Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 997

انصار صحابہ کی روایات

صفوان بن المطلع السلمی رضی اللہ عنہ کی احادیث

3 hadiths in this chapter

22661

Musnad Ahmad #22661

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ، وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ، فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ عَلَى رَأْسِكَ، فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جس سے آپ باخبر ہیں اور میں ناواقف ہوں اور وہ یہ کہ دن رات کے وہ کون سے اوقات ہیں جن میں آپ نماز کو مکروہ سمجھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم فجر کی نماز پڑھ لیا کرو تو طلوع آفتاب تک نماز سے رکے رہا کرو جب سورج طلوع ہوجائے تو نماز پڑھا کرو کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ قبول ہوتی ہے یہاں تک کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی مانند برابر ہوجائے جب ایسا ہوجائے تو یہی وہ گھڑی ہوتی ہے جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ تمہاری دائیں جانب سے ڈھل جائے جب ایسا ہوجائے تو نماز پڑھا کرو کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ قبول ہوتی ہے یہاں تک کہ تم نماز عصر پڑھ لو۔

22662

Musnad Ahmad #22662

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ كَثِيرٍ السَّقَّاءُ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو عِيسَى ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، قَالَ: " خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ، فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ، فَأَخْرَجَ لَهَا رَجُلٌ خِرْقَةً مِنْ عَيْبَتِهِ فَلَفَّهَا فِيهَا وَدَفَنَهَا، وَخَذَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا مَكَّةَ، فَإِنَّا لَبِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا شَخْصٌ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَاحِبُ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ؟ قُلْنَا: مَا نَعْرِفُهُ , قَالَ: أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجَانِّ؟ قَالُوا: هَذَا قَالَ: أَمَا إِنَّهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ آخِرِ التِّسْعَةِ مَوْتًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے جب مقام عرج میں پہنچے تو وہاں ایک سانپ تڑپتا ہوا نظر آیا اور تھوڑی ہی دیر میں مرگیا ایک آدمی نے اپنے سامان میں سے ایک کپڑا نکالا اور اسے اس میں لپیٹ کر زمین کھود کر اس میں دفن کردیا، جب ہم لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو مسجد حرام میں ہی تھے کہ ایک آدمی ہمارے پاس آکر رکا اور کہنے لگا کہ تم میں سے عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا کہ ہم نہیں جانتے پھر اس نے پوچھا کہ اس سانپ کا کفن دفن کرنے والا کون ہے؟ لوگوں نے اس آدمی کی طرف اشارہ کردیا وہ کہنے لگا کہ اللہ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے یہ ان نو آدمیوں میں سب سے آخر میں مرنے والا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرآن کریم سننے کے لئے حاضر ہوئے تھے۔

22663

Musnad Ahmad #22663

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ" فَرَمَقْتُ صَلَاتَهُ لَيْلَةً فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ نَامَ، فَلَمَّا كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ الْعَشْرَ آخِرَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ تَسَوَّكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ؟ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَتَلَا الْآيَاتِ ثُمَّ تَسَوَّكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ؟ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا تو رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھنے کا موقع ملا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء پڑھ کر سوگئے نصف رات کو بیدار ہوئے سورت آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، مسواک کی وضو فرمایا اور کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھیں اب مجھے معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام زیادہ لمبا تھا یا رکوع سجدہ پھر دوبارہ سوگئے تھوڑی دیر بعد اٹھے اور یہی سارا عمل دہرایا اور پھر اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ گیارہ رکعتیں پڑھ لیں۔