Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1058

انصار صحابہ کی روایات

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایات۔

30 hadiths in this chapter

23703

Musnad Ahmad #23703

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي لَأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةِ!، قَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، " أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔

23704

Musnad Ahmad #23704

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ" ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے ہدیہ قبول فرما لیتے تھے لیکن صدقہ قبول نہیں فرماتے تھے۔

23705

Musnad Ahmad #23705

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: إِنِّي لَأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كَيْفَ تَصْنَعُونَ؟ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ! قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَجَلْ، وَلَوْ سَخِرْتَ" إِنَّهُ لَيُعَلِّمُنَا كَيْفَ يَأْتِي أَحَدُنَا الْغَائِطَ، وَإِنَّهُ يَنْهَانَا أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَحَدُنَا الْقِبْلَةَ وَأَنْ يَسْتَدْبِرَهَا، وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، وَأَنْ يَتَمَسَّحَ أَحَدُنَا بِرَجِيعٍ وَلَا عَظْمٍ، وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔

23706

Musnad Ahmad #23706

Sahih

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ حُذَيْفَةُ إِلَى سَلْمَانَ، فَيَقُولُ سَلْمَانُ : يَا حُذَيْفَةُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ، وَيَرْضَى فَيَقُولُ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً فِي غَضَبِي، أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن قرہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن شہر میں رہتے تھے اور کچھ باتیں ذکر کرتے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں ایک دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ حذیفہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات غصے میں کچھ باتیں کہتے تھے اور کچھ باتیں خوشی کی حالت میں کہتے تھے میں جانتا ہوں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں نے اپنے جس امتی کو غصے کی حالت میں سخت سست کہا ہو یا اسے لعنت ملامت کی ہو تو میں بھی اولاد آدم میں سے ہوں اور جس طرح عام لوگوں کو غصہ آتا ہے مجھے بھی آتا ہے اور اللہ نے مجھے رحمتہ للعالمین بنایا ہے اے اللہ! میرے ان کلمات کو قیامت کے دن اس شخص کے لئے باعث رحمت بنا دیجئے گا۔

23707

Musnad Ahmad #23707

Hasan

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا، فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا عُثْمَانَ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ فَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا؟" فَقُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَذَا الْوَرَقُ"، وَقَالَ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوعثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا انہوں نے اس کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر اسے ہلایا تو اس کے پتے گرنے لگے پھر انہوں نے فرمایا کہ اے ابو عثمان! تم مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا اور یہی سوال و جواب ہوئے تھے جس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی مسلمان خوب اچھی طرح وضو کرے اور پانچوں نمازیں پڑھے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑ رہے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ " واقم الصلاۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل ان الحسنات یذہبن السئیات ذلک ذکرٰی للذاکرین "

23708

Musnad Ahmad #23708

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمْ الْخِرَاءَةَ! قَالَ: أَجَلْ، إِنَّهُ يَنْهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَيَنْهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ، وَقَالَ: " لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ"

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔

23709

Musnad Ahmad #23709

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَكُمْ هَذَا كُلَّ شَيْءٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

اردو ترجمہ · Urdu

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

23710

Musnad Ahmad #23710

Sahih

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَتَطَهَّرُ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ، أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ، ثُمَّ يَرُوحُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ يُنْصِتُ لِلْإِمَامِ إِذَا تَكَلَّمَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

23711

Musnad Ahmad #23711

Hasan

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: لَمَّا احْتُضِرَ سَلْمَانُ بَكَى، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا، فَتَرَكْنَا مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ يَكُونَ بُلْغَةُ أَحَدِنَا مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ" قَالَ: ثُمَّ نَظَرْنَا فِيمَا تَرَكَ، فَإِذَا قِيمَةُ مَا تَرَكَ بِضْعَةٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا، أَوْ بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ دِرْهَمًا .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا جب وقت آخر قریب آیا تو وہ رونے لگے اور فرمانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک عہد لیا تھا اور اسی عہد پر ہمیں چھوڑا تھا کہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ سامان ہمارے پاس ایک مسافر کے توشے جتنا ہونا چاہئے راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد جب ہم نے ان کے ترکے کا جائزہ لیا تو اس تمام ترکے کی قیمت صرف بیس یا تیس سے کچھ اوپر درہم تھے۔

23712

Musnad Ahmad #23712

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَبْنَاءِ أَسَاوِرَةِ فَارِسَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ تَرْفَعُنِي أَرْضٌ، وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى، حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَاسْتَعْبَدُونِي فَبَاعُونِي حَتَّى اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ، فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا، فَقُلْتُ لَهَا: هَبِي لِي يَوْمًا، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا، فَبِعْتُهُ فَصَنَعْتُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقُلْتُ: صَدَقَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" كُلُوا"، وَلَمْ يَأْكُلْ، قُلْتُ: هَذِهِ مِنْ عَلَامَاتِهِ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ، فَقُلْتُ لِمَوْلَاتِي: هَبِي لِي يَوْمًا، قَالَتْ: نَعَمْ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا، فبِعتُه بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَنَعْتُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُهُ بِهِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قُلْتُ: هَدِيَّةٌ، فَوَضَعَ يَدَهُ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ" وَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَوَضَعَ رِدَاءَهُ فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" فَحَدَّثْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ، وَقُلْتُ: أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ: " لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ، أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ:" لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم فارس کے سرداروں کی اولاد میں سے تھے۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کرتے ہوئے (جو عنقریب ٢٤١٣٨ پر آیا چاہتی ہے) فرمایا کہ میں زمین کے نشیب و فراز طے کرتے ہوا چلتا رہا یہاں تک کہ دیہاتیوں کی ایک قوم پر میرا گذر ہوا تو انہوں نے مجھے غلام بنا کر بیچ ڈالا اور مجھے ایک عورت نے خرید لیا میں نے ان لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا لیکن اس وقت تک زندگی تلخ ہوچکی تھی میں نے اپنی مالکہ سے کہا کہ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دے اس نے مجھے چھٹی دے دی۔ میں وہاں سے روانہ ہوا کچھ لکڑیاں کاٹیں اور انہیں بیچ کر کھانا تیار کیا اور اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ صدقہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم لوگ ہی کھالو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول نہ فرمایا میں نے سوچا کہ یہ ایک علامت ہے (جو پوری ہوگئی) پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک مرتبہ دوبارہ میں نے اپنی مالکہ سے ایک دن کی چھٹی مانگی جو اس نے مجھے دے دی میں نے حسب سابق لکڑیاں کاٹ کر بیچ کر کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے میں نے وہ کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لے جا کر رکھ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا یہ ہدیہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور صحابہ رضی اللہ عنہ سے بھی فرمایا کہ کھاؤ اللہ کے نام سے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جا کر کھڑا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہٹا دی تو وہاں مہر نبوت نظر آگئی میں نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آدمی کے متعلق بتایا اور پوچھا یا رسول اللہ! کیا وہ آدمی جنت میں جائے گا کیونکہ اس نے ہی مجھے بتایا تھا کہ آپ اللہ کے نبی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں صرف وہی آدمی جائے گا جو مسلمان ہوگا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا۔

23713

Musnad Ahmad #23713

Sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ هَذَا لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعَلِّمُكُمْ الْخِرَاءَةَ! قَالَ: قُلْتُ:" لَئِنْ قُلْتُمْ ذَاكَ، لَقَدْ " نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا، أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، أَوْ يَكْتَفِيَ أَحَدُنَا بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِرَجِيعٍ أَوْ عَظْمٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔

23714

Musnad Ahmad #23714

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَسْتَحِي أَنْ يَبْسُطَ الْعَبْدُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ يَسْأَلُهُ خَيْرًا، فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات سے حیاء آتی ہے کہ اس کا کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کوئی سوال کرے اور وہ انہیں خالی لوٹا دے۔

23715

Musnad Ahmad #23715

Hasan

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ ، يُحَدِّثُ بِهَذَا، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمثلِه، قَالَ يَزِيدُ: سَمُّوهُ لِي، قَالُوا: هُوَ جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: قَالَ أَبِي: يَعْنِي: جَعْفَرَ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ.

اردو ترجمہ · Urdu

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

23716

Musnad Ahmad #23716

Hasan

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا فَنَفَضَهُ، فَتَسَاقَطَ وَرَقُهُ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا صَنَعْتُ؟ فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا، فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا فَنَفَضَهُ فَتَسَاقَطَ وَرَقُهُ، فَقَالَ:" أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا صَنَعْتُ؟" فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتَّ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا انہوں نے اس کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر اسے ہلایا تو اس کے پتے گرنے لگے پھر انہوں نے فرمایا کہ اے ابو عثمان! تم مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا اور یہی سوال جواب ہوئے تھے جس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی مسلمان خوب اچھی طرح وضو کرے اور پانچوں نمازیں پڑھے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑ رہے ہیں۔

23717

Musnad Ahmad #23717

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، فَرَأَى رَجُلًا قَدْ أَحْدَثَ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَأَمَرَهُ سَلْمَانُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ وَيَمْسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَقَالَ سَلْمَانُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابومسلم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو حدث لاحق ہوا اور وہ اپنے موزے اتارنا چاہتا ہے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ موزوں اور عمامہ پر مسح کرے اور اپنی پیشانی کے بقدر مسح کرے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے موزوں اور اوڑھنی (عمامے) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

23718

Musnad Ahmad #23718

Hasan

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟" قُلْتُ: هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ أَبَاكُمْ، قَالَ:" لَكِنِّي أَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ، لَا يَتَطَهَّرُ الرَّجُلُ فَيُحْسِنُ طُهُورَهُ، ثُمَّ يَأْتِي الْجُمُعَةَ، فَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ صَلَاتَهُ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا اجْتُنِبَتْ الْمَقْتَلَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، جب تک کہ لڑائی سے بچتا رہے۔

23719

Musnad Ahmad #23719

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قِيلَ لِسَلْمَانَ : قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةِ! قَالَ: أَجَلْ، " نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔

23720

Musnad Ahmad #23720

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يَتَرَاحَمُ بِهَا الْخَلْقُ، فَبِهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے ایک رحمت وہ ہے کہ جس کے ذریعے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور وحشی جانور تک اپنی اولاد پر ترس کھاتے ہیں اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لئے مؤخر کردی ہیں۔

23721

Musnad Ahmad #23721

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: عَرَضَ أَبِي عَلَى سَلْمَانَ أُخْتَهُ فَأَبَى، وَتَزَوَّجَ مَوْلَاةً لَهُ، يُقَالُ لَهَا: بُقَيْرَةُ، قَالَ: فَبَلَغَ أَبَا قُرَّةَ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَحُذَيْفَةَ شَيْءٌ، فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ فِي مَبْقَلَةٍ لَهُ، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِ فَلَقِيَهُ مَعَهُ زَبِيلٌ فِيهِ بَقْلٌ، قَدْ أَدْخَلَ عَصَاهُ فِي عُرْوَةِ الزَّبِيلِ، وَهُوَ عَلَى عَاتِقِهِ، قَالَ: أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ؟ قَالَ: يَقُولُ سَلْمَانُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ عَجُولا سورة الإسراء آية 11، فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا دَارَ سَلْمَانَ، فَدَخَلَ سَلْمَانُ الدَّارَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ أَذِنَ فَإِذَا نَمَطٌ مَوْضُوعٌ عَلَى بَابٍ وَعِنْدَ رَأْسِهِ لَبِنَاتٌ، وَإِذَا قُرْطَانِ، فَقَالَ: اجْلِسْ عَلَى فِرَاشِ مَوْلَاتِكَ الَّذِي تُمَهِّدُ لِنَفْسِهَا، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُهُ، قَالَ: إِنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يُحَدِّثُ بِأَشْيَاءَ يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَضَبِهِ لِأَقْوَامٍ، فَأُسْأَلُ عَنْهَا فَأَقُولُ: حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، وَأَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ ضَغَائِنُ بَيْنَ أَقْوَامٍ، فَأُتِيَ حُذَيْفَةُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ سَلْمَانَ لَا يُصَدِّقُكَ وَلَا يُكَذِّبُكَ بِمَا تَقُولُ، فَجَاءَنِي حُذَيْفَةُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ ابْنَ أُمِّ سَلْمَانَ! قُلْتُ: يَا حُذَيْفَةُ ابْنَ أُمِّ حُذَيْفَةَ، لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ، فَلَمَّا خَوَّفْتُهُ بِعُمَرَ تَرَكَنِي، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَنَا، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً أَوْ سَبَبْتُهُ سَبَّةً فِي غَيْرِ كُنْهِهِ، فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِ صَلَاةً" .

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن ابی قرہ کندی (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی بہن سے نکاح کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا اور ان کی آزاد کردہ باندی " جس کا نام بقیرہ تھا " سے نکاح کرلیا پھر ابو قرہ کو معلوم ہوا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ رنجش ہے تو وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے آئے معلوم ہوا کہ وہ اپنی سبزیوں کے پاس ہیں ابوقرہ ادھر روانہ ہوگئے راستے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی جن کے ساتھ ایک ٹوکری بھی سبزی سے بھری ہوئی تھی انہوں نے اپنی لاٹھی اس ٹوکری کی رسی میں داخل کر کے اسے اپنے کندھے پر رکھا ہوا تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابو عبداللہ! کیا آپ کے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی رنجش ہے؟ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی " انسان بڑا جلد باز ہے " اور وہ دونوں چلتے رہے حتیٰ کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچ گئے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ گھر کے اندرچلے گئے اور سلام کیا پھر ابوقرہ کو اندر آنے کی اجازت دی وہاں دروازے کے پاس ایک چادر پڑھی ہوئی تھی سرہانے کچھ اینٹیں رکھی ہوئی تھیں اور دو بالیاں پڑی ہوئی تھیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنی باندی کے بستر پر بیٹھ جاؤ جس نے اپنے آپ کو تیار کرلیا تھا انہوں نے بات کا آغاز اور فرمایا کہ حذیفہ بہت ساری ایسی چیزیں بیان کرتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں کچھ لوگوں سے کہہ دیتے تھے لوگ مجھ سے اس کے متعلق پوچھتے تو میں ان سے کہہ دیتا کہ حذیفہ ہی زیادہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں میں لوگوں کے درمیان نفرت بڑھانے کو اچھا نہیں سمجھتا لوگ حذیفہ کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ سلمان آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی تکذیب، تو ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ام سلمان کے بیٹے سلمان! میں نے بھی کہہ دیا ہے کہ اے ام حذیفہ کے بیٹھے حذیفہ! تم باز آجاؤ ورنہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھوں گا جب میں نے انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوف دلایا تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں بھی اولاد آدم میں سے ہوں سو جس بندہ مؤمن پر میں نے لعنت ملامت کی ہو یا اس کے حق میں سخت سست کہا ہو تو اے اللہ! اسے اس کے حق میں باعث رحمت بنا دے۔

23722

Musnad Ahmad #23722

Hasan

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَأَنَا مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ، فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ، أُكْرِمُكَ بِهَا فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے دور غلامی میں ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ صدقہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے اسے کھالیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہ کھایا دوبارہ میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ ہدیہ ہے جو میں آپ کے احترام میں آپ کے لئے لایا ہوں کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے بھی اسے کھایا اور ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔

23723

Musnad Ahmad #23723

See Details

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ آلِ أَبِي قُرَّةَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ مَوْلَاتِي فِي ذَلِكَ، فَطَيَّبَتْ لِي فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ، فَاشْتَرَيْتُ ذَلِكَ الطَّعَامَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سلسلے میں میں اپنی مالکن سے اجازت لیتا تھا وہ دلی خوشی کے ساتھ مجھے اجازت دے دیتی میں لکڑیاں کاٹتا انہیں بیچتا اور وہ کھانا خریدا کرتا تھا۔

23724

Musnad Ahmad #23724

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، فَرَأَى رَجُلًا قَدْ أَحْدَثَ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِعَ خُفَّيْهِ لِلْوُضُوءِ، فَأَمَرَهُ سَلْمَانُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ وَيَمْسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَقَالَ سَلْمَانُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابومسلم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو حدث لاحق ہوا اور وہ اپنے موزے اتارنا چاہتا ہے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ موزوں اور عمامہ پر مسح کرے اور اپنی پیشانی کے بقدر مسح کرے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے موزوں اور اوڑھنی (عمامے) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

23725

Musnad Ahmad #23725

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَغْتَسِلُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَتَطَهَّرُ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، ثُمَّ يَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ، أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ، ثُمَّ يَرُوحُ، فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى مَا كُتِبَ لَهُ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

23726

Musnad Ahmad #23726

Zaeef

حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: دَعُونِي أَدْعُوهُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كُنْتُ رَجُلًا مِنْكُمْ، فَهَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ فَلَكُمْ مَا لَنَا وَعَلَيْكُمْ مَا عَلَيْنَا، وَإِنْ أَنْتُمْ أَبَيْتُمْ، فَأَدُّوا الْجِزْيَةَ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ" ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ غَدَا النَّاسُ إِلَيْهَا فَفَتَحُوهَا.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ ایک شہر کے قریب پہنچے تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں ان کے سامنے اسی طرح دعوت پیش کر دوں جیسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دیتے ہوئے دیکھا ہے پھر انہوں نے اہل شہر سے فرمایا کہ میں تم ہی میں کا ایک فرد تھا اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی اگر تم بھی اسلام قبول کرلو تو تمہارے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں اگر تم اس سے انکار کرتے ہو جز یہ ادا کرو اس حال میں تم ذلیل ہوگے اگر تم اس سے بھی انکار کرتے ہو تو ہم تمہیں برابر کا جواب دیں گے بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا " تین دن تک وہ اسی طرح کرتے رہے پھر جب چوتھا دن ہوا تو وہ لوگوں کو لے کر اس شہر کی طرف بڑھے اور اسے فتح کرلیا۔

23727

Musnad Ahmad #23727

Sahih

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ، وَهُوَ مُرَابِطٌ عَلَى السَّاحِلِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَابَطَ يَوْمًا أَوْ لَيْلَةً كَانَ لَهُ كَصِيَامِ شَهْرٍ لِلْقَاعِدِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَجْرَى اللَّهُ لَهُ أَجْرَهُ وَالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ أَجْرَ صَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَنَفَقَتِهِ، وَوُقِيَ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے شرحبیل بن سمط پر محافظ مقرر تھے کے سامنے بیان کرتے ہوئے، مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دن یا ایک رات کے لئے سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے یہ ایسے ہے جیسے کوئی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھ کر ایک مہینے تک روزے رکھے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے اللہ اس کا اجر جاری رکھتا ہے اور ان اعمال کا اجر بھی جو وہ کرتا تھا مثلاً نماز، روزہ اور انفاق فی سبیل اللہ اور اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھا جائے گا اور وہ بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا۔

23728

Musnad Ahmad #23728

Sahih

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، إِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ أَجْرُ الْمُرَابِطِ حَتَّى يُبْعَثَ، وَيُؤْمَنَ الْفَتَّانَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دن یا ایک رات کے لئے سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے یہ ایسے ہے جیسے کوئی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھ کر ایک مہینے تک روزے رکھے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے اللہ اس کا اجر جاری رکھتا ہے اور ان اعمال کا اجر بھی جو وہ کرتا تھا مثلاً نماز، روزہ اور انفاق فی سبیل اللہ اور اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھا جائے گا اور وہ بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا۔

23729

Musnad Ahmad #23729

Hasan

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ قلت: الله ورسوله أعلم , ثم قال:" أتدري ما يوم الجمعة؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَا أَدْرِي زَعَمَ سَأَلَهُ الرَّابِعَةَ أَمْ لَا، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي جُمِعَ فِيهِ أَبُوهُ أَوْ أَبُوكُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ لَا يَتَطَهَّرُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ ثُمَّ يَمْشِي إِلَى، الْمَسْجِدِ ثُمَّ يُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي بَعْدَهَا مَا اجْتُنِبَتْ الْمَقْتَلَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، جب تک کہ لڑائی سے بچتار ہے۔

23730

Musnad Ahmad #23730

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَ مِائَةِ فَسِيلَةٍ، فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: " اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَهُمْ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّي" قَالَ: فَآذَنْتُهُ، قَالَ: فَجَاءَ، فَجَعَلَ يَغْرِسُ بِيَدِهِ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدَيَّ، فَعَلِقْنَ إِلَّا الْوَاحِدَةَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے آقا سے اس شرط پر مکاتبت منظور کرلی کہ میں ان کے لئے کھجور کے پانچ سو پودے لگاؤں گا جب ان پر کھجور آجائے گی تو میں آزاد ہوجاؤں گا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شرط ذکر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ شرط قبول کرلو اور جب پودے لگانے کا ارادہ ہو تو مجھے مطلع کرنا چناچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے پودے لگانے لگے سوائے ایک پودے کے جو میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا اور اس ایک پودے کے علاوہ سب پودے پھل لے آئے۔

23731

Musnad Ahmad #23731

Zaeef

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: ذَكَرَهُ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا سَلْمَانُ، " لَا تُبْغِضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ؟! قَالَ:" تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے سلمان! مجھ سے بغض نہ رکھیں اور نہ تم اپنے دین سے جدا ہوجاؤ گے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے بغض کیسے رکھ سکتا ہوں جبکہ اللہ نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت عطاء فرمائی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم عرب سے نفرت کرو گے تو مجھ سے نفرت کرنے والے ہوگے۔

23732

Musnad Ahmad #23732

Zaeef

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ، فَقَالَ: " بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے کی برکت اس سے پہلے ہاتھ دھونا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی اور تورات میں پڑھی ہوئی بات کا حوالہ دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے کی برکت اس سے پہلے ہاتھ دھونا بھی ہے اور اس کے بعد ہاتھ دھونا بھی ہے۔