Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1003

انصار صحابہ کی روایات

ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کی روایات۔

26 hadiths in this chapter

22893

Musnad Ahmad #22893

Zaeef

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ جَمَعَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: " هَلُمَّ أُصَلِّي صَلَاةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، قَالَ: فَدَعَا بِجَفْنَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، قَالَ: فَصَلَّى الظُّهْرَ , فَقَرَأَ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا کہ آؤ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر دکھاؤں حضرت ابو مالک اشعریین میں سے تھے انہوں نے پانی کا ایک بڑا پیالہ منگوایا اور پہلے تین مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے پھر کلی کی ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ اور تین مرتبہ بازو دھوئے پھر سر اور کانوں کا مسح کیا اور پاؤں کو دھویا اور نماز ظہر پڑھائی جس میں سورت فاتحہ پڑھی اور کل ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی۔

22894

Musnad Ahmad #22894

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101، قَالَ: فَنَحْنُ نَسْأَلُهُ إِذْ قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادٌ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ لِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا تو یہ آیت نازل ہوئی "" یایھا الذین امنوا لاتسالوا عن اشیاء "" اس وقت ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہے تھے اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء لیکن ان پر قیامت کے دن اللہ سے قریب ترین نشست کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔

22895

Musnad Ahmad #22895

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ تَجِدُونَ الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أَوْ فِي الدَّارِ، فَيَقْتَطِعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا، إِذَا اقْتَطَعَهُ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظیم خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک اپنے ساتھ یکے حصے میں سے ایک گز ظلماً لے لیتا ہے ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے میں پہنایا جائے گا۔

22896

Musnad Ahmad #22896

Zaeef

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ لِقَوْمِهِ: " أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَفَّ الرِّجَالُ، ثُمَّ صَفَّ الْوِلْدَانُ خَلْفَ الرِّجَالِ، ثُمَّ صَفَّ النِّسَاءُ خَلْفَ الْوِلْدَانِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنی قوم سے فرمایا کیا میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے پہلے مردوں کی صف بنائی مردوں کے پیچھے بچوں کی صف بنائی اور بچوں کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی۔

22897

Musnad Ahmad #22897

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: كَانَ مِنَّا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ رَجُلٌ قَدْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدَ مَعَهُ الْمَشَاهِدَ الْحَسَنَةَ الْجَمِيلَةَ، قَالَ عَوْفٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ يُقَالُ لَهُ: مَالِكٌ , أَو أَبُو مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ " لَقَدْ عَلِمْتُ أَقْوَامًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا تو یہ آیت نازل ہوئی " یایھا الذین امنوا لاتسالوا عن اشیاء " اس وقت ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہے تھے اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء لیکن ان پر قیامت کے دن اللہ سے قریب ترین نشست کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔

22898

Musnad Ahmad #22898

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمِهِ: " اجْتَمِعُوا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا , قَالَ: هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟ قَالُوا: لَا , إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا , قَالَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ , فَدَعَا بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَكَبَّرَ بِهِمْ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا کہ آؤ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر دکھاؤں حضرت ابو مالک اشعریین میں سے تھے انہوں نے پانی کا ایک بڑا پیالہ منگوایا اور پہلے تین مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے پھر کلی کی ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ اور تین مرتبہ بازو دھوئے پھر سر اور کانوں کا مسح کیا اور پاؤں کو دھویا اور نماز ظہر پڑھائی جس میں سورت فاتحہ پڑھی اور کل ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی۔

22899

Musnad Ahmad #22899

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: يَا سَامِعَ الْأَشْعَرِيِّينَ لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ، وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا اے سننے والے اشعریو! تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں میں نے نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا کی مٹھاس آخرت کی تلخی ہے اور دنیا کی تلخی آخرت کی مٹھاس ہے۔

22900

Musnad Ahmad #22900

Sahih

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي حَاتِمُ بْنُ حُرَيْثٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ فِي خِلَافَةِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: اذْكُرُوا الطِّلَاءَ , فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ كَذَا، قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا" , وَالَّذِي حَدَّثَنِي أَصْدَقُ مِنِّي وَمِنْكَ، وَالَّذِي حَدَّثَنِي بِهِ أَصْدَقُ مِنْهُ وَمِنِّي , فَقَالَ: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّدَهُ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: أُفٍّ لَهُ مِنْ شَرَابِ آخِرِ الدَّهْرِ..

اردو ترجمہ · Urdu

مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ربیعہ جرشی کے ساتھ بیٹھے ضحاک بن قیس کی نیابت میں انگور کی شراب کا تذکرہ کر رہے تھے اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لے آئے ہم نے ان سے اپنی گفتگو میں شامل ہونے کو کہا چنانچہ ہم اس پر گفتگو کرتے رہے تو حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ شراب کو اس کا نام بدل کر ضرور پئیں گے۔ جس شخص نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے وہ مجھ سے اور تم سے زیادہ سچے تھے اور جس نے ان سے یہ بات بیان کی تھی وہ ان سے مجھ سے اور تم سے زیادہ سچے تھے اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے یہ حدیث حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور تین مرتبہ یہ بات دہرائی حتیٰ کہ ضحاک کہنے لگے آخر دور میں شراب پر تف ہے۔

22901

Musnad Ahmad #22901

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ , أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ لِقَوْمِهِ: فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ سَعيْدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَيُسْمِعُ مَنْ يَلِيهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا کہ آؤ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر دکھاؤں۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ پڑھی اور پیچھے والوں کو اس کی آواز سنائی۔

22902

Musnad Ahmad #22902

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، قَالَ عَفَّانُ: وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ، وَقَالَ عَفَّانُ: مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ عَلَيْكَ أَوْ لَكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفائی ایمان کا حصہ ہے الحمد للہ کہنا میزان عمل کو بھر دیتا ہے (سبحان اللہ اللہ اکبر) لا الہ الا اللہ واللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے اور ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے پھر کوئی اسے ہلاک کردیتا ہے اور کوئی اسے آزاد کردیتا ہے۔

22903

Musnad Ahmad #22903

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُتْرَكُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ، وَالنَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ، أَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اپنے حسب پر فخر کرنا دوسروں کے حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کی شلوار یا خارش والی قمیض ہوگی (جو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے تیار ہوگی)

22904

Musnad Ahmad #22904

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكٍ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ فِي أُمَّتِي أَرْبَعًا مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَيْسُوا بِتَارِكِيهِنَّ: الْفَخْرُ بِالْأَحْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ، فَإِنَّهَا تَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا دِرْعٌ مِنْ لَهَبِ النَّارِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اپنے حسب پر فخر کرنا دوسروں کے حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کی شلوار یا خارش والی قمیض ہوگی (جو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے تیار ہوگی)

22905

Musnad Ahmad #22905

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ , أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَلَانَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى وَالنَّاسُ نِيَامٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک بالا خانہ ایسا بھی ہے جس کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے یہ اللہ نے اس شخص کے لئے تیار کیا ہے جو لوگوں کو کھانا کھلائے نرمی سے بات کرے، تسلسل کے ساتھ روزے رکھے اور اس وقت نماز پڑھے جب لوگ سو رہے ہوں۔

22906

Musnad Ahmad #22906

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ جَمَعَ قَوْمَهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ , اجْتَمِعُوا وَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، أُعَلِّمْكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي صَلَّى لَنَا بِالْمَدِينَةِ فَاجْتَمَعُوا وَجَمَعُوا نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ، فَتَوَضَّأَ وَأَرَاهُمْ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ، فَأَحْصَى الْوُضُوءَ إِلَى أَمَاكِنِهِ حَتَّى لَمَّا أَنْ فَاءَ الْفَيْءُ، وَانْكَسَرَ الظِّلُّ، قَامَ فَأَذَّنَ، فَصَفَّ الرِّجَالَ فِي أَدْنَى الصَّفِّ، وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَهُمْ، وَصَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ، فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَكَبَّرَ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ يُسِرُّهُمَا، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ , ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" , وَاسْتَوَى قَائِمًا، ثُمَّ كَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَانْتَهَضَ قَائِمًا، فَكَانَ تَكْبِيرُهُ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ سِتَّ تَكْبِيرَاتٍ، وَكَبَّرَ حِينَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى قَوْمِهِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ احْفَظُوا تَكْبِيرِي، وَتَعَلَّمُوا رُكُوعِي وَسُجُودِي، فَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا كَذَي السَّاعَةِ مِنَ النَّهَارِ" ز ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ! انْعَتْهُمْ لَنَا يَعْنِي: صِفْهُمْ لَنَا، فَسُرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ، لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافَوْا، يَضَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا وَثِيَابَهُمْ نُورًا، يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ، وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنی قوم کو جمع کر کے فرمایا اے گروہ اشعریین! خود بھی ایک جگہ جمع ہوجاؤ اور اپنے بیوی بچوں کو بھی جمع کرلو تاکہ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز سکھادوں " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینہ میں پڑھائی تھی چنانچہ وہ سب جمع ہوگئے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی جمع کرلیا " پھر انہوں نے لوگوں کو وضو کر کے دکھایا اور ہر عضو پر خوب احتیاط سے وضو کر کے تمام اعضاء کا احاطہ کیا اور جب سایہ لوٹنا شروع ہوا تو انہوں نے کھڑے ہو کر اذان دی پھر سب سے پہلے مردوں کی صفیں بنائیں ان کے پیچھے بچوں کی اور ان کے پیچھے عورتوں کی پھر اقامت کہلوائی اور آگے بڑھ کر نماز شروع کردی۔ سب سے پہلے دونوں ہاتھ بلند کئے اور تکبیر کہی پھر سری طور پر سورت فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھی اور تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے تین مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہا پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا پھر تکبیر کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے اس طرح پہلی رکعت میں چھ تکبیریں ہوئیں اور دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے ہوئے بھی تکبیر کہی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میری تکبیرات کو یاد رکھو اور میرا رکوع و سجود سیکھ لو کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی نماز ہے جو اس وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پڑھاتے تھے ایک دن اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر اپنا رخ زیب لوگوں کی طرف کیا اور فرمایا لوگو! سنو سمجھو اور یقین رکھو کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو نبی یا شہید تو نہ ہوں گے لیکن قرب الہٰی اور نشست کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے اس پر سب سے آخر میں بیٹھے ہوئے ایک دیہاتی نے گھٹنوں کے بل جھک کر عرض کیا یا رسول اللہ! ان لوگوں کے اوصاف ہم سے بیان فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دیہاتی کا یہ سوال سن کر خوش ہوئے اور فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا نسب نامہ لوگوں میں معروف ہوگا اور نہ ہی قبیلہ بلکہ اجنبی قبائل سے تعلق رکھتے ہوں گے اور ان کے درمیان کوئی قریبی رشتہ داری نہ ہوگی وہ اللہ کی وجہ سے کسی سے محبت کرتے اور صف بندی کرتے ہوں گے قیامت کے دن اللہ ان کے لئے نور کے منبر رکھے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا ان کے چہرے نورانی کر دے گا اور ان کے کپڑے نور کے ہوں گے قیامت کے دن تمام لوگ خوفزدہ ہوں گے لیکن وہ خوفزدہ نہ ہوں گے یہ وہی اولیاء اللہ ہوں گے جن پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

22907

Musnad Ahmad #22907

See Details

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ عُبَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَهُ دَعَا لَهُ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى عُبَيْدٍ أَبِي مَالِكٍ، وَاجْعَلْهُ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں یہ دعاء فرمائی ہے اے اللہ! عبید ابو مالک پر اپنی رحمت نازل فرما اور اسے بہت سے لوگوں کے اوپر فوقیت عطا فرما۔

22908

Musnad Ahmad #22908

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " الطُّهْرُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفائی ایمان کا حصہ ہے الحمد للہ کہنا میزان عمل کو بھر دیتا ہے (سبحان اللہ، اللہ اکبر) لا الہ الا اللہ واللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے اور ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے پھر کوئی اسے ہلاک کردیتا ہے اور کوئی اسے آزاد کردیتا ہے۔

22909

Musnad Ahmad #22909

Sahih

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ" , فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّدَقَةُ نُورٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22910

Musnad Ahmad #22910

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرَاهُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ آمُرُكُمْ بِالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالْجَمَاعَةِ، وَالْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ رَأْسِهِ، وَمَنْ دَعَا دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ جُثَاءُ جَهَنَّمَ" , قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، وَلَكِنْ تَسَمَّوْا بِاسْمِ اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمْ عِبَادَ اللَّهِ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں بات سننے اور اطاعت کرنے جماعت مسلمین سے وابستہ رہنے ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کا پھر جو شخص جماعت مسلمین سے ایک بالشت کے برابر بھی نکلتا ہے تو وہ اپنے سر میں سے اسلام کی رسی نکال دیتا ہے اور جو شخص زمانہ جاہلیت کی پکار لگائے وہ جہنم کا خس و خاشاک ہے ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! اگرچہ وہ نماز پڑھتا اور روزہ رکھتا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ روزہ رکھتا اور نماز پڑھتا ہو البتہ اے بندگان خدا! تم ان لوگوں کو ان ناموں سے پکارا کرو جو اللہ نے رکھا ہے یعنی مسلمان اور مؤمن۔

22911

Musnad Ahmad #22911

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , وَلَيْثٌ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ، وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلُهُنَّ، لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ، وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ، وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاروں رکعتوں میں قرأت اور قیام برابر کرتے تھے اور پہلی رکعت کو نستباً لمبا کردیتے تھے تاکہ لوگ اس میں شریک ہوجائیں اور صف بندی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو لڑکوں سے آگے رکھتے بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے رکھتے تھے اور جب سجدے میں جاتے یا اس سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں کے درمیان کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے تھے۔

22912

Musnad Ahmad #22912

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ"، وَقَالَ" النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اپنے حسب پر فخر کرنا دوسروں کے حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کی شلوار یا خارش والی قمیض ہوگی (جو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے تیار ہوگی)

22913

Musnad Ahmad #22913

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمِهِ: " قُومُوا صَلُّوا حَتَّى أُصَلِّيَ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاؤں چنانچہ لوگوں نے ان کے پیچھے صف بندی کی انہوں نے تکبیر کہہ کر رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر (سجدے میں گئے) اور ساری نماز میں اس طرح کیا۔

22914

Musnad Ahmad #22914

Hasan

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذِرَاعٌ مِنْ أَرْضٍ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ أَوْ بَيْنَ الشَّرِيكَيْنِ لِلدَّارِ، فَيَقْتَسِمَانِ فَيَسْرِقُ أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا مِنْ أَرْضٍ فَيُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظیم خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک گز ظلماً لے لیتا ہے ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے میں پہنایا جائے گا۔

22915

Musnad Ahmad #22915

Hasan

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ: الْأَشْعَرِيُّ وَقَالَ:" إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ"..

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22916

Musnad Ahmad #22916

Hasan

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، عَنْ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: الْأَشْجَعِيُّ، أَوْ قَالَ: الْأَشْعَرِيُّ..

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22917

Musnad Ahmad #22917

Hasan

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْأَشْجَعِيُّ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22918

Musnad Ahmad #22918

Zaeef

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ الْأَشْجَعِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔