Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 908

انصار صحابہ کی روایات

عبداللہ بن عباس کی احادیث ابی بن کعب سے مروی رضی اللہ عنہما

23 hadiths in this chapter

21109

Musnad Ahmad #21109

Sahih

قَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ فِي حَدِيثِهِ:" فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ مُوسَى: لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ فَقَدَ الْحُوتَ، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَجَعَلَ مُوسَى يَتْبَعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، قَالَ: فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کا اور حر بن قیس فزاری کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفیق کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کی طرف سفر کر کے جانے کی بارگاہ الہٰی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی تھی ، حضرت ابن عباس ؓ کی رائے یہ تھی کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے اسی دوران وہاں سے حضرت ابی بن کعب ؓ کا گذر ہوا حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں پکار کر کہا کہ میرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات میں اختلاف ہوگیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ ساتھی کون تھا جس کی طرف سفر کر کے ملنے کی درخواست انہوں نے کی تھی ؟ کیا آپ نے اس حوالے سے نبی کریم ﷺ کو کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کسی اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کے علم میں اپنے سے بڑا عالم بھی ہے ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی آئی کہ ہمارا ایک بندہ خضر تم سے بڑا عالم ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کا طریقہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان کی لئے نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو واپس آجانا کیونکہ وہیں پر تمہاری ان سے ملاقات ہوجائے گی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام سفر پر روانہ ہوئے تو ایک منزل پر پڑاؤ کیا اور اپنے خادم سے کہنے لگے ہمارا ناشتہ لاؤ اس سفر میں تو ہمیں بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی کو غائب پایا تو دونوں اپنے نشانات قدم پر چلتے ہوئے واپس لوٹے اور پھر وہ قصہ پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے ۔

21110

Musnad Ahmad #21110

Sahih

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، قَالَ مِسْعَرٌ يَعْنِي السَّنَةَ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عُمَرُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَمَا زَالَ يَنْسُبُهُ حَتَّى عَرَفَهُ، فَإِذَا هُوَ مُوسَر، فَقَالَ عُمَرُ: " لَوْ أَنَّ لِامْرِئٍ وَادِيًا أَوْ وَادِيَيْنِ، لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ"، فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ مِنْ أُبَيٍّ . قَالَ: فَإِذَا كَانَ بِالْغَدَاةِ، فَاغْدُ عَلَيَّ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أُمِّ الْفَضْلِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: وَمَا لَكَ وَلِلْكَلَامِ عِنْدَ عُمَرَ! وَخَشِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ يَكُونَ أُبَيٌّ نَسِيَ، فَقَالَتْ أُمُّهُ إِنَّ أُبَيًّا عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ نَسِيَ، فَغَدَا إِلَى عُمَرَ وَمَعَهُ الدِّرَّةُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى أُبَيٍّ، فَخَرَجَ أُبَيٌّ عَلَيْهِمَا وَقَدْ تَوَضَّأَ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَصَابَنِي مَذْيٌ، فَغَسَلْتُ ذَكَرِي أَوْ فَرْجِي، مِسْعَرٌ شَكَّ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَيُجْزِئُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَصَدَّقَهُ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہمیں قحط سالی نے کھالیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کے نسب نامے کو کریدتے رہے یہاں تک کہ اسے شناخت کرلیا اور پتہ یہ چلا کہ وہ تو مالی طور پر وسعت رکھتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر کسی شخص کے پاس (مال و دولت کی ایک دو وادیاں بھی ہوں تب بھی وہ تیسری کی تلاش میں ہوگا اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ اضافہ کردیا کہ ابن آدم کا پیٹ تو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے پھر اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے بتایا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کل میرے پاس آنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جب اپنی والدہ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا انہوں نے فرمایا کہ تمہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ اب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں حضرت ابی رضی اللہ عنہ اسے بھول ہی نہ گئے ہوں لیکن ان کی والدہ نے انہیں تسلی دی کہ امید ہے کہ وہ اس بات کو نہیں بھولے ہوں گے۔ چنانچہ اگلے دن جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ان کے پاس کوڑا پڑا ہوا تھا ہم دونوں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے حضرت ابی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو انہوں نے تازہ وضو کیا ہوا تھا وہ کہنے لگے کہ مجھے " مذی " لاحق ہوگئی تھی اس لئے میں نے فقط شرمگاہ کو دھولیا (اور وضو کرلیا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی۔

21111

Musnad Ahmad #21111

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً، وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى، هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ شَيْئًا؟ ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ: كَمْ مَالُكَ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبً لَابْتَغَى الثَّالِثَ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ"، فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ، قَالَ: فَمَرَّ بِنَا إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ أُبَيٌّ: هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفَأُثْبِتُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَثْبَتَهَا .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہمیں قحط سالی نے کھالیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کے نسب نامے کو کریدتے رہے یہاں تک کہ اسے شناخت کرلیا اور پتہ یہ چلا کہ وہ تو مالی طور پر وسعت رکھتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر کسی شخص کے پاس (مال و دولت کی ایک دو وادیاں بھی ہوں تب بھی وہ تیسری کی تلاش میں ہوگا اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ اضافہ کردیا کہ ابن آدم کا پیٹ تو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے پھر اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے بتایا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کل میرے پاس آنا چنانچہ اگلے دن وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھایا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا میں اسے لکھ لوں؟ انہوں نے فرمایا ہاں چنانچہ انہوں نے اسے لکھ لیا۔

21112

Musnad Ahmad #21112

Sahih

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أُبَيًّا ، قَالَ لِعُمَرَ" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي تَلَقَّيْتُ الْقُرْآنَ مِمَّنْ تَلَقَّاهُ"، وَقَالَ عَفَّانُ مِمَّنْ يَتَلَقَّاهُ، مِنْ جِبْرِيلَ وَهُوَ رَطْبٌ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا امیرالمؤمنین! میں نے قرآن کریم اس ذات سے تازہ بتازہ حاصل کیا ہے جس نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اسے حاصل کیا تھا۔

21113

Musnad Ahmad #21113

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبِيٍّ ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ سورة التوبة آية 128 .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری آیت جو نازل ہوئی وہ یہ تھی " لقدجاء کم رسول میں انفسکم۔۔۔۔۔۔۔۔ "

21114

Musnad Ahmad #21114

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعُمُ، أَو يَقُولُ: لَيْسَ مُوسَى صَاحِبَ خَضِرٍ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: كَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ مُوسَى قَامَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا، فَقَالُوا لَهُ: مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَنَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ لِي عَبْدًا أَعْلَمَ مِنْكَ، قَالَ: رَبِّ فَأَرِنِيهِ، قَالَ: قِيلَ: تَأْخُذُ حُوتًا، فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ، فَهُوَ ثَمَّ، قَالَ: فَأَخَذَ حُوتًا، فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ، وَجَعَلَ هُوَ وَصَاحِبُهُ يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَرَقَدَ مُوسَى، وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ، فَحَبَسَ اللَّهُ عَلَيْهِ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ الْمَاءُ، فَاسْتَيْقَظَ مُوسَى، فَقَالَ: لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، وَلَمْ يُصِبْ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ، قَالَ: فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا، وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، قَالَ: أَمْسَكَ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ، فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّاقِ، فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا، وَكَانَ لِمُوسَى عَجَبًا، حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى، عَلَيْهِ ثَوْبٌ، فَسَلَّمَ مُوسَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، قَالَ: يَا مُوسَى، إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ لَا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ، فَعَرَفُوا الْخَضِرَ، فَحُمِلَ بِغَيْرِ نَوْلٍ، فَلَمْ يُعْجِبْهُ، وَنَظَرَ فِي السَّفِينَةِ، فَأَخَذَ الْقَدُومَ يُرِيدُ أَنْ يَكْسِرَ مِنْهَا لَوْحًا، فَقَالَ: حُمِلْنَا بِغَيْرِ نَوْلٍ وَتُرِيدُ أَنْ تَخْرُقَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا؟ قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا؟! قَالَ: إِنِّي نَسِيتُ، وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ، قَالَ: الْخَضِرُ مَا يُنْقِصُ عِلْمِي وَلَا عِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ، فَانْطَلَقَا حَتَّى إذا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ، اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا، فَرَأَى غُلَامًا فَأَخَذَ رَأْسَهُ، فَانْتَزَعَهُ، فَقَالَ: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ؟! لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ، إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا؟! قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَمْرٌو: وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى، قَالَ: فَانْطَلَقَا، فَإِذَا جِدَارٌ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ، فَأَقَامَهُ، وَأَرَانَا سُفْيَانُ بِيَدَيْهِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ هَكَذَا رَفْعًا، فَوَضَعَ رَاحَتَيْهِ، فَرَفَعَهُمَا بِبَطْنِ كَفَّيْهِ رَفْعًا، فَقَالَ: لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَتْ الْأُولَى نِسْيَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، لَوْ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو (اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سو گئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھر کے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا (اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے۔ پتھر تک پہنچے ہی تھے کہ ایک آدمی کپڑے سے سر لپیٹے ہوئے نظر آیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا خضر بولے تمہارے ملک میں سلام کا رواج کہاں ہے (یہ تم نے سلام کیسے کیا؟) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں موسیٰ ہوں خضر بولے کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ میں نے کہا جی ہاں اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ہمراہ اس شرط پر چل سکتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ حصہ کی مجھے بھی تعلیم دیجئے حضرت خضر علیہ السلام بولے آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکیں گے (درمیان میں بول اٹھیں گے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص کا مجھے وہ حصہ عطا فرمایا ہے جو آپ کو نہیں دیا اور آپ کو وہ علم دیا جس سے میں ناواقف ہوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ان شاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا) آخرکار دونوں دریا کے کنارے کنارے چل دیئے کہ کشتی موجود نہ تھی اتنے میں ادھر سے ایک کشتی کا گزر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے سوار ہونے کے متعلق کچھ بات چیت کی حضرت خضر علیہ السلام کو لوگوں نے پہچان لیا اس لئے کشتی والوں نے دونوں کو بغیر کرایہ کے سوار کرلیا اس کے بعدخضر علیہ السلام نے کشتی کو اچھی طرح دیکھ کر بسولا نکال کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے تو بغیر کرایہ کے ہم کو سوار کرلیا اور تم نے ان کی کشتی توڑ کر سب کو ڈبونا چاہا تم نے یہ عجیب بات کی؟ خضر علیہ السلام بولے میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کیجئے اور مجھ پر میرے کام میں دشواری نہ ڈالیے اسی دوران ایک چڑیا نے آکر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میرا اور تمہارا علم اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں کرسکتا جتنی کمی اس چڑیا نے اس سمندر کے پانی میں کی ہے۔ پھر یہ دونوں حضرات کشتی سے نکل کر چل دیئے راستہ میں ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر علیہ السلام نے اس کا سرپکڑ کر اپنے ہاتھ سے گردن اکھاڑ دی حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے تم نے جو ایک معصوم جان کو بلا قصور مار ڈالا یہ تم نے بہت برا کام کیا خضر علیہ السلام بولے کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ضبط نہ کرسکو گے موسیٰ نے کہا اچھا اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ دریافت کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھنا آپ نے میرا عذر بہت مان لیا آخر کار پھر دونوں چل دیئے چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کردیا ان کو وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اس کو سیدھا کردیا حضرت

21115

Musnad Ahmad #21115

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا"..

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21116

Musnad Ahmad #21116

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَإِذَا الجِدَارُ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ"، قَالَ بِيَدِيْهِ فَرَفَعَهُمَا رَفْعًا..

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21117

Musnad Ahmad #21117

Sahih

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِمْلَاءً عَلَيَّ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ عَبْدُ الله، قَالَ أَبِي: كَتَبْتُهُ عَنْ بَهْزٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ، حتى أن نوفا يزعم أن موسى ليس بصاحب الخضر، قَالَ: فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَامَ مُوسَى خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ قَالَ: أَنَا، فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، قَالَ: بَلْ عَبْدٌ لِي عِنْدَ مَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ فَكَيْفَ لِي بِهِ؟ قَالَ: خُذْ حُوتًا، فَاجْعَلْهُ فِي مِكْتَلٍ، ثُمَّ انْطَلِقْ، فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ، فَهُوَ ثَمَّ، فَانْطَلَقَ مُوسَى وَمَعَهُ فَتَاهُ يَمْشِيَانِ، حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَرَقَدَ مُوسَى، وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَخَرَجَ، فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ مِثْلَ الطَّاقِ، وَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا، وَقَالَ سُفْيَانُ: فَعَقَدَ الْإِبْهَامَ وَالسَّبَّابَةَ، وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، قَالَ مُوسَى: لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، قَالَ: وَلَمْ يَجِدْ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ حَيْثُ أُمِرَ، قَالَ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا، قَالَ: وَكَانَ لِمُوسَى أَثَرُ الْحُوتِ عَجَبًا، وَلِلْحُوتِ سَرَبًا"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21118

Musnad Ahmad #21118

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ الَّذِي ذَهَبَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لَيْسَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُتَّكِئًا، فَاسْتَوَى جَالِسًا، فَقَالَ: كَذَلِكَ يَا سَعِيدُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: ذَاكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَبَ نَوْفٌ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى صَالِحٍ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى أَخِي عَادٍ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ مُوسَى بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ قَوْمَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ قَالَ لَهُمْ: مَا فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ أَعْلَمُ مِنِّي، وَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ فِي الْأَرْضِ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تُزَوَّدَ حُوتًا مَالِحًا، فَإِذَا فَقَدْتَهُ، فَهُوَ حَيْثُ تَفْقِدُهُ، فَتَزَوَّدَ حُوتًا مَالِحًا، فَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرُوا بِهِ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى الصَّخْرَةِ، انْطَلَقَ مُوسَى يَطْلُبُ، وَوَضَعَ فَتَاهُ الْحُوتَ عَلَى الصَّخْرَةِ، وَاضْطَرَبَ، فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، قَالَ: فَتَاهُ إِذَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ حَدَّثْتُهُ، فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ، فَانْطَلَقَا، فَأَصَابَهُمْ مَا يُصِيبُ الْمُسَافِرَ مِنَ النَّصَبِ وَالْكَلَالِ، وَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُهُ مَا يُصِيبُ الْمُسَافِرَ مِنَ النَّصَبِ وَالْكَلَالِ، حَتَّى جَاوَزَ مَا أُمِرَ بِهِ، فَقَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، قَالَ لَهُ: فَتَاهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِنِّي نَسِيتُ أَنْ أُحَدِّثَكَ، وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ، فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، قَالَ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَرَجَعَا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، يَقُصَّانِ الْأَثَرَ، حَتَّى إِذَا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَأَطَافَ بِهَا، فَإِذَا هُوَ مُسَجًّى بِثَوْبٍ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ مُوسَى قَالَ مَنْ مُوسَى؟ قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّ عِنْدَكَ عِلْمًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَصْحَبَكَ، قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا، قَالَ: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا، وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا؟! قَالَ: قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَفْعَلَهُ، قَالَ: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا، قَالَ: فَإِنْ اتَّبَعْتَنِي، فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا، فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ، خَرَجَ مَنْ كَانَ فِيهَا، وَتَخَلَّفَ لِيَخْرِقَهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ مُوسَى تَخْرِقُهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا، لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا؟ قَالَ: لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ، وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا، فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَوْا عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ عَلَى سَاحِل الْبَحْرِ، وَفِيهِمْ غُلَامٌ لَيْسَ فِي الْغِلْمَانِ غُلَامٌ أَنْظَفَ يَعْنِي مِنْهُ، فَأَخَذَهُ فَقَتَلَهُ، فَنَفَرَ مُوسَى عِنْدَ ذَلِكَ، وَقَالَ: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ؟ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا؟ قَالَ: فَأَخَذَتْهُ ذَمَامَةٌ مِنْ صَاحِبِهِ، وَاسْتَحَيَا، فَقَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا، فَلَا تُصَاحِبْنِي، قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا، فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ لِئَامًا، اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا، وَقَدْ أَصَابَ مُوسَى جَهْدٌ، فَلَمْ يُضَيِّفُوهُمَا، فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ، فَأَقَامَهُ، قَالَ لَهُ مُوسَى مِمَّا نَزَلَ بِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ، فَأَخَذَ مُوسَى بِطَرَفِ ثَوْبِهِ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي، فَقَالَ: أَمَّا السَّفِينَةُ، فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ، وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا، فَإِذَا مَرَّ عَلَيْهَا، فَرَآهَا مُنْخَرِقَةً تَرَكَهَا، وَرَقَّعَهَا أَهْلُهَا بِقِطْعَةِ خَشَبَةٍ، فَانْتَفَعُوا بِهَا، وَأَمَّا الْغُلَامُ فَإِنَّهُ كَانَ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا، وَكَانَ قَدْ أُلْقِيَ عَلَيْهِ مَحَبَّةٌ مِنْ أَبَوَيْهِ، وَلَوْ أَطَاعَاهُ لَأَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا، فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا، وَوَقَعَ أَبُوهُ عَلَى أُمِّهِ فَعَلِقَتْ، فَوَلَدَتْ مِنْهُ خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا، وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا، فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ، وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو (اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سوگئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھرکے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا (اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے۔ پتھر تک پہنچے ہی تھے کہ ایک آدمی کپڑے سے سر لپیٹے ہوئے نظر آیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا خضر بولے تمہارے ملک میں سلام کا رواج کہاں ہے (یہ تم نے سلام کیسے کیا؟) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں موسیٰ ہوں خضربولے کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ میں نے کہا جی ہاں اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ہمراہ اس شرط پر چل سکتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ حصہ کی مجھے بھی تعلیم دیجئے حضرت خضر علیہ السلام بولے آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکیں گے (درمیان میں بول اٹھیں گے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص کا مجھے وہ حصہ عطا فرمایا ہے جو آپ کو نہیں دیا اور آپ کو وہ علم دیا جس سے میں ناواقف ہوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ان شاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا) آخرکار دونوں دریا کے کنارے کنارے چل دیئے کہ کشتی موجود نہ تھی اتنے میں ادھر سے ایک کشتی کا گزر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے سوار ہونے کے متعلق کچھ بات چیت کی حضرت خضر علیہ السلام کو لوگوں نے پہچان لیا اس لئے کشتی والوں نے دونوں کو بغیر کرایہ کے سوار کرلیا اس کے بعد خضر علیہ السلام نے کشتی کو اچھی طرح دیکھ کر بسولا نکال کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے تو بغیر کرایہ کے ہم کو سوار کرلیا اور تم نے ان کی کشتی توڑ کر سب کو ڈبونا چاہا تم نے یہ عجیب بات کی؟ خضر علیہ السلام بولے میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کیجئے اور مجھ پر میرے کام میں دشواری نہ ڈالیے اسی دوران ایک چڑیا نے آکر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میرا اور تمہارا علم اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں کرسکتا جتنی کمی اس چڑیا نے اس سمندر کے پانی میں کی ہے۔ پھر یہ دونوں حضرات کشتی سے نکل کر چل دیئے ساحل سمندر پر ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اپنے ہاتھ سے گردن اکھاڑ دی حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے تم نے جو ایک معصوم جان کو بلا قصور مار ڈالا یہ تم نے بہت برا کام کیا خضر علیہ السلام بولے کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ضبط نہ کرسکو گے موسیٰ نے کہا اچھا اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ دریافت کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھنا آپ نے میرا عذر بہت مان لیا آخر کار پھر دونوں چل دیئے چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کردیا ان کو وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اس کو سیدھا کردیا

21119

Musnad Ahmad #21119

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ فِي تَفْسِيرِ ابْنِ جُرَيْجٍ الَّذِي أَمْلَاهُ عَلَيْهِمْ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخِرِ وَغَيْرُهُمَا، قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ يُحَدِّثُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: إِنَّا لَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِهِ، إِذْ قَالَ: سَلُونِي، فَقُلْتُ: أَبَا عَبَّاسٍ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ نَوْفٌ، يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ! أَمَّا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، وَأَمَّا يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مُوسَى رَسُولَ اللَّهِ ذَكَّرَ النَّاسَ يَوْمًا، حَتَّى إِذَا فَاضَتْ الْعُيُونُ، وَرَقَّتْ الْقُلُوبُ، وَلَّى فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ أَعْلَمُ مِنْكَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَعُتِبَ عَلَيْهِ، إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَى اللَّهِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ إِنَّ لِي عَبْدًا أَعْلَمَ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، وَأَنَّى؟ قَالَ: مَجْمَعُ الْبَحْرَيْنِ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، اجْعَلْ لِي عَلَمًا أَعْلَمُ ذَلِكَ بِهِ، قَالَ: لِي عَمْرٌو، وقَالَ: حَيْثُ يُفَارِقُكَ الْحُوتُ، وَقَالَ: يَعْلَى خُذْ حُوتًا مَيْتًا حَيْثُ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ، قَالَ: لِفَتَاهُ لَا أُكَلِّفُكَ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنِي حَيْثُ يُفَارِقُكَ الْحُوتُ، قَالَ: مَا كَلَّفْتَنِي كَثِيرًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ سورة الكهف آية 60 يُوشَعَ بْنِ نُونَ، لَيْسَتْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ فِي مَكَانٍ ثَرْيَانٍ، إِذْ تَضَرَّبَ الْحُوتُ وَمُوسَى نَائِمٌ، قَالَ: فَتَاهُ لَا أُوقِظُهُ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَظَ، نَسِيَ أَنْ يُخْبِرَهُ، وَتَضَرَّبَ الْحَوْتُ حَتَّى دَخَلَ الْبَحْرَ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَلَيْهِ جِرْيَةَ الْبَحْرِ، حَتَّى كَأَنَّ أَثَرَهُ فِي حَجَرٍ، فَقَالَ لِي عَمْرٌو وَكَأَنَّ أَثَرَهُ فِي حَجَرٍ، وَحَلَّقَ إِبْهَامَيْهِ وَاللَّتَيْنِ تَلِيَانِهِمَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، قَالَ: قَدْ قَطَعَ اللَّهُ عَنْكَ النَّصَبَ، لَيْسَتْ هَذِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَأَخْبَرَهُ، فَرَجَعَا فَوَجَدَا خَضِرًا، فَقَالَ لِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَلَى طِنْفِسَةٍ خَضْرَاءَ عَلَى كَبِدِ الْبَحْرِ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: مُسَجًّى ثَوْبَهُ، قَدْ جَعَلَ طَرَفَهُ تَحْتَ رِجْلَيْهِ، وَطَرَفَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ: هَلْ بِأَرْضِكَ مِنْ سَلَامٍ؟ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، قَالَ: أَمَا يَكْفِيكَ أَنَّ أَنْبَاءَ التَّوْرَاةِ بِيَدِكَ، وَأَنَّ الْوَحْيَ يَأْتِيكَ، يَا مُوسَى، إِنَّ لِي عِلْمًا لَا يَنْبَغِي أَنْ تَعْلَمَهُ، وَإِنَّ لَكَ عِلْمًا لَا يَنْبَغِي أَنْ أَعْلَمَهُ، فَجَاءَ طَائِرٌ، فَأَخَذَ بِمِنْقَارِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا عِلْمِي وَعِلْمُكَ فِي عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا كَمَا أَخَذَ هَذَا الطَّائِرُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ، حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ وَجَدَا مَعَابِرَ صِغَارًا تَحْمِلُ أَهْلَ هَذَا السَّاحِلِ إِلَى هَذَا السَّاحِلِ عَرَفُوهُ، فَقَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ الصَّالِحُ، فَقُلْنَا لِسَعِيدٍ خَضِرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَا يَحْمِلُونَهُ بِأَجْرٍ فَخَرَقَهَا، وَوَتَدَ فِيهَا وَتِدًا، قَالَ مُوسَى: أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا، قَالَ مُجَاهِدٌ نُكْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا، وَكَانَتْ الْأُولَى نِسْيَانًا، وَالثَّانِيَةُ شَرْطًا، وَالثَّالِثَةُ عَمْدًا، قَالَ: لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ، وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا، فَلَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ، قَالَ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: وَجَدَا غِلْمَانًا يَلْعَبُونَ، فَأَخَذَ غُلَامًا كَافِرًا كَانَ ظَرِيفًا، فَأَضْجَعَهُ، ثُمَّ ذَبَحَهُ بِالسِّكِّينِ، قَالَ: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً لَمْ تَعْمَلْ بِالْحِنْثِ؟! فَانْطَلَقَا، فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ، فَأَقَامَهُ، قَالَ سَعِيدٌ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَرَفَعَ يَدَهُ، فَاسْتَقَامَ، قَالَ يَعْلَى فَحَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدًا، قَالَ: فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ، فَاسْتَقَامَ، قَالَ: لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ سَعِيدٌ: أَجْرًا نَأْكُلُهُ"، قَالَ: وَكَانَ يَقْرَؤُهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ سورة الكهف آية 79 وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ، يَزْعُمُونَ عَنْ غَيْرِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: هَذَا الْغُلَامُ الْمَقْتُولُ يَزْعُمُونَ أَنَّ اسْمَهُ جَيْسُورُ، قَالَ: يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا، وَأَرَادَ إِذَا مَرَّتْ بِهِ أَنْ يَدَعَهَا لِعَيْبِهَا، فَإِذَا جَاوَزُوا، أَصْلَحُوهَا، فَانْتَفَعُوا بِهَا بَعْدُ، مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ سَدُّوهَا بِقَارُورَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: بِالْقَارِ، وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ، وَكَانَ كَافِرًا، فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا، فَيَحْمِلُهُمَا حُبُّهُ عَلَى أَنْ يُتَابِعَاهُ عَلَى دِينِهِ، فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً، وَأَقْرَبَ رُحْمًا هُمَا بِهِ أَرْحَمُ مِنْهُمَا بِالْأَوَّلِ الَّذِي قَتَلَهُ خَضِرٌ، وَزَعَمَ غَيْرُ سَعِيدٍ، أَنَّهُمَا أُبْدِلا جَارِيَةٌ، وَأَمَّا دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، فَقَالَ: عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ إِنَّهَا جَارِيَةٌ، وَبَلَغَنِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهَا جَارِيَةٌ، وَوَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ، مِثْلَهُ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو (اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سو گئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھر کے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا (اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے۔ پتھر تک پہنچے ہی تھے کہ ایک آدمی کپڑے سے سر لپیٹے ہوئے نظر آیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا خضر بولے تمہارے ملک میں سلام کا رواج کہاں ہے (یہ تم نے سلام کیسے کیا؟) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں موسیٰ ہوں خضر بولے کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ میں نے کہا جی ہاں اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ہمراہ اس شرط پر چل سکتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ حصہ کی مجھے بھی تعلیم دیجئے حضرت خضر علیہ السلام بولے آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکیں گے (درمیان میں بول اٹھیں گے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص کا مجھے وہ حصہ عطا فرمایا ہے جو آپ کو نہیں دیا اور آپ کو وہ علم دیا جس سے میں ناواقف ہوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ان شاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا) آخرکار دونوں دریا کے کنارے کنارے چل دیئے کہ کشتی موجود نہ تھی اتنے میں ادھر سے ایک کشتی کا گزر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے سوار ہونے کے متعلق کچھ بات چیت کی حضرت خضر علیہ السلام کو لوگوں نے پہچان لیا اس لئے کشتی والوں نے دونوں کو بغیر کرایہ کے سوار کرلیا اس کے بعدخضر علیہ السلام نے کشتی کو اچھی طرح دیکھ کر بسولا نکال کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے تو بغیر کرایہ کے ہم کو سوار کرلیا اور تم نے ان کی کشتی توڑ کر سب کو ڈبونا چاہا تم نے یہ عجیب بات کی؟ خضر علیہ السلام بولے میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کیجئے اور مجھ پر میرے کام میں دشواری نہ ڈالیے اسی دوران ایک چڑیا نے آکر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میرا اور تمہارا علم اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں کرسکتا جتنی کمی اس چڑیا نے اس سمندر کے پانی میں کی ہے۔ پھر یہ دونوں حضرات کشتی سے نکل کر چل دیئے راستہ میں ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر علیہ السلام نے اس کا سرپکڑ کر اپنے ہاتھ سے گردن اکھاڑ دی حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے تم نے جو ایک معصوم جان کو بلا قصور مار ڈالا یہ تم نے بہت برا کام کیا خضر علیہ السلام بولے کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ضبط نہ کرسکو گے موسیٰ نے کہا اچھا اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ دریافت کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھنا آپ نے میرا عذر بہت مان لیا آخر کار پھر دونوں چل دیئے چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کردیا ان کو وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اس کو سیدھا کردیا حضرت

21120

Musnad Ahmad #21120

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو الْهَيْثَمِ الرُّبَالِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا رَقَبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَمَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ يُذَكِّرُهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ، وَأَيَّامُ اللَّهِ نِعَمُهُ وَبَلَاؤُهُ، إِذْ قَالَ: مَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ رَجُلًا خَيْرًا مِنِّي، أَوْ أَعْلَمَ مِنِّي! قَالَ: فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ إِنِّي أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ مَنْ هُوَ أَوْ عِنْدَ مَنْ هُوَ، إِنَّ فِي الْأَرْضِ رَجُلًا هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: يَا رَبِّ، فَدُلَّنِي عَلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: تَزَوَّدْ حُوتًا مَالِحًا، فَفَعَلَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَلَقِيَ الْخَضِرَ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمَا مَا كَانَ، حَتَّى كَانَ آخِرُ ذَلِكَ مَرُّوا بِالْقَرْيَةِ اللِّئَامِ أَهْلُهَا، فَطَافَا فِي الْمَجَالِسِ، فَاسْتَطْعَمَا، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا، ثُمَّ قَصَّ عَلَيْهِ النَّبَأَ نَبَأَ السَّفِينَةِ، وَأَنَّهُ إِنَّمَا خَرَقَهَا لِيَتَجَوَّزَهَا الْمَلِكُ، فَلَا يُرِيدُهَا، وَأَمَّا الْغُلَامُ، فَطُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا، كَانَ أَبَوَاهُ عَطَفَا عَلَيْهِ، فَلَوْ أَنَّهُ أَدْرَكَ، أَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا، وَأَمَّا الْجِدَارُ، فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناگوار ہوئی کہ موسیٰ نے علم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا لہٰذا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو (اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور وہ قصہ پیش آیا جو اللہ نے بیان کیا ہے حتٰی کہ سب سے آخر میں چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کردیا پھر حضرت خضر علیہ السلام نے ان کے سامنے کشتی والے واقعے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے بادشاہ کی وجہ سے توڑا تھا تاکہ وہ وہاں سے گذرے اس سے کوئی تعرض نہ کرے اور رہا لڑکا تو فطری طور پر وہ کافر تھا اس کے والدین اس پر بہت شفیق تھے اگر وہ زندہ رہتا تو انہیں سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا کردیتا اور رہی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی۔

21121

Musnad Ahmad #21121

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ رَقَبَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ ، وَقَالُوا: جَمِيعًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْغُلَامُ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا" زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ فِي حَدِيثِهِ" وَلَوْ أَدْرَكَ، لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت خضر علیہ السلام نے جس لڑکے کو قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر تھا (اگر وہ زندگی پاتا تو اپنے والدین کو بھی سرکشی اور کفر کے قریب پہنچا دیتا)

21122

Musnad Ahmad #21122

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبَّاسٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْغُلَامُ الَّذِي قَتَلَهُ صَاحِبُ مُوسَى طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت خضر علیہ السلام نے جس لڑکے کو قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر تھا (اگر وہ زندگی پاتا تو اپنے والدین کو بھی سرکشی اور کفر کے قریب پہنچا دیتا)

21123

Musnad Ahmad #21123

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا سورة الكهف آية 76" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت " ان سألتک عن شیء بعدہا فلاتصاحبنی قدبلغت۔۔۔۔۔۔۔ میں لفظ " بلغت " کو مشدد یعنی " بلّغت " بھی پڑھا ہے۔

21124

Musnad Ahmad #21124

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ " قَرَأَ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا سورة الكهف آية 76 يُثَقِّلُهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت " ان سألتک عن شیء بعدہا فلاتصاحبنی قدبلغت۔۔۔۔۔۔۔ میں لفظ " بلغت " کو مشدد یعنی " بلّغت " بھی پڑھا ہے۔

21125

Musnad Ahmad #21125

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَنَا سَأَلْتُهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ لَمَّا رَكَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِهِ، جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ هَاجَرَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ مَاءً مَعِينًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی مار کر زمزم کا کنواں جاری کیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کنکریاں اکٹھی کر کے منڈیر بنانے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حضرت حاجرہ (علیہا السلام) جو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ تھیں " پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اگر وہ اسے یونہی چھوڑ دیتیں تو وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔

21126

Musnad Ahmad #21126

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ حَبِيبٍ الزَّيَّاتُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا لِأَحَدٍ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، فَذَكَرَ ذَاتَ يَوْمٍ مُوسَى، فَقَالَ: " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى، لَوْ كَانَ صَبَرَ لَقَصَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِ، وَلَكِنْ قَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي، قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لئے دعاء فرماتے تو اس کا آغاز اپنی ذات سے کرتے تھے چنانچہ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہم پر اور موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اگر وہ صبر کرلیتے تو اللہ تعالیٰ ان کے واقعے کی دیگر تفصیلات بھی بیان فرما دیتا لیکن انہوں نے تو یہ کہہ دیا کہ اگر میں نے اس کے بعد آپ سے کوئی سوال پوچھا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے ہیں۔ "

21127

Musnad Ahmad #21127

Sahih

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمْزَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعْنَاهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21128

Musnad Ahmad #21128

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجَعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ سورة إبراهيم آية 5، قَالَ: بِنِعَمِ اللَّهِ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد باری تعالیٰ " وذکرہم بایام اللہ " کی تفسیر میں فرمایا کہ " ایام اللہ " سے مراد اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔

21129

Musnad Ahmad #21129

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21130

Musnad Ahmad #21130

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ قَيْسٌ : حَدَّثَنَا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَكَرَ الْأَنْبِيَاءَ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا، وَعَلَى هُودٍ، وَعَلَى صَالِحٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی نبی کا ذکر فرماتے تو اس کا آغاز اپنی ذات سے کرتے تھے چنانچہ ایک دن فرمایا ہم پر اور ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔

21131

Musnad Ahmad #21131

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّادِقُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَارَانِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي اتَّبَعَهُ مُوسَى، فَقُلْتُ: هُوَ الْخَضِرُ، وَقَالَ الْفَزَارِيُّ هُوَ رَجُلٌ آخَرُ، فَمَرَّ بِنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَدَعَوْتُهُ، فَسَأَلْتُهُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الَّذِي تَبِعَهُ مُوسَى؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَمَا مُوسَى جَالِسٌ فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: هَلْ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِاللَّهِ مِنْكَ؟ قَالَ: مَا أَرَى، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ بَلَى، عَبْدِي الْخَضِرُ، فَسَأَلَ السَّبِيلَ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً إِنْ افْتَقَدَهُ، وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِ مَا قَصَّ اللَّهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کا اور حر بن قیس فزاری کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفیق کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس طرف سفر کر کے جانے کی بارگاہ الہٰی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے اسی دوران وہاں سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہیں پکار کر کہا کہ میرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات میں اختلاف ہوگیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ ساتھی کون تھا جس کی طرف سفر کر کے ملنے کی درخواست انہوں نے کی تھی؟ کیا آپ نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کسی اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کے عمل میں اپنے سے بڑا کوئی عالم بھی ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی آئی کہ ہمارا ایک بندہ خضر تم سے بڑا عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کا طریقہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان کے لئے نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو واپس آجانا کیونکہ وہیں پر تمہاری ان سے ملاقات ہوجائے گی حضرت موسیٰ علیہ السلام سفر پر روانہ ہوئے تو ایک منزل پر پڑاؤ کیا اور اپنے خادم سے کہنے لگے ہمارا ناشتہ لاؤ اس سفر میں تو ہمیں بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی کو غائب پایا تو دونوں اپنے نشانات قدم پر چلتے ہوئے واپس لوٹے اور پھر وہ قصہ پیش آیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔