Musnad Ahmad #27059
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مَوْلَاتِهِ لَيْلَى ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَيْهَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِمْ تَمْرًا، فَأَكَلُوا، فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَأْنُهُ؟" , فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْ صَائِمٍ يَأْكُلُ عِنْدَهُ فَوَاطِرُ، إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَقُومُوا" .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، جس کی اطلاع ملنے پر ان کی قوم کے کچھ دوسرے لوگ بھی ان کے یہاں آ گئے، انہوں نے مہمانوں کے سامنے کھجوریں پیش کیں، لوگ وہ کھانے لگے لیکن ان میں سے ایک آدمی ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا؟“ اس نے بتایا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی روزہ دار کے سامنے روزہ توڑنے والی چیزیں کھائی جا رہی ہوں تو ان لوگوں کے اٹھنے تک فرشتے اس روزے دار کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔