Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 14 · Chapter 1102

صحابیات سے روایات

ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایات

10 hadiths in this chapter

26858

Musnad Ahmad #26858

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ صَفِيَّةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوَهُ جَيْشٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ الْمُكْرَهَ مِنْهُمْ؟ قَالَ:" يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صفیہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے ایک لشکرضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکر کا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ بچیں گے اور نہ ہی درمیان والے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جو لوگ زبردستی اس لشکر میں شامل کر لئے گئے ہوں گے ان کا کیا بنے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔

26859

Musnad Ahmad #26859

Sahih

قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ سَلَمَةُ : فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

26860

Musnad Ahmad #26860

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، خُسِفَ أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمْ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَكُونُ فِيهِمْ الْمُكْرَهُ؟ قَالَ:" يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صفیہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے ایک لشکر ضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکر کا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ بچیں گے اور نہ ہی درمیان والے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جو لوگ زبردستی اس لشکر میں شامل کر لئے گئے ہوں گے ان کا کیا بنے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔

26861

Musnad Ahmad #26861

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيُّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ , عَنْ صَفِيَّةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْتَهِي النَّاسُ" , وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَسَاقَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

26862

Musnad Ahmad #26862

Sahih

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، عَنْ صُهَيْرَةَ بِنْتِ جَيْفَرٍ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَسَأَلْتُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَتْ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَبِيذَ الْجَرِّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

صہیرہ بنت جیفر کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت صفیہ بنت حیی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے مٹکے کی نبیذ کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔

26863

Musnad Ahmad #26863

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , وَعَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ" , فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا" أَوْ قَالَ" شَيْئًا".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صفیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کے وقت ملاقات کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی کچھ دیرباتیں کرنے کے بعد میں اٹھ کھڑی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے چھوڑنے کے لئے میرے ساتھ آئے میری رہائش اس وقت داراسامہ بن زید میں تھی، اسی اثناء میں وہاں سے دو انصاری آدمی گزرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر انہوں نے اپنی رفتار تیز کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں، ان دونوں نے کہا کہ سبحان اللہ، اے اللہ کے رسول (کیا ہم آپ کے متعلق ذہن میں کوئی برا خیال لاسکتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کوئی وسوسہ پیدا نہ کردے۔

26864

Musnad Ahmad #26864

Sahih

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكَمٍ يُحَدِّثُ , عَنْ صُهَيْرَةَ بِنْتِ جَيْفَرٍ ، قَالَتْ: حَجَجْنَا، ثُمَّ أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْنَا عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَوَافَقْنَا عِنْدَهَا نِسْوَةً، فَقَالَتْ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَبِيذَ الْجَرِّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

صہیرہ بنت جیفر کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت صفیہ بنت حیی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے مٹکے کی نبیذ کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔

26865

Musnad Ahmad #26865

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ , عَنْ صُهَيْرَةَ بِنْتِ جَيْفَرٍ سَمِعَهُ مِنْهَا , قَالَتْ: حَجَجْنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَدَخَلْنَا عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَوَافَقْنَا عِنْدَهَا نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَقُلْنَ لَهَا: إِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْتُنَّ وَسَمِعْنَا، وَإِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْنَا وَسَمِعْتُنَّ , فَقُلْنَا: سَلْنَ، فَسَأَلْنَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا، وَمِنْ أَمْرِ الْمَحِيضِ، ثُمَّ سَأَلْنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , فَقَالَتْ: أَكْثَرْتُمْ عَلَيْنَا يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ،: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَبِيذَ الْجَرِّ وَمَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطْبُخَ تَمْرَهَا، ثُمَّ تَدْلُكَهُ، ثُمَّ تُصَفِّيَهُ، فَتَجْعَلَهُ فِي سِقَائِهَا، وَتُوكِئَ عَلَيْهِ، فَإِذَا طَابَ، شَرِبَتْ وَسَقَتْ زَوْجَهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

صہیرہ بنت جیفر کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے حج کیا، پھر مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو وہاں حضرت صفیہ بنت حیی کی خدمت میں بھی حاضری ہوئی ہم نے ان کے پاس کوفہ کی کچھ خواتین کو بھی بیٹھے ہوئے پایا ان خواتین نے صہیرہ سے کہا کہ اگر تم چاہو تو تم لوگ سوال کرو اور ہم سنتے ہیں ورنہ ہم سوال کرتے ہیں اور تم اسے سننا، ہم نے کہا کہ تم لوگ ہی سوال کرو چنانچہ انہوں نے حضرت صفیہ سے کئی سوال پوچھے مثلا میاں بیوی کے حوالے سے، ایام ناپاکی کے حوالے سے اور پھر مٹکے کی نبیذ کے حوالے سے تو حضرت صفیہ نے فرمایا اے اہل عراق تم لوگ مٹکے کی نبیذ کے متعلق بڑی کثرت سے سوال کر رہے ہو (نبی علیہ السلام نے اسے حرام قرار دیا ہے) البتہ تم میں سے کسی پر اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اپنی کھجوروں کو پکائے پھر اسے مل کر صاف کرے اور مشکیزے میں رکھ کر اس کا منہ باندھ دے جب وہ اچھی ہوجائے تو خود بھی پی لے اور اپنے شوہر کو بھی پلائے۔

26866

Musnad Ahmad #26866

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي شُمَيْسَةُ أَوْ سُمَيَّةُ ، قَالَ: عَبْدُ الرَّزَّاقِ هُوَ فِي كِتَابِي سُمَيَّةُ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ بِنِسَائِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، نَزَلَ رَجُلٌ، فَسَاقَ بِهِنَّ، فَأَسْرَعَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَاكَ سَوْقُكَ بِالْقَوَارِيرِ" يَعْنِي النِّسَاءَ , فَبَيْنَا هُمْ يَسِيرُونَ، بَرَكَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جَمَلُهَا، وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِهِنَّ ظَهْرًا، فَبَكَتْ , وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ دُمُوعَهَا بِيَدِهِ، وَجَعَلَتْ تَزْدَادُ بُكَاءً وَهُوَ يَنْهَاهَا، فَلَمَّا أَكْثَرَتْ، زَبَرَهَا وَانْتَهَرَهَا، وَأَمَرَ النَّاسَ بِالنُّزُولِ، فَنَزَلُوا، وَلَمْ يَكُنْ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِلَ , قَالَتْ: فَنَزَلُوا، وَكَانَ يَوْمِي، فَلَمَّا نَزَلُوا، ضُرِبَ خِبَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ فِيهِ، قَالَتْ: فَلَمْ أَدْرِ عَلَامَ أُهْجَمُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنِّي فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: تَعْلَمِينَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَبِيعُ يَوْمِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ أَبَدًا، وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لَكِ عَلَى أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخَذَتْ عَائِشَةُ خِمَارًا لَهَا قَدْ ثَرَدَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيُذَكِّيَ رِيحَهُ، ثُمَّ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا، ثُمَّ انْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَتْ طَرَفَ الْخِبَاءِ، فَقَالَ لَهَا:" مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ؟ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِكِ" , قَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، فَقَالَ: مَعَ أَهْلِهِ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّوَاحِ، قَالَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ:" يَا زَيْنَبُ، أَفْقِرِي أُخْتَكِ صَفِيَّةَ جَمَلًا"، وَكَانَتْ مِنْ أَكْثَرِهِنَّ ظَهْرًا، فَقَالَتْ: أَنَا أُفْقِرُ يَهُودِيَّتَكَ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَهَجَرَهَا، فَلَمْ يُكَلِّمْهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَأَيَّامَ مِنًى فِي سَفَرِهِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَالْمُحَرَّمَ وَصَفَرَ، فَلَمْ يَأْتِهَا، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهَا، وَيَئِسَتْ مِنْهُ، فَلَمَّا كَانَ شَهْرُ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، دَخَلَ عَلَيْهَا، فَرَأَتْ ظِلَّهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ هَذَا لَظِلُّ رَجُلٍ، وَمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ هَذَا؟ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَدْرِي مَا أَصْنَعُ حِينَ دَخَلْتَ عَلَيَّ؟ قَالَتْ: وَكَانَتْ لَهَا جَارِيَةٌ، وَكَانَتْ تَخْبَؤُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: فُلَانَةُ لَكَ، فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَرِيرِ زَيْنَبَ، وَكَانَ قَدْ رُفِعَ، فَوَضَعَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَصَابَ أَهْلَهُ، وَرَضِيَ عَنْهُمْ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صفیہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے تھے، ابھی راستے ہی میں تھے کہ ایک آدمی اتر کر ازواج مطہرات کی سواریوں کو تیزی سے ہانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان آبگینوں (عورتوں) کو آہستہ ہی لے کر چلو دوران سفر حضرت صفیہ کا اونٹ بدک گیا، ان کی سواری سب سے عمدہ اور خوبصورت تھی، وہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے ان کے آنسو پونچھنے لگے، لیکن وہ اور زیادہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر منع کرتے رہے لیکن جب دیکھا کہ وہ زیادہ ہی روتی جا رہی ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سختی سے جھڑک کر منع فرمایا: اور لوگوں کو پڑاؤ کرنے کا حکم دیدیا حالانکہ اس مقام پر پڑاؤ کا ارادہ نہ تھا، لوگوں نے پڑاؤ ڈال لیا، اتفاق سے اس دن حضرت صفیہ ہی کی باری بھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک خیمہ لگادیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ حضرت صفیہ کہتی ہیں کہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیسے جاؤں؟ مجھے ڈر تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض نہ ہوگئے ہوں، چنانچہ میں حضرت عائشہ کے پاس چلی گئی اور ان سے کہا آپ جانتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی باری کا دن کسی بھی چیز کے عوض نہیں بیچ سکتی، لیکن آج میں اپنی باری کے دن آپ کو اس شرط پر دیتی ہوں کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کردیں۔ حضرت عائشہ نے حامی بھرلی اور اپنا دوپٹہ لے کر جسے انہوں نے زعفران میں رنگا ہوا تھا، اس پر پانی کے چھینٹے مارے تاکہ اس کی مہک پھیل جائے پھر نئے کپڑے پہن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے قریب پہنچ کر انہوں نے پردے کا ایک کونا اٹھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا عائشہ! کیا بات ہے آج تمہاری باری تو نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطاء کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دوپہر اپنی زوجہ محترمہ (حضرت عائشہ) کے ساتھ قیلولہ فرمایا۔ جب روانگی کا وقت آیا تو نبی علیہ السلا نے حضرت زینب بنت جحش سے فرمایا جن کے پاس سواری میں گنجائش زیادہ تھی کہ اپنی بہن صفیہ کو اپنے ساتھ اونٹ پر سوار کرلو، حضرت زینب کے منہ سے نکل گیا کہ میں آپ کی یہودیہ بیوی کو اپنے ساتھ سوار کروں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کرنا راض ہوگئے اور ان سے ترک کلام فرما لیا حتی کہ مکہ مکرمہ پہنچے، منیٰ کے میدان میں ایام گزارے پھر مدینہ منورہ واپس آئے محرم اور صفر کا مہینہ گزرا لیکن حضرت زینب کے پاس نہیں گئے حتی کہ باری کے دن بھی نہیں گئے، جس سے حضرت زینب ناامید سی ہوگئیں۔ جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لے گئے، وہ سوچنے لگیں کہ یہ سایہ تو کسی آدمی کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آنے والے نہیں تو یہ کون ہے؟ اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر آگئے، حضرت زینب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کہنے لگیں یا رسول اللہ! خوشی سے مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ آپ کی تشریف آوری پر کیا کروں؟ ان کی ایک باندی تھی جو ان کے لئے خیمہ تیار کرتی تھی، انہوں نے عرض کیا کہ فلاں باندی آپ کی نذر پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب کی چارپائی تک چل کر آئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا پھر ان سے تخلیہ فرمایا اور ان سے راضی ہوگئے۔

26867

Musnad Ahmad #26867

Zaeef

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔