Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 990

انصار صحابہ کی روایات

ابو الصوار کی اپنے چچا سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوں

1 hadith in this chapter

22510

Musnad Ahmad #22510

Sahih

حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا السُّمَيْطُ ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، حَدَّثَهُ أَبُو السَّوَّارِ ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُنَاسٌ يَتْبَعُونَهُ فَأَتْبَعْتُهُ مَعَهُمْ، قَالَ: فَفَجِئَنِي الْقَوْمُ يَسْعَوْنَ، قَالَ: وَأَبْقَى الْقَوْمُ، فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَنِي ضَرْبَةً، إِمَّا بِعَسِيبٍ أَوْ قَضِيبٍ أَوْ سِوَاكٍ، وَشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَوْجَعَنِي، قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ، قَالَ: أَوْ قُلْتُ: مَا ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لِشَيْءٍ عَلِمَهُ اللَّهُ فِيَّ قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي , أَنْ آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحْتُ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكَ رَاعٍ، فَلَا تَكْسِرَنَّ قُرُونَ رَعِيَّتِكَ , قَالَ: فَلَمَّا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ أَوْ قَالَ: صَبَّحْنَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ أُنَاسًا يَتْبَعُونِي، وَإِنِّي لَا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتْبَعُونِي , اللَّهُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ أَوْ سَبَبْتُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَأَجْرًا" , أَوْ قَالَ:" مَغْفِرَةً وَرَحْمَةً" , أَوْ كَمَا قَالَ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالسوار اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ کچھ لوگ آپ کے پیچھے چل رہے ہیں میں بھی ان میں شامل ہوگیا اچانک لوگ دوڑنے لگے اور کچھ لوگ پیچھے رہ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے قریب پہنچ کر کسی ٹہنی، سرکنڈے، مسواک یا کسی اور چیز کے ساتھ ہلکی سی ضرب لگائی جو ان کے پاس تھی، لیکن بخدا! مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی رات ہوئی تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو مارا ہے وہ یقینا کسی ایسی بات پر ہوگا جو اللہ نے انہیں میرے متعلق بتادی ہوگی پھر میرے دل میں خیال آیا کہ صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دوں، ادھر حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ وحی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے کہ آپ راعی ہیں لہٰذا اپنی رعیت کے سینگ نہ توڑیں۔ جب ہم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! کچھ لوگ میرے پیچھے چلتے ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ کوئی میرے پیچھے چلے اے اللہ! میں نے جسے مارا ہو یا سخت سست کہا ہو اسے اس کے لئے کفارہ اور باعث اجر بنا دے یا یہ فرمایا باعث مغفرت و رحمت بنا دے یا جیسے بھی فرمایا۔