Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 925

انصار صحابہ کی روایات

وہ روایات جو دیگرمشائخ نے ان سے نقل کی ہیں۔

14 hadiths in this chapter

21275

Musnad Ahmad #21275

Sahih

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَوْ عَنْ، رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1 فَكَأَنَّمَا قَرَأَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سورت اخلاص پڑھ لے یہ ایسے ہے جیسے اس نے ایک تہائی قرآن کی تلاوت کی۔

21276

Musnad Ahmad #21276

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ: وحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ الثَّقَفِيُّ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، قَالَ وَهْبٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ، كُنَّا نَفْعَلُهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ إِذْ كَانَ فِي الثِّيَابِ قِلَّةٌ، فَأَمَّا إِذْ وَسَّعَ اللَّهُ، فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكَى .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت سے ثابت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم اس طرح کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں اس پر طعنہ نہیں دیتا تھا یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ حکم اس وقت تھا جب لوگوں کے پاس کپڑوں کی قلت ہوتی تھی اب جب اللہ نے وسعت دے دی ہے تو دو کپڑوں میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔

21277

Musnad Ahmad #21277

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَسَافَرَ سَنَةً، فَلَمْ يَعْتَكِفْ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے ایک سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اس لئے اعتکاف نہیں کرسکے چنانچہ جب اگلا سال آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔

21278

Musnad Ahmad #21278

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ" أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟" قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَرَدَّدَهَا مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ، قَالَ: " لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ"، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أُبَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ قرآن کریم میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال کئی مرتبہ دہرایا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا آیت الکرسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ابوالمنذر! تمہیں علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عرش کے پائے کے پاس یہ اللہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہوگی اور اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے۔

21279

Musnad Ahmad #21279

Hasan

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا عَلَى بَلِيٍّ وَعُذْرَةَ وَجَمِيعِ بَنِي سَعْدٍ بْنِ هُذَيْمِ بْنِ قُضَاعَةَ، وَقَالَ يَعْقُوبُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ قُضَاعَةَ، قَالَ: فَصَدَّقْتُهُمْ، حَتَّى مَرَرْتُ بِآخِرِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، وَكَانَ مَنْزِلُهُ وَبَلَدُهُ مِنْ أَقْرَبِ مَنَازِلِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا جَمَعَ إِلَيَّ مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا صَدَقَتُهُ، قَالَ: فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولٌ لَهُ قَطُّ قَبْلَكَ، وَمَا كُنْتُ لِأُقْرِضَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ مَالِي مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ فَتِيَّةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، فَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ، فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلَهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَّهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنِّي صَدَقَةَ مَالِي، وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولٌ لَهُ قَطُّ قَبْلَهُ، فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي، فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلَيَّ فِيهِ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً فَتِيَّةً سَمِينَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ ذَلِكَ، وَقَالَ: هَا هِيَ هَذِهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ قَبِلْنَاهُ مِنْكَ، وَآجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ"، قَالَ: فَهَا هِيَ ذِهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا، وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلی، عذرہ اور تمام بنو سعد بن ہذیم کی طرف زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا میں نے ان سے زکوٰۃ وصول کی اور سب سے آخری آدمی کے پاس آگیا اس کا گھر اور علاقہ مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ قریب تھا جب اس نے اپنا سارا مال میرے سامنے پیش کیا تو اس کی زکوٰۃ صرف ایک بنت مخاض بنتی تھی میں نے اسے بتادیا کہ اس کی زکوٰۃ اتنی بنتی ہے اس نے کہا کہ اس اونٹنی میں تو دودھ ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہے بخدا! اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کا کوئی قاصد کبھی میرے مال میں آکر کھڑا نہیں ہوا اب میں اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کو ایسا جانور قرض نہیں دے سکتا جس میں دودھ ہو اور نہ ہی وہ سواری کے قابل ہو البتہ یہ جوان اور صحت مند اونٹنی موجود ہے اسے لے لو میں نے کہا کہ میں تو ایسی چیز نہیں لے سکتا جس کی مجھے اجازت نہ ہو البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے قریب ہی ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس چل کر وہی پیش کش کردو جو تم نے میرے سامنے رکھی ہے اگر انہوں نے قبول کرلیا تو بہت اچھا ورنہ وہ تمہیں واپس کردیں گے اس نے کہا کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ نکل پڑا اور اپنے ساتھ وہ اونٹنی بھی لے لی جو اس نے مجھے پیش کی تھی یہاں تک کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! میرے پاس آپ کا قاصد میرے مال کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آیا اللہ کی قسم اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کا کوئی قاصد کبھی میرے مال میں آکر کھڑا نہیں ہوا سو میں نے اپنا سارا مال اکٹھا کیا قاصد کا خیال یہ تھا کہ اس مال میں مجھ پر ایک بنت مخاض واجب ہوتی ہے لیکن وہ اونٹنی ایسی تھی کہ جس میں دودھ تھا اور نہ ہی وہ سواری کے قابل تھی اس لئے میں نے اس کے سامنے ایک جوان اور صحت مند اونٹنی پیش کی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کردیا اب یا رسول اللہ! یہ سب آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا ہوں آپ اسے قبول فرما لیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر زکوٰۃ تو اتنی ہی بنتی تھی البتہ اگر تم خود سے نیکی کرنا چاہتے ہو تو ہم قبول کرلیتے ہیں اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا اس نے وہ اونٹنی پیش کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعاء فرمائی۔

21280

Musnad Ahmad #21280

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أُبَيٍّ، وَزَادَ فِيهِ، قَالَ عُمَارَةُ: وَقَدْ وُلِّيتُ صَدَقَاتِهِمْ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَخَذْتُ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً لِأَلْفٍ وَخَمْسِ مِئَةِ بَعِيرٍ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21281

Musnad Ahmad #21281

See Details

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ الْخُزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد، حَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَتَرَكَ آيَةً، فَقَالَ: " أَيُّكُمْ أَخَذَ عَلَيَّ شَيْئًا مِنْ قِرَاءَتِي؟" فَقَالَ أُبَيٌّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَلِمْتُ إِنْ كَانَ أَحَدٌ أَخَذَهَا عَلَيَّ، فَإِنَّكَ أَنْتَ هُوَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دوران تلاوت ایک آیت چھوڑ دی نماز کے بعد فرمایا تم میں سے کس نے میری قرأت میں نئی چیز محسوس کی ہے؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے فلاں فلاں آیت چھوڑ دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے معلوم تھا کہ اگر کسی نے اس چیز کو محسوس کیا ہوگا تو وہ تم ہی ہوگے۔

21282

Musnad Ahmad #21282

Zaeef

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ وَلَدِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ؟" وَهُوَ حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ، قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ لَوَجَعٌ مَا أَصَابَنِي قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ تَحْمَرُّ مَرَّةً وَتَصْفَرُّ أُخْرَى" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا ام ملدم (بخار) کو ختم ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے یہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی مثال اس دانے کی سی ہے جو کبھی سرخ ہوتا ہے اور کبھی زرد۔

21283

Musnad Ahmad #21283

Hasan

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، أَنَّ عُمَرَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ، وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبَرَةِ، لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ .

اردو ترجمہ · Urdu

حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ حج تمتع کی ممانعت کردیں تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا آپ ایسا نہیں کرسکتے ہم نے خو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس ارادے سے رک گئے پھر ان کا ارادہ ہوا کہ دھاری دار یمنی چادروں اور حلوں سے منع کردیں کہ ان پر پیشاب کا رنگ چڑھایا جاتا ہے تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ یہ بھی نہیں کرسکتے اس لئے کہ یہ چادریں تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیب تن فرمائیں اور ہم نے بھی ان کے دور باسعادت میں پہنی ہیں۔

21284

Musnad Ahmad #21284

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ ، قَالَ: أَقْبَلَ هُوَ وَنَفَرٌ مَعَهُ، فَوَجَدُوا سَوْطًا، فَأَخَذَهُ صَاحِبُهُ، فَلَمْ يَأْمُرُوهُ وَلَمْ يَنْهَوْهُ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: وَجَدْتُ مِئَةَ دِينَارٍ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلًا" فَكَرَّرَ عَلَيْهِ، حَتَّى ذَكَرَ أَحْوَالًا ثَلَاثَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ:" شَأْنُكَ بِهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چند لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے راستے میں انہیں ایک درہ گرا پڑا ملا ان کے ایک ساتھی نے اسے اٹھالیا لوگوں نے اسے منع کیا اور نہ حکم دیا، مدینہ منورہ پہنچ کر میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کرو تین سال تک اس طرح ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔

21285

Musnad Ahmad #21285

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الرَّقَاشِيُّ الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ ابْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ، اجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ نَفَسًا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ طَعَامِهِ فِي مَهَلٍ، وَيَقْضِي الْمُتَوَضِّئُ حَاجَتَهُ فِي مَهَلٍ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا بلال! اپنی اذان اور اقامت کے درمیان کچھ وقفہ کرلیا کرو تاکہ اس وقفے میں جو شخص کھانا کھا رہا ہو وہ اس سے فارغ ہوجائے اور جس نے وضو کرنا ہو وہ قضاء حاجت سے فارغ ہوجائے۔

21286

Musnad Ahmad #21286

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، أَخْبَرَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا بِلَالُ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21287

Musnad Ahmad #21287

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَرَاءَةٌ، وَهُوَ قَائِمٌ يُذَكِّرُ بِأَيَّامِ اللَّهِ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وِجَاهَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَبُو ذَرٍّ، فَغَمَزَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَحَدُهُمَا فَقَالَ: مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ يَا أُبَيُّ؟ فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ! فَأَشَارَ إِلَيْهِ، أَنْ اسْكُتْ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ فَلَمْ تُخْبِرْنِي، قَالَ أُبَيٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، وَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ، فَقَالَ:" صَدَقَ أُبَيٌّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برسر منبر سورت برأت کی تلاوت فرمائی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اللہ کے احسانات کا تذکرہ فرما رہے تھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ان کے ہمراہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ کو چٹکی بھری اور کہا کہ ابی! یہ سورت کب نازل ہوئی ہے؟ یہ تو میں ابھی سن رہا ہوں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں اشارے سے خاموش رہنے کا حکم دیا۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی تو آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج تو تمہاری نماز صرف اتنی ہی ہوئی ہے جتنا تم نے اس میں یہ لغو کام کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے اور حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی یہ بات ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابی نے سچ کہا۔

21288

Musnad Ahmad #21288

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ أُبَيِّ بْنَ كَعْبٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جَاءَ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَافْتَتَحَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ جِبْرِيلُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَعِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَافْتَحْ، فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ تَبَسَّمَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى، قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ، قَالَ: قُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ هُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، قَالَ: ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى جَاءَ السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: لِخَازِنِهَا افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا: مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَفَتَحَ لَهُ"، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يُثْبِتْ لِي كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ، قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ، قَالَ: ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ هَذَا: مُوسَى، ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ هَذَا: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، قَالَ: ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ هَذَا: إِبْرَاهِيمُ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ بِمُسْتَوًى أَسْمَعُ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ" قَالَ ابْنُ حَزْمٍ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً، فَقَالَ لِي مُوسَى رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ: قَدْ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى، قَالَ: فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ مَا أَدْرِي مَا هِيَ! قَالَ: ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ"..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ معراج بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس زمانے میں میں مکہ مکرمہ میں تھا ایک رات میرے گھر کی چھت کھل گئی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نیچے اترے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اسے آب زمزم سے دھویا پھر سونے کی ایک طشتری لائے جو ایمان و حکمت سے بھرپور تھی اور اسے میرے سینے میں انڈیل کر اسے بند کردیا پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آسمانوں پر لے گئے اور آسمان دنیا پر پہنچ کر دروازہ بجایا اندر سے کسی نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ہوں، اس نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں دروازہ کھولو جب ہم وہاں پہنچے تو ایک آدمی نظر آیا جس کے دائیں بائیں کچھ لوگ بھی تھے دائیں طرف جب وہ دیکھتا تو مسکراتا اور بائیں طرف دیکھتا تو رونے لگتا، اس نے مجھے دیکھ کر "" خوش آمدید "" نیک نبی اور نیک بیٹے کو "" کہا میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جو دائیں بائیں لوگ نظر آرہے ہیں، وہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں دائیں ہاتھ والے جنتی ہیں اور بائیں ہاتھ والے جہنمی ہیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے دوسرے آسمان پر لے گئے اور اس کے دربان سے دروازے کھولنے کے لئے کہا اور یہاں بھی حسب سابق سوال و جواب ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آسمانوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم (علیہم السلام) سے ملاقات کی لیکن انہوں نے آسمانوں کی تعین نہیں کی صرف اتنا ہی ذکر کیا کہ آسمان دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام کو پایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر پایا۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے کہا "" نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید "" میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت ادریس علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا "" نیک نبی اور نیک بھائی خوش آمدید "" میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا "" نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید "" میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا "" نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید "" میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں پھر مجھے مزید اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں میں قلموں کے چلنے کی آواز سن رہا تھا۔" اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں میں اس تحفے کو لے کر واپس ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا انہوں نے پوچھا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے انہیں بتایا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کہا کہ اپنے رب کے پاس واپس جائیے آپ کی امت میں اتنی نمازیں ادا کرنے کی طاقت نہیں ہوگی چنانچہ میں نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر اس سے درخواست کی تو اس نے اس کا کچھ حصہ معاف کردیا (جو بالآخر ہوتے ہوتے پانچ نمازوں پر رک گیا) لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر واپس جانے کا مشورہ دیا اس مرتبہ ارشاد ہوا کہ نمازیں پانچ ہیں اور ان پر ثواب پچاس کا ہے میرے یہاں بات بدلا نہیں کرتی واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھے پھر تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن میں نے ان سے کہہ دیا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے پھر مجھے سدرۃ المنتہی پر لے جایا گیا جیسے ایسے رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا جن کی حقیقت مجھے معلوم نہیں پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو وہاں موتیوں کے خیمے نظر آئے اور وہاں کی مٹی مشک تھی۔