Musnad Ahmad #22465
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُغِيرَ عَلَى وَلَدِي وَمَالِي! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا الْمَالُ فَقَدْ اقْتُسِمَ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَاذْهَبْ مَعَهُ يَا بِلَالُ، فَإِنْ عَرَفَ وَلَدَهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ" , قَالَ: فَذَهَبَ مَعَهُ فَأَرَاهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: تَعْرِفُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ , فَدَفَعَهُ، فَذَهَبَ إِلَيْهِ , قَالَ سُفْيَانُ: يَرَوْنَ أَنَّهُ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُغَارَ عَلَيْهِ.
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت رعیہ سحیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بیٹے اور مال کو حملہ کر کے چھین لیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا مال تو تقسیم ہوچکا البتہ بلال! انہیں اپنے ساتھ ان کے بچے کے پاس لے جاؤ اگر ان کا بچہ انہیں شناخت کرے تو اسے ان کے حوالے کردو، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے اور ان کا بیٹا دکھا دیا اور اس سے پوچھا کہ تم انہیں پہچانتے ہو؟ اس نے اعتراف کیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں اسے ان کے حوالے کردیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ علماء کا خیال ہے کہ رعیہ قبل از حملہ اسلام قبول کرچکے تھے۔ فائدہ۔ مکمل وضاحت کے لئے حدیث پڑھیے۔