Musnad Ahmad #20685
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ، جَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ عَلَيْنَا، قَدْ جَاءُوا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَقْرَأُ وَأَنَا غُلَامٌ، فَجَاءَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا"، فَنَظَرُوا، فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: غَطُّوا اسْتَ قَارِئِكُمْ، قَالَ: فَاشْتَرَوْا لَهُ بُرْدَةً، قَالَ: فَمَا فَرِحْتُ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِي بِذَلِكَ .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے وہ واپسی پر ہمارے پاس سے گزرتے تھے میرے والد صاحب بھی اپنی قوم کے اسلام کا پیغام لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تھے وہ واپس آنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امامت کے لئے اس شخص کو آگے کرنا جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو لوگوں نے غور کیا تو انہیں مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا کوئی نہ مل سکا چنانچہ انہوں نے نوعمر ہونے کے باوجود مجھ کو ہی آگے کردیا اور میں انہیں نماز پڑھانے لگا میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی میں جب رکوع یا سجدے میں جاتا تو وہ چھوٹی پڑجاتی اور میرا ستر کھل جاتا یہ دیکھ کر ایک بوڑھی خاتون لوگوں سے کہنے لگی کہ اپنے امام صاحب کا ستر تو چھپاؤ چنانچہ لوگوں نے میرے لئے ایک قمیض تیار کردی جسے پاکر مجھے بہت خوشی ہوئی۔