں گی، شاید اللہ مجھے شہادت سے سرفراز کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں رہو، اللہ تمہیں شہادت عطاء فرما دے گا۔ ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک باندی اور غلام سے کہہ دیا تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو جاؤ گے، ان دونوں کو گزرتے دنوں کے ساتھ، ان کی عمر لمبی لگنے لگی چنانچہ ان دونون نے انہیں ایک چادر میں لپیٹ دیا جس میں دم گھٹ جانے سے وہ فوت ہو گئیں اور وہ دونوں فرار ہو گئے، کسی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آ کر بتایا کہ ام ورقہ کو ان کے غلام اور باندی قتل کر کے بھاگ گئے ہیں، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے اور فرماتے تھے آؤ، شہیدہ کی زیارت کر کے آئیں، اب انہیں ان کی فلاں باندی اور فلاں غلام نے چادر میں لپیٹ کر مار دیا ہے اور خود فرار ہو گے ہیں، کوئی شخص بھی انہیں پناہ نہ دے، بلکہ جسے وہ دونوں ملیں، انہیں پکڑ کر لے آئے، چنانچہ ایک آدمی نے ان دونوں کو پکڑ لیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا، یہ دونوں سولی کی سزا پانے والے پہلے لوگ تھے۔

27283

Musnad Ahmad #27283

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي , عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ , وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتْ الْقُرْآنَ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا" , وَكَانَ لَهَا مُؤَذِّنٌ , وَكَانَتْ تَؤُمُّ أَهْلَ دَارِهَا .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم مکمل یاد کر رکھا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اہل خانہ کی امامت کرانے کی اجازت دے رکھی تھی، ان کے لئے ایک مؤذن مقرر تھا اور وہ اپنے اہل خانہ کی امامت کیا کرتی تھیں۔