Musnad Ahmad #27199
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ ، عن عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ عُدَيْسَةَ ، عَنْ أَبِيهَا : جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: أَثَمَّ أَبُو مُسْلِمٍ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْخُذَ نَصِيبَكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَتُخِفْ فِيهِ؟ قَالَ:" يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيَّ خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكَ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ إِذَا كَانَتْ الْفِتْنَةُ أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ، وَقَدْ اتَّخَذْتُهُ، وَهُوَ ذَاكَ مُعَلَّقٌ" .
اردو ترجمہ · Urdu
عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے گھر بھی آئے اور گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا، والد صاحب نے انہیں جواب دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابومسلم! آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: خیریت سے ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں فتنے رونما ہونے لگیں تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں، یہ میری تلوار حاضر ہے، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلنے کو تیار ہوں اور وہ یہ لٹکی ہوئی ہے۔