Musnad Ahmad #27030
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ، فَأَشْتَرِطُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: " قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، مَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي" .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب آئیں، وہ بیمار تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بیمار ہوں، مجھے خطرہ ہے کہ میری بیماری آپ کو روک نہ دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کر لو کہ اے اللہ! جہاں تو مجھے روک دے گا، وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہو گی۔“