Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 12 · Chapter 873

بصرہ کی روایات

ایک خثمی صحابی کی حدیث

1 hadith in this chapter

20696

Musnad Ahmad #20696

Zaeef

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، يُقَالُ لَهُ: عَمَّارٌ ، قَالَ: أَدْرَبْنَا عَامًا، ثُمَّ قَفَلْنَا، وَفِينَا شَيْخٌ مِنْ خَثْعَمٍ، فَذُكِرَ الْحَجَّاجُ، فَوَقَعَ فِيهِ، وَشَتَمَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: لِمَ تَسُبُّهُ وَهُوَ يُقَاتِلُ أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي طَاعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ هُوَ الَّذِي أَكْفَرَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَمْسُ فِتَنٍ، فَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعٌ وَبَقِيَتْ وَاحِدَةٌ، وَهِيَ الصَّيْلَمُ، وَهِيَ فِيكُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ حَجَرًا فَكُنْهُ، وَلَا تَكُنْ مَعَ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ، أَلَا فَاتَّخِذْ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ" ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ:" وَلَا تَكُنْ"، وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ حَمَّادٌ قَبْلَ ذَا، قُلْتُ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، أَفَلَا كُنْتَ أَعْلَمْتَنِي أَنَّكَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُسَائِلَكَ.

اردو ترجمہ · Urdu

اہل شام کا ایک آدمی جس کا نام عمار تھا اس کا کہنا ہے کہ ایک سال ہم دشمن کے ملک میں داخل ہوگئے پھر وہاں سے لوٹ آئے ہم میں قبیلہ خثعم کے ایک بزرگ بھی تھے انہوں نے حجاج کا تذکرہ کیا تو اسے خوب برا بھلا کہا میں نے ان سے کہا کہ آپ اسے کیوں برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ تو امیرالمؤمنین کی اطاعت میں اہل عراق سے قتال کررہا ہے انہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں کو کفر میں مبتلا کرنے والا وہی تو ہے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں پانچ فتنے ہونگے جن میں سے چار گزر گئے ہیں ایک رہ گیا ہے اور وہ ہے جڑ سے مٹا دینے والی جنگ اور اے اہل شام وہ تم میں ہے اگر تم اس زمانے کو پاؤ اور تمہارے اندر یہ طاقت ہو کہ پتھر بن جاؤ تو بن جاؤ اور فریقین میں سے کسی کے ساتھ بھی نہ ہونا اور زمین میں اپنا نفقہ تلاش کرنا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی ہی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے اگر آپ نے مجھے پہلے بتایا ہوتا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے تو میں آپ سے کچھ پوچھ ہی لیتا۔