Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1033

انصار صحابہ کی روایات

ابو حامد السعدی رضی اللہ عنہ کی احادیث

11 hadiths in this chapter

23598

Musnad Ahmad #23598

Sahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ: أَنَا أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ عَلَى صَدَقَةٍ، فَجَاءَ، فَقَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِيءُ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي! أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟! وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَةَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ" ثَلَاثًا ، وَزَادَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: سَمِعَ أُذُنِي، وَأَبْصَرَ عَيْنِي، وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ صدقات وصول کرنے کے لئے قبیلہ ازد کے ایک آدمی " جس کا نام ابن لتبیہ تھا " کو مقرر کیا وہ صدقات وصول کر کے لایا تو کہنے لگا کہ یہ آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ ان عمال کا کیا معاملہ ہے؟ ہم انہیں بھیجتے ہیں تو وہ آکر کہتے ہیں کہ یہ آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھ جاتا کہ دیکھے اب اسے کوئی ہدیہ ملتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو شخص بھی کوئی چیز لے کر آتا ہے تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ وہ چیز اس کی گر دن پر سوار ہوگی، اگر اونٹ ہوا تو اس کی آواز نکل رہی ہوگی گائے ہوئی تو وہ اپنی آواز نکال رہی ہوگی بکری ہوئی تو وہ ممنا رہی ہوگی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا؟۔

23599

Musnad Ahmad #23599

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ وَهُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ ، يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لَهُ: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا صُحْبَةً، وَلَا أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَاعَةً! قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَى بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ" فَرَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَصُبَّ رَأْسَهُ وَلَمْ يَقْنَعْهُ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" ثُمَّ رَفَعَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا، وَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ" ثُمَّ جَافَى وَفَتَحَ عَضُدَيْهِ عَنْ بَطْنِهِ، وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا، وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا، وَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ" ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ نَهَضَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا الصَّلَاةُ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا، ثُمَّ سَلَّمَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں " جن میں حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ شامل تھے " یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز آپ سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے فرمایا کہ آپ ہم سے زیادہ قدیم صحبت نہیں رکھتے اور نہ ہی ہم سے زیادہ ان کے ساتھ رہے انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے اپنے ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے جب رکوع کرنا چاہتے تو کندھوں تک ہاتھ بلند کر کے رفع الیدین کرتے تھے پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرتے اور اعتدال کے ساتھ رکوع کرتے نہ سر زیادہ جھکاتے اور نہ زیادہ اونچا رکھتے اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور سر اٹھا کر اعتدال کے ساتھ کھڑے ہوجاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ قائم ہوجاتی۔ پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں گرجاتے اپنے بازوؤں کو جدا اور کھلا رکھتے تھے پیٹ سے لگنے نہیں دیتے تھے اپنے پاؤں کی انگلیاں کشادہ رکھتے پھر بائیں پاؤں کو موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے اور اس طرح اعتدال کے ساتھ بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ قائم ہوجاتی پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرتے پھر باؤں پاؤں موڑ کر بیٹھ جاتے اور اس طرح اعتدال کے ساتھ بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ قائم ہوجاتی پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے حتیٰ کہ جب آخری رکعت آتی جس میں نماز ختم ہوجاتی ہے تو اپنے بائیں پاؤں کو پیچھے رکھ کر اپنے ایک پہلو پر سرین کے بل بیٹھ جاتے اور پھر اختتام پر سلام پھیر دیتے۔

23600

Musnad Ahmad #23600

Sahih

قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درود بھیجنے کا طریقہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی رحمتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی برکتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف و بزرگی والا ہے۔

23601

Musnad Ahmad #23601

Zaeef

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَدَايَا الْعُمَّالِ غُلُولٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عمال کے ہدایا اور تحائف خیانت ہیں۔

23602

Musnad Ahmad #23602

Sahih

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ أَبِي حُمَيْدَةَ ، الشَّكُّ مِنْ زُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ امْرَأَةً، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا إِذَا كَانَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا لِخِطْبَتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ لَا تَعْلَمُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجتا ہے تو اس عورت کو دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ نکاح کا ارادہ بھی ہو اگرچہ اس عورت کو پتہ نہ چلے۔

23603

Musnad Ahmad #23603

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ أَبِي حُمَيْدَةَ ، قَالَ: وَقَدْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ امْرَأَةً، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا إِذَا كَانَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا لِخِطْبَتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ لَا تَعْلَمُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجتا ہے تو اس عورت کو دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ نکاح کا ارادہ بھی ہو اگرچہ اس عورت کو پتہ نہ چلے۔

23604

Musnad Ahmad #23604

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ حَتَّى جِئْنَا وَادِيَ الْقُرَى، فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " اخْرُصُوا" فَخَرَصَ الْقَوْمُ، وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ:" أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، قَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى قَدِمَ تَبُوكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَبِيتُ عَلَيْكُمْ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَا يَقُومُ مِنْكُمْ فِيهَا رَجُلٌ، فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ"، قَالَ: قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَعَقَلْنَاهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ هَبَّتْ عَلَيْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ فِيهَا رَجُلٌ، فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلِكُ أَيْلَةَ، فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا وَادِيَ الْقُرَى، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ:" كَمْ حَدِيقَتُكِ؟" قَالَتْ: عَشَرَةُ أَوْسُقٍ، خَرْصُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي مُتَعَجِّلٌ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ فَلْيَفْعَلْ" . قَالَ: قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: " هِيَ هَذِهِ طَابَةُ" فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا، قَالَ:" هَذَا أُحُدٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ . " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟" قَالَ: قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے جب ہم وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت اپنے باغ میں نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس باغ کا پھل کاٹو لوگ پھل کاٹنے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پھل کاٹے جو دس وسق بنے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا اس نکلنے والے پھل شمار کرو تاآنکہ میں تمہارے پاس واپس آجاؤں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے یہاں تک کہ تبوک پہنچ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات تیز آندھی آئے گی لہٰذا تم میں سے کوئی شخص کھڑا نہ رہے اور جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کی رسی کو باندھ دے چناچہ ہم نے اپنے اونٹوں کو رسی باندھ لی اور رات ہوئی تو واقعی تیز آندھی آئی اور ایک آدمی اس میں کھڑا رہا تو اسے ہوا نے اٹھا کر جبل طی میں لے جا پھینکا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایلہ کا بادشاہ آیا اور ایک سفید خچر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک قیمتی چادر پہنائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا کہ تمہارے باغ میں کتنا پھل نکلا؟ اس نے بتایا کہ دس وسق جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاٹے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب میں جلد روانہ ہو رہا ہوں تم میں سے جو شخص جلدی جانا چاہتا ہے وہ ایسا کرلے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوگئے ہم بھی چل پڑے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا یہ طابہ ہے جب احد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا یہ احد پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں کیا میں تمہیں انصار کے بہترین خاندانوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے بہترین خاندان بنو نجار ہیں پھر بنو عبدالاشہل کا خاندان ہے پھر بنوساعدہ کا خاندان ہے پھر انصار کے ہر خاندان میں خیر ہے۔

23605

Musnad Ahmad #23605

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَخِيهِ بِغَيْرِ حَقِّهِ" ، وَذَلِكَ لِمَا حَرَّمَ اللَّهُ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ. وقَالَ عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسِهِ" ، وَذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کے لئے اپنے کسی بھائی کا مال ناحق لینا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام قرار دیا ہے۔ حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کے لئے اپنے کسی بھائی کی لاٹھی بھی اس کی دلی رضا مندی کے بغیر لیناجائز نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام قرار دیا ہے۔

23606

Musnad Ahmad #23606

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَأَبِي أُسَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَنْفِرُ مِنْهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ، فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ" ، وَشَكَّ فِيهِمَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، فَقَالَ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ أَبِي أُسَيْدٍ ، وَقَالَ:" تَرَوْنَ أَنَّكُمْ مِنْهُ قَرِيبٌ"، وَشَكَّ أَبُو سَعِيدٍ فِي أَحَدِهِمَا، فِي:" إِذَا سَمِعْتُمْ الْحَدِيثَ عَنِّي".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ اور ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمہارے دل شناسا ہوں تمہارے بال اور تمہاری کھال نرم ہوجائے اور تم اس سے قرب محسوس کرو تو میں اس بات کا تم سے زیادہ حقدار ہوں اور اگر کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل نامانوس ہوں تمہارے بال اور تمہاری کھال نرم نہ ہو اور تم اس سے دوری محسوس کرو تو میں تمہاری نسبت اس سے بہت زیادہ دور ہوں۔

23607

Musnad Ahmad #23607

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ ، وَأَبَا أُسَيْدٍ ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، فَإِذَا خَرَجَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ اور ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو یوں کہے " اللہم افتح لی ابواب رحمتک " اور جب نکلے تو یوں کہے " اللہم انی اسالک میں فضلک "

23608

Musnad Ahmad #23608

Sahih

حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وزَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ، لَيْسَ بِمُخَمَّرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ" ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: إِنَّمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ، وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ زَكَرِيَّا قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ بِاللَّيْلِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مقام نقیع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جو ڈھکا ہوا نہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ڈھانپ کیوں نہ لیا اگرچہ لکڑی سے ہی ڈھانپتے، حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ باندھنے کا اور رات کو دروازوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔