Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1088

انصار صحابہ کی روایات

عوف بن مالک اشجعی الانصاری رضی اللہ عنہ کی روایات

30 hadiths in this chapter

23970

Musnad Ahmad #23970

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ أَبُو الْخَطَّابِ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ : يَا طَاعُونُ، خُذْنِي إِلَيْكَ، قَالَ: فَقَالُوا أَلَيْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا عَمَّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ" ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي أَخَافُ سِتًّا إِمَارَةَ السُّفَهَاءِ، وَبَيْعَ الْحُكْمِ، وَكَثْرَةَ الشَّرْطِ، وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ، وَنَشْئًا يَنْشَئُونَ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ، وَسَفْكَ الدَّمِ.

اردو ترجمہ · Urdu

شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے طاعون! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں لیکن مجھے چھ چیزوں کا خوف ہے بیوفوقوں کی حکومت، انصاف کا فروخت ہونا، کثرت سے شرطیں لگانا قطع رحمی، ایسی نسل کی افزائش جو قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنالے گا، خون ریزی۔

23971

Musnad Ahmad #23971

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَدْخُلُ كُلِّي أَوْ بَعْضِي؟ قَالَ:" ادْخُلْ كُلُّكَ"، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا، فَقَالَ لِي: يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ، " أَعْدِدْ سِتًّا قَبْلَ السَّاعَةِ: مَوْتُ نَبِيِّكُمْ، خُذْ إِحْدَى، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ مَوْتٌ يَأْخُذُكُمْ تُقْعَصُونَ فِيهِ كَمَا تُقْعَصُ الْغَنَمُ، ثُمَّ تَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْمَالُ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطَهَا، ثُمَّ يَأْتِيكُمْ بَنُو الْأَصْفَرِ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندرآجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے جائیں گے۔

23972

Musnad Ahmad #23972

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، قَالَ: دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ: عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ، فَقَالَ ذُو الْكَلَاعِ: أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ، فَقَالَ عَوْفٌ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

23973

Musnad Ahmad #23973

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّهَّاسُ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: يَا طَاعُونُ، خُذْنِي إِلَيْكَ، قَالُوا: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟! أَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمُرِ إِلَّا خَيْرًا" ، قَالَ: بَلَى، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے طاعون! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

23974

Musnad Ahmad #23974

Hasan

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ ذِي الْكَلَاعِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " الْقُصَّاصُ ثَلَاثَةٌ: أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

23975

Musnad Ahmad #23975

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ، فَفَهِمْتُ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَيْهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجَةً خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَنَجِّهِ مِنَ النَّارِ، وَقِهِ عَذَابَ الْقَبْرِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی میت کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا سمجھ میں آئی اے اللہ! اسے معاف فرما اس پر رحم فرما اسے عافیت عطا فرما اور اس سے درگذر فرما اس کا ٹھکانہ باعزت جگہ بنا اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو کشادہ فرما اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے اسے گناہوں سے ایسے صاف فرما دے جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کردیتا ہے اس کے گھر سے بہترین گھر اس کے اہل خانہ سے بہترین اہل خانہ اور اس کی بیوی سے بہترین بیوی عطا فرما اسے جنت میں داخل فرما جہنم سے محفوظ فرما اور عذاب قبر سے نجات عطا فرما۔

23976

Musnad Ahmad #23976

Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَصَا وَفِي الْمَسْجِدِ أَقْنَاءٌ مُعَلَّقَةٌ، فِيهَا قِنْوٌ فِيهِ حَشَفٌ، فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِي فِي يَدِهِ، قَالَ: " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ، تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ لَيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، لَتَدَعُنَّهَا أَرْبَعِينَ عَامًا لِلْعَوَافِي"، قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" يَعْنِي الطَّيْرَ وَالسِّبَاعَ" ، قَالَ: وَكُنَّا نَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَلَّذِي تُسَمِّيهِ الْعَجَمُ، هِيَ الْكَرَاكِيُّ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں عصا تھا مسجد میں اس وقت کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشے میں گدر کھجوریں بھی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک کے عصا سے ہلایا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے زیادہ صدقہ کرسکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا قیامت کے دن گدر کھجوریں کھائے گا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا واللہ اے اہل مدینہ! تم چالیس سال تک اس شہر مدینہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑے رکھو گے۔

23977

Musnad Ahmad #23977

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَارَ بِهِمْ يَوْمَهُمْ أَجْمَعَ، لَا يَحُلُّ لَهُمْ عُقْدَةً، وَلَيْلَتَهُ جَمْعَاءَ لَا يَحُلُّ عُقْدَةً، إِلَّا لِصَلَاةٍ، حَتَّى نَزَلُوا أَوْسَطَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَرَقَبَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعَ رَحْلَهُ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَنَظَرْتُ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا إِلَّا نَائِمًا، وَلَا بَعِيرًا إِلَّا وَاضِعًا جِرَانَهُ نَائِمًا، قَالَ: فَتَطَاوَلْتُ فَنَظَرْتُ حَيْثُ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحْلَهُ، فَلَمْ أَرَهُ فِي مَكَانِهِ، فَخَرَجْتُ أَتَخَطَّى الرِّحَالَ حَتَّى خَرَجْتُ إِلَى النَّاسِ، ثُمَّ مَضَيْتُ عَلَى وَجْهِي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، فَسَمِعْتُ جَرَسًا فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَالْأَشْعَرِيِّ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِذَا هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الرَّحَا، فَقُلْتُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذَا الصَّوْتِ، قَالَا: اقْعُدْ اسْكُتْ فَمَضَى قَلِيلًا فَأَقْبَلَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا، فَقُمْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَزِعْنَا إِذْ لَمْ نَرَكَ، وَاتَّبَعْنَا أَثَرَكَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ"، فَقُلْنَا: نُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ:" أَنْتُمْ مِنْهُمْ"، ثُمَّ مَضَيْنَا فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، فَيُخْبِرُهُمْ بِالَّذِي أَخْبَرَنَا بِهِ فَيُذَكِّرُونَهُ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلَهُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِهِ، فَيَقُولُ:" فَإِنَّكُمْ مِنْهُمْ" حَتَّى انْتَهَى النَّاسُ فَأَضَبُّوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: اجْعَلْنَا مِنْهُمْ، قَالَ:" فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنَّهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہ آپ کے قریب ہوتے تھے ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے اچانک میں رات کو اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نظر آئے میں نے ان کے پاس پہنچ کر ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو اچانک ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔

23978

Musnad Ahmad #23978

Sahih

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أخبرنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ، فَمَرُّوا عَلَى قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوا جَزُورًا، فَقُلْتُ: أُعَالِجُهَا لَكُمْ عَلَى أَنْ تُطْعِمُونِي مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: إِبْرَاهِيمُ: فَتُطْعِمُونِي مِنْهَا؟ فَعَالَجْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِي أَعْطَوْنِي، فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلهَ، ثُمَّ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَاكَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: " أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُورِ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم کسی غزوے پر روانہ ہوئے ہمارے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے ہمیں بھوک نے ستایا اسی دوران ایک قوم پر گذر ہوا جنہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا میں نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہیں اس کا گوشت لا کردیتا ہوں شرط یہ ہے کہ تم مجھے بھی اس میں سے کھلاؤ گے چناچہ میں نے اسے اٹھا لیا پھر انہوں نے مجھے جو حصہ دیا تھا اسے لے کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا لیکن انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا پھر میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گیا لیکن انہوں نے بھی وہی فرمایا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا اور اسے کھانے سے انکار کردیا پھر فتح مکہ کے موقع پر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اونٹ والے تم ہی ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔

23979

Musnad Ahmad #23979

Sahih

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرُّقِّيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ وَهُوَ فِي فُسْطَاطٍ أَوْ قَالَ: قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَسَأَلْتُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ، فَقُلْتُ: أَدْخُلُ؟ فَقَالَ:" ادْخُلْ"، قُلْتُ: كُلِّي؟ قَالَ:" كُلُّكَ"، قَالَ: فَدَخَلْتُ وَإِذَا هُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں سحری کے وقت داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے۔

23980

Musnad Ahmad #23980

Sahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، وَقُمْتُ مَعَهُ، فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوَّذُ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا، بِقَدْرِ قِيَامِهِ، يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ، وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ، ثُمَّ سُورَةً، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مسواک کی پھر وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے پھر قیام کے بقدر رکوع کیا اور رکوع میں " سبحان ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمۃ " کہتے رہے پھر دوسری رکعت میں سورت آل عمران پڑھی اور اس میں بھی اسی طرح کیا۔

23981

Musnad Ahmad #23981

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زُرَيْقٌ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، وَكَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" لَا مَا أَقَامُوا لَكُمْ الصَّلَاةَ، أَلَا وَمَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ أَمِيرٌ وَالٍ، وَالٍفَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلْيُنْكِرْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرتے ہو گے اور وہ تم سے محبت کرتے ہوں گے تم ان کے لئے دعائیں کرتے ہوگے اور وہ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہوں گے اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم نفرت کرتے ہوگے اور وہ تم سے نفرت کرتے ہوگے تم ان پر لعنت کرتے ہوگے اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم ایسے حکمرانوں کو باہر نکال کر پھینک نہ دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پر قائم رہیں البتہ جس پر حکمران کوئی گورنر مقرر کر دے اور وہ اسے اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام کرتے ہوئے دیکھے تو اس نافرمانی پر نکیر کرے لیکن اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔

23982

Musnad Ahmad #23982

Hasan

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " الْفَقْرَ تَخَافُونَ أَوْ الْعَوَزَ أَوَتُهِمُّكُمْ الدُّنْيَا؟ فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحٌ لَكُمْ أَرْضَ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَتُصَبُّ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا صَبًّا، حَتَّى لَا يُزِيغُكُمْ بَعْدِي إِنْ أَزَاغَكُمْ إِلَّا هِيَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ فقروفاقہ یا تنگدستی سے ڈرتے ہو کیا تم دنیا کو اس درجہ اہمیت دیتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سر زمین فارس و روم کو فتح کروا دے گا اور تم پر دنیا انڈیل دی جائے گی حتیٰ کہ تمہیں میرے بعد کوئی چیز ٹیڑھا نہ کرسکے گی اگر کوئی چیز ٹیڑھا کرے گی تو وہ دنیا ہی ہوگی۔

23983

Musnad Ahmad #23983

Zaeef

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ"، فَقَالَ:" مَا قُلْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ، فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا وہ فیصلہ جس کے خلاف ہوا اس نے واپس جاتے ہوئے کہا " حسبی اللہ ونعم الوکیل " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آدمی کو واپس میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ تم نے ابھی کیا کہا تھا اس نے کہا کہ میں نے " حسبی اللہ ونعم الوکیل " کہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے تم عقلمندی سے کام کیا کرو پھر بھی اگر مغلوب ہوجاؤ تو اس وقت " حسبی اللہ و نعم الوکیل " کہا کرو۔

23984

Musnad Ahmad #23984

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عِيدٍ لَهُمْ، فَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، " أَرُونِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا يَشْهَدُونَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يُحْبِطْ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي غَضِبَ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَأَسْكَتُوا مَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ:" أَبَيْتُمْ! فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَنَا الْحَاشِرُ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَأَنَا النَّبِيُّ الْمُصْطَفَى، آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ"، ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كِدْنَا أَنْ نَخْرُجَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِنَا كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ، فَقَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ: أَيَّ رَجُلٍ تَعْلَمُونَ فِيكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ فِينَا رَجُلٌ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنْكَ، وَلَا أَفْقَهُ مِنْكَ، وَلَا مِنْ أَبِيكَ قَبْلَكَ، وَلَا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ، قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ لَهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَهُ فِي التَّوْرَاةِ، قَالُوا: كَذَبْتَ، ثُمَّ رَدُّوا عَلَيْهِ قَوْلَهُ، وَقَالُوا فِيهِ شَرًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبْتُمْ، لَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ، أَمَّا آنِفًا فَتُثْنُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا أَثْنَيْتُمْ، وَلَمَّا آمَنَ كَذَّبْتُمُوهُ وَقُلْتُمْ، فِيهِ مَا قُلْتُمْ، فَلَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ"، قَالَ: فَخَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ سورة الأحقاف آية 10 .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے میں بھی ہمراہ تھا یہ یہودیوں کی عید کا دن تھا ہم لوگ چلتے چلتے مدینہ میں ان کے ایک گرجا گھر میں پہنچے انہوں نے ہمارے وہاں آنے کو اچھا نہیں سمجھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ یہود! تم مجھے اپنے بارہ آدمی ایسے دکھا دو جو اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں آسمان کی اس چھت تلے جتنے یہودی رہتے ہیں اللہ سب سے اپنا وہ غضب دور فرما دے گا جو ان پر مسلط ہے لیکن وہ لوگ خاموش رہے اور ان میں سے کسی نے بھی اس کا جواب نہ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ان کے سامنے دہرائی تاہم کس نے بھی جواب نہ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ انکار کرتے ہو حالانکہ اللہ کی قسم! میں ہی حاشر ہوں میں ہی عاقب ہوں، میں ہی نبی مصطفیٰ ہوں خواہ تم ایمان لاؤ یا تکذیب کرو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چل پڑے میں بھی ہمراہ تھا ہم اس کنیسے سے نکلنے ہی والے تھے کہ پیچھے سے ایک آدمی نے پکار کر کہا اے محمد! رکیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اس شخص نے یہودیوں سے مخاطب ہو کر کہا اے گروہ یہود! تم مجھے اپنے درمیان کس مرتبہ کا آدمی سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا بخدا! ہم لوگ اپنے درمیان آپ سے بڑھ کر کسی کو کتاب اللہ کا عالم اور فقیہہ نہیں سمجھتے اسی طرح آپ سے پہلے آپ کے آباؤ و اجدا کے متعلق بھی ہمارا یہی خیال ہے اس میں کہا کہ پھر میں اللہ کو سامنے رکھ کر گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو انہوں نے کہا کہ تم غلط کہتے ہو پھر اس کی مذمت بیان کرنا شروع کردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں سے فرمایا کہ تم لوگ جھوٹ بول رہے ہو، تمہاری بات کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی ابھی تو تم نے اس کی خوب تعریف کی ہے اور جب یہ ایمان لے آیا تو تم اس کی تکذیب کرنے لگے اور اس کے متعلق نازیبا باتیں کہنے لگے لہٰذا تمہاری بات کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اب ہم وہاں سے نکلے تو تین آدمی ہوگئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " اے حبیب! آپ فرما دیجئے یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہو تم اس کا انکار کرتے رہو اور بنی اسرائیل ہی میں ایک آدمی اس کی گواہی دے اور ایمان لے آئے تو تم تکبر کرتے ہو بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ "

23985

Musnad Ahmad #23985

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" عَوْفٌ؟": فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" ادْخُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: كُلِّي أَوْ بَعْضِي؟ قَالَ:" بَلْ كُلُّكَ"، قَالَ: " اعْدُدْ يا عوف سِتًّا بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ: أَوَّلُهُنَّ مَوْتِي"، قَالَ: فَاسْتَبْكَيْتُ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْكِتُنِي، قَالَ: قُلْتُ: إِحْدَى" وَالثَّانِيَةُ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ"، قُلْتُ: اثْنَيْنِ" وَالثَّالِثَةُ مُوتَانٌ يَكُونُ فِي أُمَّتِي يَأْخُذُهُمْ مِثْلَ قُعَاصِ الْغَنَمِ، قُلْ: ثَلَاثًا" وَالرَّابِعَةُ فِتْنَةٌ تَكُونُ فِي أُمَّتِي وَعَظَّمَهَا، قُلْ: أَرْبَعًا، وَالْخَامِسَةُ يَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى الْمِائَةَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطُهَا، قُلْ: خَمْسًا، وَالسَّادِسَةُ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ عَلَى ثَمَانِينَ غَايَةً"، قُلْتُ: وَمَا الْغَايَةُ؟ قَالَ:" الرَّايَةُ، تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ فِي أَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ فِي مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے گا پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے آجائیں گے اور مسلمانوں کا مرکز اس زمانے دمشق کے شہر " غوطہ " میں ہوگا۔

23986

Musnad Ahmad #23986

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ فَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ، فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا وَاحِدًا، فَدُعِينَا، وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ، وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دَعَا بِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا، فَبَقِيَتْ قِطْعَةُ سِلْسِلَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَتسقُط، ثُمَّ رَفَعَهَا وَهُوَ يَقُولُ: " كَيْفَ أَنْتُمْ يَوْمَ يَكْثُرُ لَكُمْ مِنْ هَذَا!!!" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کہیں سے مال غنیمت آتا تھا تو اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے تھے شادی شدہ کو دو حصے دیتے تھے اور کنوارے کو ایک حصے کسی قسم کے ایک موقع پر ہمیں بلایا گیا مجھے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا چناچہ اس دن بھی مجھے بلایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو حصے دے دیئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا اس کے بعد حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں ایک حصہ عطا فرمایا آخر میں سونے کی ایک چین بچ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی لاٹھی کی نوک سے اٹھاتے وہ گر جاتی تھی پھر اٹھاتے تھے اور فرماتے جا رہے تھے کہ تمہارا اس وقت کیا عالم ہوگا جس دن تمہارے پاس ان چیزوں کی کثرت ہوگئی۔

23987

Musnad Ahmad #23987

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَةً إِلَى طَرَفِ الشَّامِ، فَأُمِّرَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَانْضَمَّ إِلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَمْدَادِ حِمْيَرَ فَأَوَى إِلَى رَحْلِنَا، لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ إِلَّا سَيْفٌ لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ غَيْرَهُ، فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا، فَلَمْ يَزَلْ يَحْتَلْ حَتَّى أَخَذَ مِنْ جِلْدِهِ كَهَيْئَةِ الْمِجَنِّ، حَتَّى بَسَطَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ وَقَدَ عَلَيْهِ حَتَّى جَفَّ، فَجَعَلَ لَهُ مُمْسِكًا كَهَيْئَةِ التُّرْسِ، فَقُضِيَ أَنْ لَقِينَا عَدُوَّنَا فِيهِمْ أَخْلَاطٌ مِنَ الرُّومِ وَالْعَرَبِ مِنْ قُضَاعَةَ، فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِيدًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ، وَسَرْجٍ مُذَهَّبٍ وَمِنْطَقَةٍ مُلَطَّخَةٍ ذَهَبًا وَسَيْفٌ مِثْلُ ذَلِكَ، فَجَعَلَ يَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ وَيُغْرِي بِهِمْ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ الْمَدَدِيُّ يَحْتَالُ لِذَلِكَ الرُّومِيِّ حَتَّى مَرَّ بِهِ فَاسْتَقْفَاهُ، فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِهِ بِالسَّيْفِ فَوَقَعَ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ ضَرْبًا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ الْفَتْحَ أَقْبَلَ يَسْأَلُ لِلسَّلَبِ، وَقَدْ شَهِدَ لَهُ النَّاسُ بِأَنَّهُ قَاتِلُهُ، فَأَعْطَاهُ خَالِدٌ بَعْضَ سَلَبِهِ، وَأَمْسَكَ سَائِرَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى رَحْلِ عَوْفٍ ذَكَرَهُ، فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَلْيُعْطِكَ مَا بَقِيَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَمَشَى عَوْفٌ حَتَّى أَتَى خَالِدًا، فَقَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ؟ قَالَ خَالِدٌ: اسْتَكْثَرْتُهُ لَهُ، قَالَ عَوْفٌ: لَئِنْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَهُ عَوْفٌ فَاسْتَعْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا خَالِدًا وَعَوْفٌ قَاعِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُكَ يَا خَالِدُ أَنْ تَدْفَعَ إِلَى هَذَا سَلَبَ قَتِيلِهِ؟" قَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" ادْفَعْهُ إِلَيْهِ"، قَالَ: فَمَرَّ بِعَوْفٍ، فَجَرَّ عَوْفٌ بِرِدَائِهِ، فَقَالَ: لِيَجْزِي لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ:" لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكِي أُمَرَائِي، إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا وْ غَنَمًا، فَرَعَاهَا ثُمَّ تَخَيَّرَ سَقْيَهَا، فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَةَ الْمَاءِ وَتَرَكَتْ كَدَرَهُ، فَصَفْوُهُ لَكُمْ، وَكَدَرُهُ عَلَيْهِمْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شام کی طرف ہم ایک غزوے میں شریک ہوئے ہمارے امیر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے قبیلہ حمیر کا ایک آدمی ہمارے ساتھ آکر شامل ہوگیا وہ ہمارے خیمے میں رہنے لگا اس کے پاس تلوار کے علاوہ کوئی اور چیز یا اسلحہ بھی نہ تھا اس دوران ایک مسلمان نے ایک اونٹ ذبح کیا وہ شخص مسلسل تاک میں رہا حتی کے موقع ما کر ایک ڈھال کے برابر اس کی کھال حاصل کرلی اور اسے زمین پر بچھا دیا جب وہ خشک ہوگئی تو اس کے لئے ڈھال بن گئی۔ ادھر یہ ہوا کہ دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوگیا جن میں رومی اور بنو قضاعہ کے عرب مشترکہ طور پر جمع تھے انہوں نے ہم سے بڑی سخت معرکہ آرائی کی رومیوں میں ایک آدمی ایک سرخ وسفید گھوڑے پر سوار تھا جس کی زین بھی سونے کی تھی اور پٹکا بھی مخلوط سونے کا تھا یہی حال اس کی تلوار کا تھا وہ مسلمانوں پر بڑھ چڑھ کر حملہ کر رہا تھا اور وہ حمیری آدمی مسلسل اس کی تاک میں تھا حتیٰ کہ جب وہ رومی اس کے پاس سے گذرا تو اس نے عقب سے نکل کر اس پر حملہ کردیا اور اس کے گھوڑے کی پنڈلی پر تلوار ماری جس سے وہ نیچے گرگیا پھر اس نے تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ اس رومی کو قتل کردیا۔ فتح حاصل ہونے کے بعد جب اس نے اس کا سامان لینے کا ارادہ کیا اور لوگوں نے بھی گواہی دی کہ اس رومی کو اسی نے قتل کیا ہے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور کچھ سامان کو روک لیا اس نے عوف رضی اللہ عنہ کے خیمے میں واپس آکر ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تم دوبارہ ان کے پاس جاؤ انہیں تمہارا سامان تمہیں دے دینا چاہئے چناچہ وہ دوبارہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا لیکن انہوں نے پھر انکار کردیا اس پر حضرت عوف کو ملے گا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر اس کے مقتول کا سامان اس کے حوالے کرنے میں آپ کے لئے کیا رکاوٹ ہے؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اسے بہت زیادہ سمجھتا ہوں حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور دیکھ سکا تو ان سے اس کا ذکر ضرور کروں گا۔ جب وہ مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تجھے کس نے اس کو سامان دینے سے منع کیا؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے (اس سامان کو) بہت زیادہ سمجھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے سامان دے دو پھر وہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو انہوں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی چادر کھینچی اور فرمایا میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تھا وہی ہوا ہے نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خالد! اب اسے نہ دینا (اور آپ نے فرمایا) کیا تم میرے نگرانوں کو چھوڑ نہیں سکتے؟ کیونکہ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے خریدیں پھر (ان جانوروں) کے پانی پینے کا وقت دیکھ کر ان کو حوض پر لایا اور انہوں نے پانی پینا شروع کردیا تو صاف صاف پانی انہوں نے پی لیا اور تلچھٹ چھوڑ دیا تو صاف یعنی عمدہ چیزیں تمہارے لئے ہیں اور بری چیزیں نگرانوں کے لئے ہیں۔

23988

Musnad Ahmad #23988

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُخَمِّسْ السَّلَبَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولوں سے چھینے ہوئے سازوسامان میں سے خمس نہیں نکالا۔

23989

Musnad Ahmad #23989

Hasan

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا، وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا ایک اس امت کی اپنی اور دوسری اس کے دشمن کی۔

23990

Musnad Ahmad #23990

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا أَوَانُ الْعِلْمِ أَنْ يُرْفَعَ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ: أَيُرْفَعُ الْعِلْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ، وَقَدْ عَلَّمْنَاهُ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" ، ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَعِنْدَهُمَا مَا عِنْدَهُمَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَقِيَ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بِالْمُصَلَّى، فَحَدَّثَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا رَفْعُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: ذَهَابُ أَوْعِيَتِهِ، قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي أَيُّ الْعِلْمِ أَوَّلُ أَنْ يُرْفَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: الْخُشُوعُ، حَتَّى لَا تَكَادُ تَرَى خَاشِعًا.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا پھر فرمایا علم اٹھائے جانے کا وقت قریب آگیا ہے ایک انصاری آدمی " جس کا نام زیاد بن لبید تھا " نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا ہمارے درمیان سے علم کو اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہمارے درمیان کتاب اللہ موجود ہے اور ہم نے اسے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو سکھا رکھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو تمہیں اہل مدینہ کے سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اہل کتاب کی گمراہی کا ذکر کیا اور یہ کہ ان کے پاس بھی کتاب اللہ موجود تھی۔ اس کے بعد جبیر بن نفیر کی عیدگاہ میں شداد بن اوس سے ملاقات ہوئی تو جبیر نے انہیں حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی تو انہوں نے بھی حضرت عوف رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی اور کہنے لگے کہ تمہارے " علم کا اٹھا لینے کا مطلب معلوم ہے؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا علم کے برتنوں کا اٹھ جانا پھر پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا خشوع حتیٰ کہ تم کسی خشوع والے آدمی کو نہ دیکھو گے۔

23991

Musnad Ahmad #23991

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ، أَو ابنتَانِ أَوْ أُخْتَانِ، اتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ، وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ حَتَّى يَبِنَّ أَوْ يَمُتْنَ، كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی تین یا دو بیٹیاں یا بہنیں ہوں وہ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے یہاں تک کہ ان کی شادی ہوجائے یا وہ فوت ہوجائیں تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔

23992

Musnad Ahmad #23992

Sahih

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ قَاصَّ مَسْلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر جو تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

23993

Musnad Ahmad #23993

Hasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِتَّةِ نَفَرٍ أَوْ سَبْعَةٍ أَوْ ثَمَانِيَةٍ، فَقَالَ لَنَا: " بَايِعُونِي" فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ بَايَعْنَاكَ، قَالَ:" بَايِعُونِي" فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا بِمَا أَخَذَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلِمَةً خَفِيَّةً، فَقَالَ:" لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں چھ سات یا آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! ہم تو آپ کی بیعت کرچکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات دہرائی چناچہ ہم نے دوبارہ بیعت کرلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے وہی عہد لیا جو عام لوگوں سے لیا تھا البتہ آخر میں آہستہ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔

23994

Musnad Ahmad #23994

Sahih

حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ يَعْقُوبَ أَخَاهُ، وَابْنَ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ قَاصَّ مَسْلَمَةَ حَدَّثَهُمَا، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر جو تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

23995

Musnad Ahmad #23995

Sahih

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ: ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں مسافروں کو تین دن رات اور مقیم ایک دن رات موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔

23996

Musnad Ahmad #23996

Sahih

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي خِدْرٍ لَهُ، فَقُلْتُ: أَدْخُلُ؟، فَقَالَ:" ادْخُلْ"، قُلْتُ: أَكُلِّي؟ قَالَ:" كُلُّكَ"، فَلَمَّا جَلَسْتُ، قَالَ: " امْسِكْ سِتًّا تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ: أَوَّلُهُنَّ وَفَاةُ نَبِيِّكُمْ"، قَالَ: فَبَكَيْتُ، قَالَ هُشَيْمٌ: وَلَا أَدْرِي بِأَيِّهَا بَدَأَ، ثُمَّ" فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَفِتْنَةٌ تَدْخُلُ بَيْتَ كُلِّ شَعَرٍ وَمَدَرٍ، وَأَنْ يَفِيضَ الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطَهَا، وَمُوتَانٌ يَكُونُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، قَالَ: وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ، فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً، وَقَالَ يَعْلَى: فِي سِتِّينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے گا پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے آجائیں گے۔

23997

Musnad Ahmad #23997

Sahih

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُ سَيْفِهِ، فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا، فَسَأَلَهُ الْمَدَدِيُّ طَائِفَةً مِنْ جِلْدِهِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَاتَّخَذَهُ كَهَيْئَةِ الدَّرَقِ، وَمَضَيْنَا فَلَقِينَا جُمُوعَ الرُّومِ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ، عَلَيْهِ سَرْجٌ مُذَهَّبٌ، وَسِلَاحٌ مُذَهَّبٌ، فَجَعَلَ الرُّومِيُّ يُغْرِي بِالْمُسْلِمِينَ، وَقَعَدَ لَهُ الْمَدَدِيُّ خَلْفَ صَخْرَةٍ، فَمَرَّ بِهِ الرُّومِيُّ، فَعَرْقَبَ فَرَسَهُ، فَخَرَّ وَعَلَاهُ فَقَتَلَهُ، وَحَازَ فَرَسَهُ وَسِلَاحَهُ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ بَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَخَذَ مِنْهُ السَّلَبَ، قَالَ عَوْفٌ: فَأَتَيْتُهُ، فقلت: يا خالد، أما علمت أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ , قُلْتُ: لَتَرُدَّنَّهُ إِلَيْهِ أَوْ لَأُعَرِّفَنَّكَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، قَالَ عَوْفٌ: فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْمَدَدِيِّ وَمَا فَعَلَهُ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا خَالِدُ، " مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَكْثَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا خَالِدُ، رُدَّ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ"، قَالَ عَوْفٌ: فَقَالت: دُونَكَ يَا خَالِدُ، أَلَمْ أَفِ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا ذَاكَ؟" فَأَخْبَرْتُهُ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: يَا خَالِدُ،" لَا تَرُدَّهُ عَلَيْهِ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو إِلَيَّ أُمَرَائِي، لَكُمْ صَفْوَةُ أَمْرِهِمْ، وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ" ، قَالَ الْوَلِيدُ : سَأَلْتُ ثَوْرًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، نَحْوَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شام کی طرف ہم ایک غزوے میں شریک ہوئے ہمارے امیر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے قبیلہ حمیر کا ایک آدمی ہمارے ساتھ آکر شامل ہوگیا وہ ہمارے خیمے میں رہنے لگا اس کے پاس تلوار کے علاوہ کوئی اور چیز یا اسلحہ بھی نہ تھا اس دوران ایک مسلمان نے ایک اونٹ ذبح کیا وہ شخص مسلسل تاک میں رہا حتی کے موقع پا کر ایک ڈھال کے برابر اس کی کھال حاصل کرلی اور اسے زمین پر بچھا دیا جب وہ خشک ہوگئی تو اس کے لئے ڈھال بن گئی۔ ادھر یہ ہوا کہ دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوگیا جن میں رومی اور بنو قضاعہ کے عرب مشترکہ طور پر جمع تھے انہوں نے ہم سے بڑی سخت معرکہ آرائی کی رومیوں میں ایک آدمی ایک سرخ وسفید گھوڑے پر سوار تھا جس کی زین بھی سونے کی تھی اور پٹکا بھی مخلوط سونے کا تھا یہی حال اس کی تلوار کا تھا وہ مسلمانوں پر بڑھ چڑھ کر حملہ کر رہا تھا اور وہ حمیری آدمی مسلسل اس کی تاک میں تھا حتیٰ کہ جب وہ رومی اس کے پاس سے گذرا تو اس نے عقب سے نکل کر اس پر حملہ کردیا اور اس کے گھوڑے کی پنڈلی پر تلوار ماری جس سے وہ نیچے گرگیا پھر اس نے تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ اس رومی کو قتل کردیا۔ فتح حاصل ہونے کے بعد جب اس نے اس کا سامان لینے کا ارادہ کیا اور لوگوں نے بھی گواہی دی کہ اس رومی کو اسی نے قتل کیا ہے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور کچھ سامان کو روک لیا اس نے عوف رضی اللہ عنہ کے خیمے میں واپس آکر ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تم دوبارہ ان کے پاس جاؤ انہیں تمہارا سامان تمہیں دے دینا چاہئے چناچہ وہ دوبارہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا لیکن انہوں نے پھر انکار کردیا اس پر حضرت عوف رضی اللہ عنہ کو ملے گا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر اس کے مقتول کا سامان اس کے حوالے کرنے میں آپ کے لئے کیا رکاوٹ ہے؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اسے بہت زیادہ سمجھتا ہوں حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور دیکھ سکا تو ان سے اس کا ذکر ضرور کروں گا۔ جب وہ مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تجھے کس نے اس کو سامان دینے سے منع کیا؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے (اس سامان کو) بہت زیادہ سمجھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے سامان دے دو پھر وہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو انہوں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی چادر کھینچی اور فرمایا میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تھا وہی ہوا ہے نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خالد! اب اسے نہ دینا (اور آپ نے فرمایا) کیا تم میرے نگرانوں کو چھوڑ نہیں سکتے؟ کیونکہ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے خریدیں پھر (ان جانوروں) کے پانی پینے کا وقت دیکھ کر ان کو حوض پر لایا اور انہوں نے پانی پینا شروع کردیا تو صاف صاف پانی انہوں نے پی لیا اور تلچھٹ چھوڑ دیا تو صاف یعنی عمدہ چیزیں تمہارے لئے ہیں اور بری چیزیں نگرانوں کے لئے ہیں۔

23998

Musnad Ahmad #23998

Hasan

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي أَبَا جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ دَخَلَ، وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ وَبِيَدِهِ عَصًا، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ أَقْنَاءَ حَشَفٍ، فَطَسَّ بِالْعَصَا فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، ثُمَّ قَالَ: " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْ هَذَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں عصا تھا مسجد میں اس وقت کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشے میں گدر کھجوریں بھی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک کے عصا سے ہلایا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے زیادہ صدقہ کرسکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا قیامت کے دن گدر کھجوریں کھائے گا۔

23999

Musnad Ahmad #23999

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خِيَارُكُمْ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ، وَشِرَارُكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ"، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ:" لَا، مَا صَلَّوْا لَكُمْ الْخَمْسَ، أَلَا وَمَنْ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعَاصِي اللَّهِ، فَلْيَكْرَهْ مَا أَتَى، وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَتِهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرتے ہو گے اور وہ تم سے محبت کرتے ہوں گے تم ان کے لئے دعائیں کرتے ہو گے اور وہ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہوں گے اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم نفرت کرتے ہو گے اور وہ تم سے نفرت کرتے ہونگے تم ان پر لعنت کرتے ہوگے اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم ایسے حکمرانوں کو باہر نکال کر پھینک نہ دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پر قائم رہیں البتہ جس پر حکمران کوئی گورنر مقرر کر دے اور وہ اسے اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام کرتے ہوئے دیکھے تو اس نافرمانی پر نکیر کرے لیکن اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔