Musnad Ahmad #20699
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، يُقَالُ لَهُ: سُلَيْمٌ ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَأْتِينَا بَعْدَمَا نَنَامُ، وَنَكُونُ فِي أَعْمَالِنَا بِالنَّهَارِ، فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَنَخْرُجُ إِلَيْه، فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ، لَا تَكُنْ فَتَّانًا، إِمَّا أَنْ تُصَلِّيَ مَعِي، وَإِمَّا أَنْ تُخَفِّفَ عَلَى قَوْمِكَ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا سُلَيْمُ، مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟" قَالَ: إِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ الْنَّارِ، وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ، وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَلْ تَصِيرُ دَنْدَنَتِي وَدَنْدَنَةُ مُعَاذٍ إِلَّا أَنْ نَسْأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَنَعُوذَ بِهِ مِنَ الْنَّارِ"، ثُمَّ قَالَ سُلَيْمٌ: سَتَرَوْنَ غَدًا إِذَا الْتَقَى الْقَوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: وَالنَّاسُ يَتَجَهَّزُونَ إِلَى أُحُدٍ، فَخَرَجَ وَكَانَ فِي الشُّهَدَاءِ .
اردو ترجمہ · Urdu
بنوسلمہ کے سلیم نامی ایک صحابی کا کہنا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ حضرت معاذ بن جبل ہمارے یہاں اس وقت آتے ہیں جب ہم سوچکے ہوتے ہیں دن میں ہم اپنے کام کاج میں مصروف رہتے ہیں وہ نماز کے لئے بلاتے ہیں جب ہم آجاتے ہیں تو وہ لمبی نماز پڑھاتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا اے معاذ بن جبل تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے نہ بنو یا تو میرے ساتھ نماز پڑھا کرو یا پھر اپنی نماز کو ہلکی نماز پڑھایا کرو۔ پھر مجھ سے فرمایا سلیم! تمہیں کتنا قرآن یاد ہے میں نے عرض کیا کہ میں اللہ سے جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگتا ہوں بخدا! میں آپ کی طرح یا معاذ کی طرح نہیں پڑھ سکتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میری اور معاذ کی طرح کیوں نہیں ہوسکتے؟ ہم بھی تو اللہ سے جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں پھر سلیم نے کہا کہ ان شاء اللہ کل جب دشمن سے سامنا ہوگا تو آپ دیکھئے گا اس وقت لوگ غزوہ احد کی تیاریوں میں مشغول تھے وہ بھی غزوہ احد میں شریک ہوا اور شہید ہوگیا۔