Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 12 · Chapter 868

بصرہ کی روایات

حضرت عمر وبن سلمہ کی حدیثیں۔

3 hadiths in this chapter

20685

Musnad Ahmad #20685

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ، جَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ عَلَيْنَا، قَدْ جَاءُوا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَقْرَأُ وَأَنَا غُلَامٌ، فَجَاءَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا"، فَنَظَرُوا، فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: غَطُّوا اسْتَ قَارِئِكُمْ، قَالَ: فَاشْتَرَوْا لَهُ بُرْدَةً، قَالَ: فَمَا فَرِحْتُ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِي بِذَلِكَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے وہ واپسی پر ہمارے پاس سے گزرتے تھے میرے والد صاحب بھی اپنی قوم کے اسلام کا پیغام لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تھے وہ واپس آنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امامت کے لئے اس شخص کو آگے کرنا جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو لوگوں نے غور کیا تو انہیں مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا کوئی نہ مل سکا چنانچہ انہوں نے نوعمر ہونے کے باوجود مجھ کو ہی آگے کردیا اور میں انہیں نماز پڑھانے لگا میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی میں جب رکوع یا سجدے میں جاتا تو وہ چھوٹی پڑجاتی اور میرا ستر کھل جاتا یہ دیکھ کر ایک بوڑھی خاتون لوگوں سے کہنے لگی کہ اپنے امام صاحب کا ستر تو چھپاؤ چنانچہ لوگوں نے میرے لئے ایک قمیض تیار کردی جسے پاکر مجھے بہت خوشی ہوئی۔

20686

Musnad Ahmad #20686

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ الْحَدَّادُّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ أَبُو الْحَارِثِ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ الْجَرْمِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَاهُ وَنَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ أَمْرُهُ، وَتَعَلَّمَ النَّاسُ الْقُرْآنَ، فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ مَنْ يُصَلِّي لَنَا أَوْ يُصَلِّي بِنَا؟ فَقَالَ: " يُصَلِّي لَكُمْ أَوْ بِكُمْ أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ"، فَقَدِمُوا عَلَى قَوْمِهِمْ، فَسَأَلُوا فِي الْحَيِّ، فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا جَمَعَ أَكْثَرَ مِمَّا جَمَعْتُ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ وَأَنَا غُلَامٌ عَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي، قَالَ: فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمرو بن سلمہ سے مروی ہے کہ ان کے قبیلے کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب ان کا واپسی کا ارادہ ہوا تو وہ کہنے لگے یارسول اللہ ہماری امامت کون کرائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے قرآن جسے سب سے زیادہ آتاہو اس وقت قرآن کسی کو اتنا یاد نہ تھا جتنا مجھے یاد تھا چنانچہ انہوں نے مجھے نوعمر ہونے کے باوجود آگے کردیا میں جس وقت ان کی امامت کرتا تھا تو میرے اوپر ایک چادرہوتی تھی اور اس کے بعد میں قبیلہ جرم کے جس مجمعے میں موجودرہا ان کی امامت میں نے ہی کی اور اب تک میں ان کو ہی نماز پڑھا رہا ہوں۔

20687

Musnad Ahmad #20687

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ ، قَالَ: كَانُوا يَأْتُونَا الرُّكْبَانُ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَسْتَقْرِئُهُمْ، فَيُحَدِّثُونَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمارے پاس کچھ سوار آتے تھے ہم ان سے قرآن پڑھتے تھے وہ ہم سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو قرآن زیادہ جانتا ہو اسے تمہاری امامت کرنی چاہئے۔