Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1166

قبائل سے روایات

حضرت کعب بن مالک کی مرویات

14 hadiths in this chapter

27166

Musnad Ahmad #27166

Sahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، يبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: " أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي طَائِرٍ خُضْرٍ، تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ" , وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ:" نَسَمَةٌ تَعْلُقُ فِي ثَمَرَةٍ، أَوْ شَجَرِ الْجَنَّةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء کی روح سبز پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہے۔“ حضرت کعب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہے، تآنکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم میں واپس لوٹا دیں گے۔“

27167

Musnad Ahmad #27167

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، وَلَا يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے اور بعد میں اپنی انگلیاں چاٹ لیتے تھے۔

27168

Musnad Ahmad #27168

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ سَوْدَاءَ ذَبَحَتْ شَاةً بِمَرْوَةٍ، فَذَكَرَ كَعْبٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی ایک سیاہ فام باندی تھی جس نے ایک بکری کو ایک دھاری دار پتھر سے ذبح کر لیا، حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بکری کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔

27169

Musnad Ahmad #27169

Sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَوْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَخْبَرهُ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ , أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، فَإِذَا فَرَغَ لَعِقَهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے اور بعد میں اپنی انگلیاں چاٹ لیتے تھے۔

27170

Musnad Ahmad #27170

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا فِي الضُّحَى، فَيَبْدَأُ بِالْمَسْجِدِ فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَقْعُدُ فِيهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی چاشت کے وقت سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد میں جا کر دو رکعتیں پڑھتے تھے اور کچھ دیر وہاں بیٹھتے تھے۔

27171

Musnad Ahmad #27171

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: أََََنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سَعْدِ ابْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُفَيِّئُهَا الرِّيَاحُ، تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى، حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا، لَا يُقِلُّهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مؤمن کی مثال کھیتی کے ان دانوں کی سی ہے جنہیں ہوا اڑاتی رہتی ہے، کبھی برابر کرتی ہے اور کبھی دوسری جگہ لے جا کر پٹخ دیتی ہے، یہاں تک کہ اس کا وقت مقررہ آ جائے اور کافر کی مثال ان چاولوں کی سی ہے جو اپنی جڑ پر کھڑے رہتے ہیں، انہیں کوئی چیز نہیں ہلا سکتی یہاں تک کہ ایک ہی مرتبہ انہیں اتار لیا جاتا ہے۔“

27172

Musnad Ahmad #27172

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَا: أَنَا ابْنَُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَاب ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ حدثه , عن أبيه عبد الله بن كعب بن مالك , عن عمه، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، وَإِذَا قَدِمَ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے چاشت کے وقت واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے وہاں جا کر دو رکعتیں پڑھتے اور سلام پھیر کر اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھ جاتے تھے۔

27173

Musnad Ahmad #27173

Sahih

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , وَأَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ مُلَازِمٌ رَجُلًا، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَرِيمٌ لِي، وَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ يَأْخُذَ النِّصْفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعَمْ، قَالَ: فَأَخَذَ الشَّطْرَ وَتَرَكَ الشَّطْرَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ پر ان کا کچھ قرض تھا ایک مرتبہ راستے میں ملاقات ہو گئی حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں پکڑ لیا، باہمی تکرار میں آوازیں بلند ہو گئیں، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کر کے مجھ سے فرمایا کہ اس کا نصف قرض معاف کر دو چنانچہ انہوں نے نصف چھوڑ کر نصف مال لے لیا۔

27174

Musnad Ahmad #27174

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّبْلِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعار سے مشرکین کی مذمت بیان کیا کرو، مسلمان اپنی جان اور مال دونوں سے جہاد کرتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، تم جو اشعار مشرکین کے متعلق کہتے ہو ایسا لگتا ہے کہ تم ان پر تیروں کی بوچھاڑ برسا رہے ہو۔“

27175

Musnad Ahmad #27175

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ إِلَّا بَدْرًا، وَلَمْ يُعَاتِبْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا تَخَلَّفَ، عَنْ بَدْرٍ، إِنَّمَا خَرَجَ يُرِيدُ الْعِيرَ، فَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ مُغَوِّثِينَ لِعِيرِهِمْ، فَالْتَقَوْا عَنْ غَيْرِ مَوْعِدٍ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَعَمْرِي، إِنَّ أَشْرَفَ مَشَاهِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ لَبَدْرٌ، وَمَا أُحِبُّ أَنِّي كُنْتُ شَهِدْتُهَا مَكَانَ بَيْعَتِي لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ، حَيْثُ تَوَافَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ، وَلَمْ أَتَخَلَّفْ بَعْدُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ وَهِيَ آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا , فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ بِالرَّحِيلِ، وَأَرَادَ أَنْ يَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، وَذَلِكَ حِينَ طَابَ الظِّلَالُ وَطَابَتْ الثِّمَارُ، فَكَانَ قَلَّمَا أَرَادَ غَزْوَةً إِلَّا واَرَّى غَيْرَهَا، وَقَالَ يَعْقُوبُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ : إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا، حَدَّثَنَاهُ أبو سُفْيَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عن أبيه , وَقَالَ فِيهِ: وَرَّى غَيْرَهَا , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ يَقُولُ: " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ"، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَنْ يَتَأَهَّبَ النَّاسُ أُهْبَةً، وَأَنَا أَيْسَرُ مَا كُنْتُ، قَدْ جَمَعْتُ رَاحِلَتَيْنِ، وَأَنَا أَقْدَرُ شَيْءٍ فِي نَفْسِي عَلَى الْجِهَادِ وَخِفَّةِ الْحَاذِ، وَأَنَا فِي ذَلِكَ أَصْغُو إِلَى الظِّلَالِ وَطِيبِ الثِّمَارِ، فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ، حَتَّى قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَادِيًا بِالْغَدَاةِ، وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ، فَأَصْبَحَ غَادِيًا، فَقُلْتُ: أَنْطَلِقُ غَدًا إِلَى السُّوقِ، فَأَشْتَرِي جَهَازِي , ثُمَّ أَلْحَقُ بِهِمْ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ مِنَ الْغَدِ، فَعَسُرَ عَلَيَّ بَعْضُ شَأْنِي، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: أَرْجِعُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَأَلْحَقُ بِهِمْ، فَعَسُرَ عَلَيَّ بَعْضُ شَأْنِي، فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ، حَتَّى الْتَبَسَ بِي الذَّنْبُ، وَتَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ، وَأَطُوفُ بِالْمَدِينَةِ، فَيُحْزِنُنِي أَنِّي لَا أَرَى أَحَدًا تَخَلَّفَ إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ، وَكَانَ لَيْسَ أَحَدٌ تَخَلَّفَ إِلَّا رَأَى أَنَّ ذَلِكَ سَيُخْفَى لَهُ، وَكَانَ النَّاسُ كَثِيرًا لَا يَجْمَعُهُمْ دِيوَانٌ , وَكَانَ جَمِيعُ مَنْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا، وَلَمْ يَذْكُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكًا، فَلَمَّا بَلَغَ تَبُوكًا، قَالَ:" مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ؟"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي: خَلَّفَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بُرْدَيْهِ، وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ، وَقَالَ يَعْقُوبُ: عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ: بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: بِئْسَمَا قُلْتَ، وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذَا هُمْ بِرَجُلٍ يَزُولُ بِهِ السَّرَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُنْ أَبَا خَيْثَمَةَ"، فَإِذَا هُوَ أَبُو خَيْثَمَةَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، وَقَفَلَ , وَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، جَعَلْتُ أَتَذَكَّرُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخْطَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ كُلَّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي، حَتَّى إِذَا قِيلَ: النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هُوَ مُصْبِحُكُمْ بِالْغَدَاةِ، زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ، وَعَرَفْتُ أَنِّي لَا أَنْجُو إِلَّا بِالصِّدْقِ، وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ، فَعَلَ ذَلِكَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ جَلَسَ فَجَعَلَ يَأْتِيهِ مَنْ تَخَلَّفَ، فَيَحْلِفُونَ لَهُ، وَيَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ، فَيَسْتَغْفِرُ لَهُمْ، وَيَقْبَلُ عَلَانِيَتَهُمْ , وَيَكِلُ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَآنِي، تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، فَجِئْتُ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" أَلَمْ تَكُنْ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ؟" , قُلْتُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ:" فَمَا خَلَّفَكَ؟" , قُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ غَيْرَكَ جَلَسْتُ، لَخَرَجْتُ مِنْ سَخْطَتِهِ بِعُذْرٍ، لَقَدْ أُوتِيتُ جَدَلًا، وَقَالَ يَعْقُوبُ: عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ: لَرَأَيْتُ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ سَخْطَتِهِ بِعُذْرٍ، وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ: أَخْرُجُ مِنْ سَخْطَتِهِ بِعُذْرٍ، وَفِيهِ: لَيُوشِكَنَّ أَنَّ اللَّهَ يُسْخِطُكَ عَلَيَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ، تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ، إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: وَلَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنِّي إِنْ أَخْبَرْتُكَ الْيَوْمَ بِقَوْلٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ وَهُوَ حَقٌّ، فَإِنِّي أَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ، وَإِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثًا تَرْضَى عَنِّي فِيهِ، وَهُوَ كَذِبٌ، أُوشِكُ أَنْ يُطْلِعَكَ اللَّهُ عَلَيَّ، وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَيْسَرَ وَلَا أَخَفَّ حَاذًا مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ، فَقَالَ:" أَمَّا هَذَا، فَقَدْ صَدَقَكُمْ الْحَدِيثَ، قُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ"، فَقُمْتُ، فَثَارَ عَلَى أَثَرِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي يُؤَنِّبُونَنِي، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُكَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَطُّ قَبْلَ هَذَا، فَهَلَّا اعْتَذَرْتَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُذْرٍ يَرْضَى عَنْكَ فِيهِ، فَكَانَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَأْتِي مِنْ وَرَاءِ ذَنْبِكَ؟ وَلَمْ تُقِفْ نَفْسَكَ مَوْقِفًا لَا تَدْرِي مَاذَا يُقْضَى لَكَ فِيهِ؟ فَلَمْ يَزَالُوا يُؤَنِّبُونَنِي حَتَّى هَمَمْتُ أَنْ أَرْجِعَ، فَأُكَذِّبَ نَفْسِي، فَقُلْتُ: هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ غَيْرِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَمَرَارَةُ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ فَذَكَرُوا رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، لِي فِيهِمَا يَعْنِي أُسْوَةً , فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِي هَذَا أَبَدًا، وَلَا أُكَذِّبُ نَفْسِي، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ، قالَ: فَجَعَلْتُ أَخْرُجُ إِلَى السُّوقِ، فَلَا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ، وَتَنَكَّرَ لَنَا النَّاسُ، حَتَّى مَا هُمْ بِالَّذِينَ نَعْرِفُ، وَتَنَكَّرَتْ لَنَا الْحِيطَانُ الَّتِي نَعْرِفُ حَتَّى مَا هِيَ الْحِيطَانُ الَّتِي نَعْرِفُ، وَتَنَكَّرَتْ لَنَا الْأَرْضُ حَتَّى مَا هِيَ الْأَرْضُ الَّتِي نَعْرِفُ، وَكُنْتُ أَقْوَى أَصْحَابِي، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَطُوفُ بِالْأَسْوَاقِ، وَآتِي الْمَسْجِدَ، فَأَدْخُلُ، وَآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَأَقُولُ: هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا قُمْتُ أُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ، فَأَقْبَلْتُ قِبَلَ صَلَاتِي، نَظَرَ إِلَيَّ بِمُؤَخَّرِ عَيْنَيْهِ، وَإِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ، أَعْرَضَ عَنِّي، وَاسْتَكَانَ صَاحِبَايَ، فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، لَا يُطْلِعَانِ رُءُوسَهُمَا، فَبَيْنَا أَنَا أَطُوفُ السُّوقَ إِذَا رَجُلٌ نَصْرَانِيٌّ، جَاءَ بِطَعَامٍ يَبِيعُهُ، يَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ إِلَيَّ، فَأَتَانِي وَأَتَانِي بِصَحِيفَةٍ مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ، فَإِذَا فِيهَا: أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَأَقْصَاكَ، وَلَسْتَ بِدَارِ مَضْيَعَةٍ، وَلَا هَوَانٍ، فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِيكَ، فَقُلْتُ: هَذَا أَيْضًا مِنَ الْبَلَاءِ وَالشَّرِّ، فَسَجَرْتُ لَهَا التَّنُّورَ، وَأَحْرَقْتُهَا فِيهِ، فَلَمَّا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً، إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ:" اعْتَزِلْ امْرَأَتَكَ"، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ لَا تَقْرَبَنَّهَا"، فَجَاءَتْ امْرَأَةُ هِلَالٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَعِيفٌ، فَهَلْ تَأْذَنُ لِي أَنْ أَخْدُمَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِنْ لَا يَقْرَبَنَّكِ"، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا بِهِ حَرَكَةٌ لِشَيْءٍ، مَا زَالَ مُكِبًّا يَبْكِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ، قَالَ كَعْبٌ: فَلَمَّا طَالَ عَلَيَّ الْبَلَاءُ، اقْتَحَمْتُ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ حَائِطَهُ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا قَتَادَةَ، أَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قُلْتُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا قَتَادَةَ , أَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ بَكَيْتُ، ثمَّ اقْتَحَمْتُ الْحَائِطَ خَارِجًا، حَتَّى إِذَا مَضَتْ خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينِ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَنْ كَلَامِنَا، صَلَّيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا صَلَاةَ الْفَجْرِ، ثُمَّ جَلَسْتُ وَأَنَا فِي الْمَنْزِلَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , قَدْ ضَاقَتْ عَلَيْنَا الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ، وَضَاقَتْ عَلَيْنَا أَنْفُسُنَا، إِذْ سَمِعْتُ نِدَاءً مِنْ ذُرْوَةِ سَلْعٍ: أَنْ أَبْشِرْ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ جَاءَنَا بِالْفَرَجِ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَرْكُضُ عَلَى فَرَسٍ يُبَشِّرُنِي، فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنْ فَرَسِهِ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيَّ بِشَارَةً، وَلَبِسْتُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ، وَكَانَتْ تَوْبَتُنَا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُلُثَ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ عَشِيَّتَئِذٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا نُبَشِّرُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ؟ قَالَ:" إِذًا يَحْطِمَنَّكُمْ النَّاسُ، وَيَمْنَعُونَكُمْ النَّوْمَ سَائِرَ اللَّيْلَةِ"، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مُحْسِنَةً مُحْتَسِبَةً فِي شَأْنِي، تَحْزَنُ بِأَمْرِي، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَوْلَهُ الْمُسْلِمُونَ، وَهُوَ يَسْتَنِيرُ كَاسْتِنَارَةِ الْقَمَرِ، وَكَانَ إِذَا سُرَّ بِالْأَمْرِ، اسْتَنَارَ، فَجِئْتُ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" أَبْشِرْ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ بِخَيْرِ يَوْمٍ أَتَى عَلَيْكَ مُنْذُ يَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ"، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَمِنْ عِنْدِ اللَّهِ، أَوْ مِنْ عِنْدِكَ؟ قَال:" بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" , ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ: لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سورة التوبة آية 117 - 118، قَالَ: وَفِينَا نَزَلَتْ أَيْضًا: اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ سورة التوبة آية 119 , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ"، قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ، قَالَ: فَمَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيَّ نِعْمَةً بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَدَقْتُهُ أَنَا وَصَاحِبَايَ، أَنْ لَا نَكُونَ كَذَبْنَا، فَهَلَكْنَا كَمَا هَلَكُوا، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبْلَى أَحَدًا فِي الصِّدْقِ مِثْلَ الَّذِي أَبْلَانِي، مَا تَعَمَّدْتُ لِكَذْبَةٍ بَعْدُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سوائے غزوہ تبوک کے اور کسی جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہیں رہا، ہاں غزوہ بدر سے رہ گیا تھا اور بدر میں شریک نہ ہونے والوں پر کوئی عتاب بھی نہیں کیا گیا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادے سے تشریف لے گئے تھے (لڑائی کا ارادہ نہ تھا) بغیر لڑائی کے ارادہ کے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دشمنوں سے مڈ بھیڑ کرا دی تھی، میں بیعت عقبہ کی رات کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، جہاں ہم سب نے مل کر اسلام کے عہد کو مضبوط کیا تھا اور میں یہ چاہتا بھی نہیں ہوں کہ اس بیعت کے عوض میں جنگ بدر میں حاضر ہوتا، اگرچہ بدر کی جنگ لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے۔ میرا قصہ یہ ہے کہ جس قدر میں اس جہاد کے وقت مالدار اور فراخ دست تھا اتنا کبھی نہیں ہوا، اللہ کی قسم! اس جنگ کے لئے میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں اس سے پہلے کسی جنگ میں میرے پاس دو سواریاں نہیں ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ اگر کسی جنگ کا ارادہ کرتے تھے، تو دوسری لڑائی کا (احتمالی اور ذومعنی لفظ) کہہ کر اصل لڑائی کو چھپاتے تھے لیکن جب جنگ تبوک کا زمانہ آیا تو چونکہ سخت گرمی کا زمانہ تھا ایک لمبا بےآب و گیاہ بیابان طے کرنا تھا اور کثیر دشمنوں کا مقابلہ تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے سامنے کھول کر بیان کر دیا تاکہ جنگ کے لئے تیاری کر لیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارادہ تھا وہ لوگوں سے کہہ دیا۔ مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور کوئی رجسٹر ایسا تھا نہیں جس میں سب کے ناموں کا اندراج ہو سکتا، جو شخص جنگ میں شریک نہ ہونا چاہتا وہ سمجھ لیتا تھا کہ جب تک میرے متعلق وحی نازل نہ ہو گی میری حالت چھپی رہے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جہاد کا ارادہ اس زمانہ میں کیا تھا جب میوہ جات پختہ ہو گئے تھے اور درختوں کے سائے کافی ہو چکے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب مسلمانوں نے جنگ کی تیاری کی، میں بھی روزانہ صبح کو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے کے ارادہ سے جاتا تھا لیکن شام کو بغیر کچھ کام سرانجام دیئے واپس آ جاتا تھا، میں اپنے دل میں خیال کرتا تھا کہ (وقت کافی ہے) میں یہ کام پھر کر سکتا ہوں، اسی لیت و لعل میں مدت گزر گئی اور مسلمانوں نے سخت کوشش کر کے سامان درست کر لیا اور ایک روز صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو ہمرہ لے کر چل دیئے اور میں اس وقت تک کچھ بھی تیاری نہ کر سکا، لیکن دل میں خیال کر لیا کہ ایک دو روز میں سامان درست کر کے مسلمانوں سے جا ملوں گا۔ جب دوسرے روز مسلمان (مدینہ سے) دور نکل گئے تو سامان درست کرنے کے ارادہ سے چلا لیکن بغیر کچھ کام کیے واپس آ گیا، میری برابر یہی سستی رہی اور مسلمان جلدی جلدی بہت آگے بڑھ گئے، میں نے جا پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن اللہ کا حکم نہ تھا، کاش میں مسلمانوں سے جا کر مل گیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اب جو میں کہیں باہر نکل کر لوگوں سے ملتا تھا اور ادھرادھر گھومتا تھا تو یہ دیکھ مجھے غم ہوتا تھا کہ سوائے منافقوں کے اور ان کمزور لوگوں کے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معذور سمجھ کر چھوڑ دیا تھا اور کوئی نظر نہ آتا تھا، راستہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں میری یاد نہ آئی، جب تبوک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر فرمایا: ”یہ کعب نے کیا حرکت کی؟“ ایک شخص نے جواب دیا: یا رسول اللہ! وہ اپنی دونوں چادروں کو دیکھتا رہا اور اسی وجہ سے نہ آیا، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کی قسم! تو نے بری بات کہی، یا رسول اللہ! ہم کو اس پر نیکی کا احتمال ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب مجھے اطلاع ملی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ رہے ہیں تو مجھے فکر پیدا ہوئی اور جھوٹ بولنے کا ارادہ کیا اور دل میں سوچا کہ کس ترکیب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے محفوظ رہ سکتا ہوں، گھر میں تمام اہل الرائے سے مشورہ بھی کیا، اتنے میں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی تشریف لے آئے، تو میں نے تمام جھوٹ بولنے کے خیال دل سے نکال دیئے اور میں سمجھ گیا کہ جھوٹ کی آمیزش کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے نہیں بچ سکتا، لہٰذا سچ بولنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ صبح کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو شروع میں مسجد جا کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور پھر وہیں لوگوں سے گفتگو کرنے بیٹھ جاتے تھے،

27176

Musnad Ahmad #27176

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ , وَيُونُسَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ، حَتَّى كَأَنَّ وَجْهَهُ شِقَّةُ قَمَرٍ، وكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ فِيهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مسرور ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور اس طرح چمکنے لگتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر اسے پہچان لیتے تھے۔

27177

Musnad Ahmad #27177

Sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى: " يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ"، فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ الشَّطْرَ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قُمْ فَاقْضِهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ پر ان کا کچھ قرض تھا، ایک مرتبہ راستے میں ملاقات ہو گئی، حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں پکڑ لیا، باہمی تکرار میں آوازیں بلند ہو گئیں، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کر کے مجھ سے فرمایا کہ اس کا نصف قرض معاف کر دو چنانچہ انہوں نے نصف چھوڑ کر نصف مال لے لیا۔

27178

Musnad Ahmad #27178

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ الطَّبَاعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يُسَافِرَ، لَمْ يُسَافِرَ ِإلًا َيْوَم الْخَمِيِس" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانا چاہتے تو جمعرات کے دن روانہ ہوتے تھے۔

27179

Musnad Ahmad #27179

Sahih

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ أَلَمًا، فَلْيَضَعْ يَدَهُ حَيْثُ يَجِدُ أَلَمَهُ، ثُمَّ لِيَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو جسم کے کسی بھی حصے میں درد ہو تو اسے چاہئے کہ درد کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ یوں کہے: «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ» “۔