Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 12 · Chapter 879

بصرہ کی روایات

حضرت مخفف کی حدیث۔

2 hadiths in this chapter

20730

Musnad Ahmad #20730

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ:" هَلْ تَعْرِفُونَهَا؟" قَالَ: فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ أَنْ يَذْبَحُوا شَاةً فِي كُلِّ رَجَبٍ، وَكُلِّ أَضْحَى شَاةً" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ مجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا؟ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔

20731

Musnad Ahmad #20731

Hasan

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٌٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو رَمْلَةَ ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ رَوْحٌ: الْغَامِدِيُّ قَالَ: وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً، أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اے لوگو ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے راوی نے پوچھا کہ جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔