Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 962

انصار صحابہ کی روایات

ایک عورت کی احادیث، رضی اللہ عنہ

2 hadiths in this chapter

22331

Musnad Ahmad #22331

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ خَالَتِهِ ، قَالَتْ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ إِصْبَعَهُ مِنْ لَدْغَةِ عَقْرَبٍ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: لَا عَدُوَّ، وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، عِرَاضُ الْوُجُوهِ، صِغَارُ الْعُيُونِ، شُهْبُ الشِّعَافِ، مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابن حرملہ اپنی خالہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بچھو نے ڈنک مارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر پٹی باندھی ہوئی تھی اور خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے تم لوگ کہتے ہو کہ اب تمہارا کوئی دشمن نہیں رہا حالانکہ تم خروج یاجوج ماجوج تک اپنے دشمنوں سے لڑتے رہو گے جن کے چہرے چوڑے آنکھیں چھوٹی اور سرخی مائل سفید بال ہوں گے اور وہ ہر بلندی سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے اور ان کے چہرے چپٹی ہوئی کمانوں کی طرح لگیں گے۔

22332

Musnad Ahmad #22332

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ الْأَشْجَعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةِ خَيْبَرَ وَأَنَا سَادِسُ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعَهُ نِسَاءً، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " مَا أَخْرَجَكُنَّ وَبِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟" فَقُلْنَا: خَرَجْنَا نُنَاوِلُ السِّهَامَ، وَنَسْقِي النَّاسَ السَّوِيقَ، وَمَعَنَا مَا نُدَاوِي بِهِ الْجَرْحَى، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ، وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , قَالَ: قُمْنَ فَانْصَرِفْنَ" , فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ، أَخْرَجَ لَنَا سِهَامًا كَسِهَامِ الرَّجُلِ" , قُلْتُ: يَا جَدَّةُ، مَا أَخْرَجََكُنَّ؟ قَالَتْ: تَمْرًا.

اردو ترجمہ · Urdu

حشرج بن زیاد اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلی میں اس وقت چھ میں سے چھٹی عورت تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ان کے ہمراہ خواتین بھی ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس پیغام بھیجا کہ تم کیوں نکلی ہو اور کس کی اجازت سے نکلی ہو؟ ہم نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس لئے نکلے ہیں تاکہ ہمیں بھی حصہ ملے ہم لوگوں کو ستو گھول کر پلا سکیں ہمارے پاس مریضوں کے علاج کا سامان بھی ہے ہم بالوں کو کات لیں گی اور اللہ کے راستہ میں اس کے ذریعے ان کی مدد کریں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ واپس چلی جاؤ جب اللہ نے خیبر کو فتح کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی مردوں کی طرح حصہ مرحمت فرمایا میں نے اپنی دادی سے پوچھا کہ دادی جان! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کیا حصہ دیا؟ انہوں نے جواب دیا کھجوریں۔