Musnad Ahmad #22935
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بنُ بدْرٍ، وَالْأَقْرَعُ بنُ حَابسٍ، وَعَلْقَمَةُ بنُ عُلَاثَةَ، فَذَكَرُوا الْجُدُودَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتُمْ أَخْبرْتُكُمْ، جَدُّ بنِي عَامِرٍ جَمَلٌ أَحْمَرُ أَوْ آدَمُ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ، قَالَ وَأَحْسِبهُ قَالَ: فِي رَوْضَةٍ، وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشَّاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا"، قَالَ: فَقَالَ الْأَقْرَعُ بنُ حَابسٍ: فَأَيْنَ جَدُّ بنِي تَمِيمٍ؟ قَالَ:" لَوْ سَكَتَ" .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عیینہ بن بدر اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ جمع تھے یہ لوگ دادوں کا تذکرہ کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ خاموشی اختیار کرو تو میں تمہیں ان کی حقیقت بتاتا ہوں بنو عامر کا جد امجد تو اس سرخ یا گندمی اونٹ کی طرح ہے جو کسی باغ میں مختلف درختوں کے پتے کھا رہا ہو بنو غطفان کا جد امجد اس کھر درے ٹیلے کی طرح ہے جو لوگوں کو اپنے سے دور رکھتا ہے اس پر اقرع بن حابس نے کہا کہ بنو تمیم کا جد امجد کہاں گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! تم خاموش رہ سکتے۔