Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 919

انصار صحابہ کی روایات

عطی بن دمرہ السعدی کی احادیث ابی بن کعب کی سند سے رضی اللہ عنہما

8 hadiths in this chapter

21233

Musnad Ahmad #21233

Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعَضَّهُ، وَلَمْ يُكَنِّهِ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ، إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَ هَذَا، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَنَا إِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ يَعْتَزِي بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ، وَلَا تَكْنُوا" .

اردو ترجمہ · Urdu

عتی بن ضمرہ سعدی کے ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلائی لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ تو ایسی کھلی گفتگو نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس آدمی کو جاہلیت کی نسبت کرتے ہوئے سنو تو اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلاؤ۔

21234

Musnad Ahmad #21234

Hasan

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا تَعَزَّى عِنْدَ أُبَيٍّ بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، افْتَخَرَ بِأَبِيهِ، فَأَعَضَّهُ بِأَبِيهِ وَلَمْ يُكَنِّهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَمَا إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ إِلَّا ذَلِكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلَا تَكْنُوا" ..

اردو ترجمہ · Urdu

عتی بن ضمرہ سعدی کے ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلائی لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ تو ایسی کھلی گفتگو نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس آدمی کو جاہلیت کی نسبت کرتے ہوئے سنو تو اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلاؤ۔

21235

Musnad Ahmad #21235

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْد الله، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ..

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ عتی بن ضمرہ سعدی کے ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس آدمی کو جاہلیت کی نسبت کرتے ہوئے سنو تو اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلاؤ۔

21236

Musnad Ahmad #21236

Hasan

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، أَنَّ رَجُلًا تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أُبَيٌّ كُنَّا نُؤْمَرُ" إِذَا الرَّجُلُ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعِضُّوهُ بِهَنِ أَبِيهِ وَلَا تَكْنُوا"..

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21237

Musnad Ahmad #21237

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ كُنَّا نُؤْمَرُ" إِذَا اعْتَزَى رَجُلٌ"، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21238

Musnad Ahmad #21238

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِلْوُضُوءِ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ: الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوهُ أَوْ قَالَ: فَاحْذَرُوهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وضو کا بھی شیطان ہوتا ہے جسے " ولہان " کہا جاتا ہے اس سے بچتے رہو۔

21239

Musnad Ahmad #21239

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا، وَإِنْ قَزَّحَهُ، وَمَلَّحَهُ، فَانْظُرُوا إِلَى مَا يَصِيرُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابن آدم کا کھانا ہی دنیا کی مثال قرار دیا گیا ہے کہ اس میں جتنے مرضی نمک مصالحے ڈال لو یہ دیکھو کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟

21240

Musnad Ahmad #21240

Zaeef

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَقَالَ: إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، قَالَ: لِبَنِيهِ أَيْ بَنِيَّ إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ، فَاسْتَقْبَلَتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَمَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ، وَمَعَهُمْ الْفُئُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ، فَقَالُوا لَهُمْ: يَا بَنِي آدَمَ، مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ؟ قَالُوا: أَبُونَا مَرِيضٌ، فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالُوا: لَهُمْ ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ قَضَاءُ أَبِيكُمْ، فَجَاءوا فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ، فَلَاذَتْ بِآدَمَ، فَقَالَ: إِلَيْكِ عَنِّي فَإِنِّي إِنَّمَا أُوتِيتُ مِنْ قِبَلِكِ، خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَقَبَضُوهُ، وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ، وَحَفَرُوا لَهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ، وَصَلَّوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ، ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ .

اردو ترجمہ · Urdu

عتی کہتے ہیں کہ میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا (یہ کون ہیں) لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا بچو! میرا دل جنت کا پھل کھانے کی خواہش کر رہا ہے چنانچہ ان کے بیٹے جنتی پھل کی تلاش میں نکل گئے سامنے سے فرشتے آتے ہوئے دکھائی دیئے ان کے ساتھ کفن اور حنوط تھی اور ان کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں، پھاوڑے اور کسیاں بھی تھیں فرشتوں نے ان سے پوچھا کہ اے اولاد آدم کہاں کا ارادہ ہے اور کس چیز کو تلاش کر رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے والد بیمار ہیں اور ان کا دل جنتی پھل کھانے کو چاہ رہا ہے فرشتوں نے ان سے کہا کہ واپس چلے جاؤ کہ تمہارے والد کا وقت آخر قریب آگیا ہے۔ فرشتے جب حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچے تو حضرت حواء (علیہا السلام) انہیں دیکھتے ہی پہچان گئیں اور حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ چمٹ گئیں حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا پیچھے ہٹو تمہاری ہی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملات پیش آئے میرا اور میرے رب کے فرشتوں کا راستہ چھوڑ دو چنانچہ فرشتوں نے ان کی روح قبض کرلی انہیں غسل دیا کفن پہنایا، حنوط لگائی گڑھا کھود کر قبر تیار کی ان کی نماز جنازہ پڑھی پھر قبر میں اتر کر انہیں قبر میں لٹایا اور اس پر کچی اینٹیں برابر کردیں پھر قبر سے باہر نکل کر ان پر مٹی ڈالنے لگے اور اس کے بعد کہنے لگے اے بنی آدم! یہ ہے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ۔