Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1039

انصار صحابہ کی روایات

محمود بن لبید یا محمود بن ربیع کی احادیث، خدا ان سے راضی ہو۔

4 hadiths in this chapter

23638

Musnad Ahmad #23638

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ ، أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں وہ کلی یاد ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کی تھی اور پانی اس ڈول سے لیا تھا جو ان کے کنوئیں سے نکالا گیا تھا۔

23639

Musnad Ahmad #23639

Hasan

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: " اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَا يَعْرِفُونَهُ فَقَتَلُوهُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدِيَهُ، فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت یمان رضی اللہ عنہ پر مسلمانوں کی تلواریں پڑنے لگیں مسلمان انہیں پہچان نہ سکے اور انہیں قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر ہی صدقہ کردی۔

23640

Musnad Ahmad #23640

Hasan

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ) فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ (لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8)، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ: الْمَاءُ وَالتَّمْرُ، وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ، فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ، قَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورت تکاثر نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ کر سنایا تو جب " ثم لتسألن یومئذ عن النعیم " پر پہنچے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم سے کن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو صرف پانی اور کھجوریں ہیں ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن سامنے موجود ہے تو کون سی نعمتوں کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہو کر رہے گا۔

23641

Musnad Ahmad #23641

Sahih

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ صَبَرَ، فَلَهُ الصَّبْرُ، وَمَنْ جَزِعَ، فَلَهُ الْجَزَعُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر جو شخص صبر کرتا ہے اسے صبر ملتا ہے اور جو شخص جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع فزع ہے۔