Musnad Ahmad #22490
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: أَتَانِي أبو العالية , أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، قَالَ: فَقَالَ لَنَا هَلُمَّا فَأَنْتُمَا أَشَبُّ مِنِّي سِنًّا، وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي , قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو الْعَالِيَةِ: تُحَدِّثُ هَذَيْنِ حَدِيثَكَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: اللَّيْثِيُّ، قَالَ: بَهْزٌ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ , قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، قَالَ: فَأَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ، قَالَ: فَشَذَّ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ، قَالَ: فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ شَاهِرًا سَيْفَهُ، قَالَ: فَقَالَ: الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ إِنِّي مُسْلِمٌ , قَالَ: فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، قَالَ: فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ، قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذ قَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ أَيْضًا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ لَمْ يَصْبِرْ، فَقَالَ الثَّالِثَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ , فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى عَلَى مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
اردو ترجمہ · Urdu
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے پاس میرے ایک ساتھی کے ساتھ ابو العالیہ رحمہ اللہ آئے اور کہنے لگے کہ تم دونوں میرے ساتھ بشر بن عاصم کے پاس چلو کہ تم دونوں عمر میں بھی مجھ سے جوان ہو اور حدیث کو یاد رکھنے کی صلاحیت بھی تم میں مجھ سے زیادہ ہے وہاں پہنچ کر ابو العالیہ نے بشر سے کہا کہ آپ ان دونوں کے سامنے اپنی حدیث بیان کیجئے چنانچہ بشر نے کہا کہ ہمیں حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کا ایک دستہ روانہ فرمایا اس نے ایک قوم پر حملہ کیا اس قوم کا ایک آدمی اپنی قوم سے نکلا تو اس دستے کا ایک آدمی اپنی تلوار لہراتا ہوا اس کی طرف لپکا اس شخص نے کہا کہ میں مسلمان ہوں لیکن اس نے اس کی بات پر غور نہیں کیا اور تلوار کا وار کر کے اسے قتل کردیا۔ اس واقعے کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت بیان کی جس کی اطلاع قاتل تک بھی پہنچی حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو قاتل نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس نے یہ کلمہ صرف اپنی جان بچانے کے لئے پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اور اس کی جانب بیٹھے ہوئے تمام لوگوں سے منہ موڑ لیا اور برابر تقریر جاری رکھی تین مرتبہ اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر اس وقت غم و غصے کے آثار تھے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کے حق میں میری بات ماننے سے بھی انکار کردیا ہے۔