Musnad Ahmad #23853
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ آخَرَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فِي سَفَرٍ، فَعَطَسَ رَجُلٌ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، ثُمَّ سَارَ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ؟ قَالَ: مَا أَرَدْتُ أَنْ تَذْكُرَ أُمِّي؟ قَالَ: لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَهَا، كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَعَطَسَ رَجُلٌ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ:" عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ"، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلْيُقَلْ لَهُ: يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ أَوْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، شَكَّ يَحْيَى، وَلْيَقُلْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ" .
اردو ترجمہ · Urdu
ایک صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کسی سفر میں حضرت سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی کو چھینک آئی تو اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے " السلام علیکم " کہہ دیا حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھ پر اور تیری ماں پر بھی ہو کچھ دور چلنے کے بعد انہوں نے اس سے پوچھا کہ شاید تمہیں مجھ پر غصہ آیا ہو؟ اس نے کہا کہ آپ نے میری والدہ کا تذکرہ کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے علاوہ کوئی اور جملہ کہنے کی طاقت ہی نہیں تھی کیونکہ ایک مرتبہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا اور ایک آدمی کو چھینک آئی تھی، اس نے بھی " السلام علیکم " کہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے یہی جواب دیا تھا پھر فرمایا تھا کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے " الحمدللہ علی کل حال " یا " الحمدللہ رب العالمین " کہہ لینا چاہئے اور سننے والے کو " یرحمکم اللہ " کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ اللہ میرے اور تمہارے گناہ معاف فرمائے۔