Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 14 · Chapter 1132

صحابیات سے روایات

حضرت فریعہ بنت مالک کی حدیثیں

7 hadiths in this chapter

27080

Musnad Ahmad #27080

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَوْلًى لِمَعْمَرٍ التَّيْمِيّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " بِمَاذَا كُنْتِ تَسْتَشْفِينَ؟" , قَالَتْ: بِالشُّبْرُمِ، قَالَ:" حَارٌّ جَار" , ٌّثُمَّ اسْتَشْفَيْتُ بِالسَّنَا، قَالَ:" لَوْ كَانَ شَيْءٌ يَشْفِي مِنَ الْمَوْتِ، كَانَ السَّنَا" , أَوْ:" السَّنَا شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْت" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون سی دوا بطور مسہل کے استعمال کرتی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ”شبرم“ کو (جو کہ ایک جڑی بوٹی کا نام ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بہت زیادہ گرم ہوتی ہے، پھر میں ”سنا“ نامی بوٹی کو بطور مسہل استعمال کرنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت کی شفاء ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی۔“

27081

Musnad Ahmad #27081

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيّ ، فَقَالَ لَهَا رَفِيقِي أَبُو سَهْلٍ: كَمْ لَكِ؟ قَالَتْ: سِتَّةٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً، قَالَ: مَا سَمِعْتِ مِنْ أَبِيكِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں فاطمہ بنت علی کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے رفیق ابوسہل نے ان سے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے بتایا: چھیاسی سال، ابو سہل نے پوچھا کہ آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے نسبت تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

27082

Musnad Ahmad #27082

Hasan

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيز ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالٌ مَوْلَانَا، عَنِ أَبِي عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَت: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهَا عِنْدَ الْكَرْبِ: " اللَّهُ رَبِّي , لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کلمات سکھا دیئے ہیں جو میں پریشانی کے وقت کہہ لیا کرتی ہوں «اللَّهُ رَبِّي , لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ۔

27083

Musnad Ahmad #27083

Zaeef

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ مِنْ قَتْلِ جَعْفَر، فَقَال: " لَا تَحِدِّي بَعْدَ يَوْمِكِ هَذَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تیسرے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج کے بعد سوگ نہ منانا۔“

27084

Musnad Ahmad #27084

Sahih

َقرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِم ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ : أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، بِالْبَيْدَاء، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ , ثُمَّ لِتُهِلَّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے یہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش مقام بیداء میں ہوئی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ غسل کرلیں اور تلبیہ پڑھ لیں۔“

27085

Musnad Ahmad #27085

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّوِيلُ صَاحِبُ الْمَصَاحِفِ، أَنَّ كِلَابَ بْنَ تَلِيدٍ أَخَا بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْث، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، جَاءَهُ رَسُولُ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ , يَقُول: إِنَّ ابْنَ خَالَتِكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ الْحَدِيثُ الَّذِي كُنْتَ حَدَّثْتَنِي عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ؟ فَقَال سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَخْبرِْهُ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ أَخْبَرَتْنِي: أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا , أَوْ شَهِيدًا , يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

کلاب بن تلید ”جن کا تعلق بنو سعد بن لیث سے تھا“، ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نافع بن جبیر کا قاصد آ گیا اور کہنے لگا کہ آپ کا بھانجا آپ کو سلام کہتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ حدیث کیسے تھی جو آپ نے مجھ سے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ذکر کی تھی؟ سعید بن مسیب نے فرمایا کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی مدینہ منورہ کی تکلیفوں اور شدت پر صبر کرتا ہے، قیامت کے دن میں اس کی سفارش اور گواہی دوں گا۔

27086

Musnad Ahmad #27086

Zaeef

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْر ، عَنْ أُمِّ عِيسَى الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِب ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْس ، قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُه، دَخَل عَلي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَبَغْتُ أَرْبَعِينَ مَنِيئَة، وَعَجَنْتُ عَجِينِي، وَغَسَّلْتُ بَنِي، وَدَهَنْتُهُمْ، وَنَظَّفْتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" ائْتِينِي بِبَنِي جَعْفَرٍ" , قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ بِهِمْ، فَشَمَّهُمْ، وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا يُبْكِيكَ، أَبَلَغَك، عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ شَيْءٌ، قَالَ:" نَعَمْ، أُصِيبُوا هَذَا الْيَوْمَ" , قَالَتْ: فَقُمْتُ أَصِيحُ , وَاجْتَمَعَ إِلَيَّ النِّسَاءُ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ: " لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا، فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہید ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میں نے چالیس کھالوں کو دباغت کے لئے ڈالا ہوا تھا، آٹا گوندھ چکی تھی اور اپنے بچوں کو نہلا دھلا کر صاف ستھرا کر چکی تھی اور انہیں تیل لگا چکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر فرمایا: ”جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ“، میں انہیں لے کر آئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سونگھنے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے حوالے سے کوئی خبر آئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! آج وہ شہید ہو گئے ہیں“، یہ سن کر میں کھڑی ہو کر چیخنے لگی اور دوسری عورتیں بھی میرے پاس جمع ہونے لگیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اپنے اہل خانہ کے پاس چلے گئے اور فرمایا آل جعفر سے غافل نہ رہنا، ان کے لئے کھانا تیار کرو، کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے معاملے میں مشغول ہیں۔