Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1027

انصار صحابہ کی روایات

ذی مخمر کی روایات جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص ہے۔

2 hadiths in this chapter

23477

Musnad Ahmad #23477

Sahih

حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَيُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُوهُمْ غَزْوًا، فَتُنْصَرُونَ، وَتَسْلَمُونَ، وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُواَ بمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبا فَيَقُولُ: غَلَب الصَّلِيب، فَيَغْضَب رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَغْدُرُ الرُّومُ وَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ" ، وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: وَتَسْلَمُونَ، وَتَغْنَمُونَ، وَتُقِيمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ذومخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤ گے جب تم " ذی تلول " نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا وہیں سے رومی اسے جواب دے گا وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے۔

23478

Musnad Ahmad #23478

Sahih

حَدَّثَنَا يُونُسُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَاحِدِ بنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي الشَّعْبيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابنَ عُمَرَ قُلْتُ: الْجَزُورُ وَالْبقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبعَةٍ؟ قَالَ: يَا شَعْبيُّ، وَلَهَا سَبعَةُ أَنْفُسٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَنَّ الْجَزُورَ وَالْبقَرَةَ عَنْ سَبعَةٍ!" , قَالَ: فَقَالَ ابنُ عُمَرَ لِرَجُلٍ: أَكَذَاكَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا شَعَرْتَ بهَذَا.

اردو ترجمہ · Urdu

امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا ایک اونٹ اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہوسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا شعبی! کیا اس کی سات جانیں ہوتی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے اور ایک اونٹ مقرر فرمایا ہے اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی سے پوچھا اے فلاں! کیا بات اسی طرح ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے اس کا پتہ نہیں چل سکا۔