Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 923

انصار صحابہ کی روایات

قیس بن عباد کی احادیث ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مرویات

1 hadith in this chapter

21264

Musnad Ahmad #21264

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ قَتَادَةَ ، عَنْ قَيْسٍ يَعْنِي ابْنَ عُبَادٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَسْقَطْتُهُ مِنْ كِتَابِي، هُوَ عَنْ قَيْسٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِلُقِيِّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَلْقَاهُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أُبَيٍّ ، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَعَرَفَهُمْ غَيْرِي، فَنَحَّانِي وَقَامَ فِي مَكَانِي، فَمَا عَقِلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: يَا بُنَيَّ لَا يَسُؤْكَ اللَّهُ، فَإِنِّي لَمْ آتِكَ الَّذِي أَتَيْتُكَ بِجَهَالَةٍ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا: " كُونُوا فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِينِي وَإِنِّي نَظَرْتُ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُهُمْ غَيْرَكَ"، ثُمَّ حَدَّثَ، فَمَا رَأَيْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتْ أَعْنَاقَهَا إِلَى شَيْءٍ مُتُوحَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقْدَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، أَلَا لَا عَلَيْهِمْ آسَى، وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ يَهْلِكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا هُوَ أُبَيٌّ، وَالْحَدِيثُ عَلَى لَفْظِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُد .

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کر امی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے شوق میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ حاضر ہوا ان میں سے جس سے ملنے کی مجھے سب سے زیادہ خواہش تھی وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے متعلق نہ تھی چنانچہ اقامت ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ باہر نکلے تو میں پہلی صف میں کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک آدمی آیا اور سب لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو اس نے میرے علاوہ سب کو شناخت کرلیا چنانچہ اس نے مجھے ایک طرف کیا اور خود میری جگہ کھڑا ہوگیا مجھے اپنی نماز کی کچھ سمجھ نہ آئی کہ میں نے وہ کس طرح پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر اس نے مجھ سے کہا بیٹا! برا نہ منانا میں نے تمہارے ساتھ یہ معاملہ کسی جہالت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ میرے قریب کی صف میں کھڑے ہوا کرو میں نے جب لوگوں کو دیکھا تو تمہارے علاوہ سب کو پہچان لیا پھر انہوں نے ایک حدیث بیان کی جس کے دوران میں نے لوگوں کی گردنیں ان کی طرف جس طرح متوجہ ہوتے ہوئے دیکھیں کسی اور چیز کی طرف نہیں دیکھیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے رب کعبہ کی قسم اہل حل و عقد ہلاک ہوگئے یاد رکھو مجھے ان پر کوئی افسوس نہیں مجھے افسوس تو ان مسلمانوں پر ہے جو ان کی وجہ سے ہلاک ہوگئے بعد میں پتہ چلا کہ وہ آدمی حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہی تھے۔