Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1163

قبائل سے روایات

حضرت ابن منتفق کی حدیثیں

3 hadiths in this chapter

27153

Musnad Ahmad #27153

Zaeef

حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى الْكُوفَةِ لِأَجْلِبَ بِغَالًا، قَالَ: فَأَتَيْتُ السُّوقَ وَلَمْ تُقَمْ، قَالَ: قُلْتُ: لِصَاحِبٍ لِي: لَوْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ وَمَوْضِعُهُ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ، فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْمُنْتَفِقِ ، وَهُوَ يَقُولُ: وُصِفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُلِّيَ، فَطَلَبْتُهُ بمكة فقيل لي: هو بمنى فطلبته بِمِنًى، فَقِيلَ لِي، هُوَ بِعَرَفَاتٍ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ , فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لِي: إِلَيْكَ عَنْ طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعُوا الرَّجُلَ أَرِبَ مَا لَهُ"، قَالَ: فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: زِمَامِهَا هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ , حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ رَاحِلَتَيْنَا، قَالَ: فَمَا يَزَعُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: مَا غَيَّرَ عَلَيَّ , هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ، قَالَ: قُلْتُ: ثِنْتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا: مَا يُنَجِّينِي مِنَ النَّارِ، وَمَا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ؟ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ، قَالَ:" لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ، لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ، فَاعْقِلْ عَنِّي إِذًا: اعْبُدْ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمْ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ بِكَ النَّاسُ، فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ إِلَيْكَ النَّاسُ، فَذَرْ النَّاسَ مِنْهُ"، ثُمَّ قَالَ:" خَلِّ سَبِيلَ الرَّاحِلَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ یشکری کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا، اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب جن کا نام ابن منتفق تھا، یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک قابل سواری اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا، کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آ گئے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے نجات کا سبب بن جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ واہ! تم نے اگرچہ بہت مختصر لیکن بہت عمدہ سوال کیا، اگر تم سجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا، اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو۔“

27154

Musnad Ahmad #27154

Zaeef

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ يَعْنِي الْمَسْلِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْكُوفَةِ أَوَّلَ مَا بُنِيَ مَسْجِدُهَا، وَهُوَ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ يَوْمَئِذٍ، وَجُدُرُهُ مِنْ سِهْلَةٍ، فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ النَّاسَ , قَالَ: بَلَغَنِي حَجَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةُ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَاسْتَتْبَعْتُ رَاحِلَةً مِنْ إِبِلِي، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جَلَسْتُ لَهُ فِي طَرِيقِ عَرَفَةَ أَوْ وَقَفْتُ لَهُ فِي طَرِيقِ عَرَفَةَ، قَالَ: فَإِذَا رَكْبٌ عَرَفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ بِالصِّفَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ أَمَامَهُ: خَلِّ عَنْ طَرِيقِ الرِّكَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَه فَأَرِب َلَهُ"، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ رَأْسُ النَّاقَتَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، وَيُنَجِّينِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: " بَخٍ بَخٍ، لَئِنْ كُنْتَ قَصَّرْتَ فِي الْخُطْبَةِ، لَقَدْ أَبْلَغْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ، اتَّقِ اللَّهَ، لَا تُشْرِكْ بالله شيئًاِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، خَلِّ عَنْ طَرِيقِ الرِّكَابِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ یشکری کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا، اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک قابل سواری اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا، کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آ گئے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے نجات کا سبب بن جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ واہ! تم نے اگرچہ بہت مختصر لیکن بہت عمدہ سوال کیا، اگر تم سجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا، اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو۔“

27155

Musnad Ahmad #27155

Zaeef

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ , قَالَ: سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , نَحْوَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔